ایران جنگ پر عالمی سطح پر سیاسی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔ چین نے امریکی مؤقف کو مسترد کیا جبکہ ایران اور دیگر ممالک کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ اس دوران توانائی، سفارتی تحفظ اور عالمی پالیسی سے متعلق بیانات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 02, 2026, 9:02 PM IST | Beijing
ایران جنگ پر عالمی سطح پر سیاسی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔ چین نے امریکی مؤقف کو مسترد کیا جبکہ ایران اور دیگر ممالک کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ اس دوران توانائی، سفارتی تحفظ اور عالمی پالیسی سے متعلق بیانات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
(۱) سابق ایرانی صدر کا مطالبہ، جنگ کے دوران فوری اصلاحات کی ضرورت
ایران کے سابق صدر نے کہا ہے کہ جاری جنگ کے دوران ملک کے تحفظ کیلئے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ داخلی نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی دباؤ کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک کو موجودہ حالات میں فوری اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق سابق صدر نے اقتصادی، سیاسی اور انتظامی اصلاحات پر زور دیا اور کہا کہ جنگی صورتحال میں داخلی استحکام انتہائی اہم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایران کا میزائل حملہ، بغداد میں امریکی انتباہ
(۲) ایران کی یقین دہانی، ہندوستانی شہری محفوظ قرار
ایران نے کہا ہے کہ اس کے زیر اثر علاقوں میں موجود ہندوستانی شہری محفوظ ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہندوستانی دوست محفوظ ہیں اور ان کے تحفظ کیلئے اقدامات جاری ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق ایران نے بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی حفاظت اس کی ترجیح ہے۔
(۳) ٹرمپ کا پیغام، امریکہ کو ایرانی تیل کی ضرورت نہیں
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایرانی تیل کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنی توانائی ضروریات خود پوری کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ایرانی تیل کی ضرورت نہیں، ہمارے پاس کافی وسائل موجود ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق یہ بیان توانائی پالیسی اور عالمی مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پولینڈ کی امریکہ پر شدید تنقید ، ایران جنگ پر اتحادی تقسیم
(۴) چین کا ردعمل، فوجی حل کو مسترد کر دیا
چین نے ایران جنگ کے حوالے سے امریکی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے فوجی حل کو مسترد کر دیا ہے۔ چینی حکام نے کہا کہ ’’فوجی ذرائع سے مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے سفارتی راستے اختیار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے بات چیت ضروری ہے۔