• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران -امریکہ مذاکرات کا دوسرا دو ربھی اختتام کوپہنچا

Updated: February 18, 2026, 9:46 AM IST | Agency | Geneva

جوہری پروگرام کے اہم اصولوں پر بات چیت،معاہدہ ابھی طے نہیں، مذاکرات دوبارہ ہونگے ، اگلے مرحلے کی ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں:عباس عراقچی۔

Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi speaks at a press conference.Photo:INN
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
 ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور اختتام کو پہنچ گیا ہے۔تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد دونوں وفود جنیوا میں عمانی قونصل خانے سے مذاکرات کے مقام سے نکل گئے۔انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں فریق نے عمانی ثالثوں کے ذریعے جوہری، قانونی اور اقتصادی امور کے ماہرین کی شرکت کے ساتھ جوہری مسائل پر دستاویزات کا تبادلہ کیا۔بات چیت کا یہ دور جو جنیوا کے وقت کے مطابق صبح ۱۰؍ بجےشروع ہوا، بنیادی طور پر مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں پر مرکوز تھا۔ایرانی وفد کی قیادت ایف ایم عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکی وفد کی سربراہی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے کی۔دونوں وفود نے ثالثوں کے ذریعے نوٹس کا تبادلہ کرنے سے پہلے عمانی قونصل خانے میں عمانی وزیر خارجہ بدر البوسیدی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
اس موقع پرپریس کانفرنس کے دوران ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ سے جوہری پروگرام پر اہم اصولوں پر سمجھوتہ ہو گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جلد معاہدہ طے پائے گا۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات سازگار ماحول میں ہوئے اور جوہری پروگرام پرمعاہدے کی طرف راہ شروع ہوگئی ہے مگرمذاکرات میں پیشرفت کا مطلب یہ نہیں کہ جلد معاہدہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان اب بھی تصفیہ طلب مسائل ہیں امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا محور صرف جوہری مسائل تھے، امریکہ سے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے اور اگلے مرحلے کیلئے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور نہ ہی حاصل کرنا چاہتا ہے، جس کی ایران کے قومی سلامتی کے نظریے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
 
 
عراقچی نے یہ بھی بتایا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ تمام ریاستی فریقوں کے پرامن مقاصد کے لیےیورینیم افزودگی سمیت تحقیق، پیداوار اور جوہری توانائی کے استعمال کے ناقابل تنسیخ حق کو واضح طور پر تسلیم کرتا ہے۔ مذاکرات سے قبل امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر جون ۲۰۲۵ء میں ہوئے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا میں ہورہے مذاکرات میں ایران سے سمجھداری کی امید ہے۔  ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان منگل کو جنیوا میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہیں گے۔انہوں نے فردو، اصفہان اور نطنز پر ہوئے امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران سے بات چیت کے دوران منطقی رویہ اپنانے کی اپیل کی۔ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہوں گا۔اور یہ بہت اہم ہوں گے۔ مجھے امید ہے کہ وہ (ایران) زیادہ منطقی ہوں گے۔معاہدے کے امکانات پر  ٹرمپ نے کہا کہ ایران روایتی طور پر سخت موقف اپناتا رہا ہے، لیکن گزشتہ برس امریکی حملوں سے اس نے سبق سیکھا ہے اور اب مذاکرات کے لیے زیادہ مائل ہے۔
 
 
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ معاہدہ نہ کرنے کے نتائج چاہتے ہیں۔ یہ بہت اہم ہوگا۔ ایران ایک مشکل مذاکرات کار ہے، بلکہ میں کہوں گا کہ وہ برے مذاکرات کار ہیں۔ ہم معاہدہ کر سکتے تھے، بی۔۲؍ بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ مغربی ایشیا میں امن ہے، کیونکہ ہم نے ان کی جوہری تنصیبات پر بی۔۲؍ بمبار سے حملے کیے۔ اگر ہم حملے نہ کرتے تو وہ ایک ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتے۔ اگر ایسا ہوتا، تو معاہدہ ہی مختلف ہوتا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK