Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی خواتین فٹ بالرز نے شدید دباؤ اور آسٹریلیا میں پناہ کی کہانی سنا دی

Updated: April 03, 2026, 8:02 PM IST | Tehran

ایرانی قومی ویمن فٹ بال ٹیم کی دو تجربہ کار کھلاڑیوں، مونا حمودی اور زہرہ سربالی نے آسٹریلیا میں کھیلے گئے ویمنز ایشین کپ ۲۰۲۶ء کے دوران پیش آنے والے ان واقعات سے پردہ اٹھایا ہے جنہوں نے ان کی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

Iranian Football Team.Photo:INN
ایرانی فٹبال ٹیم کی کھلاڑی۔ تصویر:آئی این این

ایرانی قومی ویمن فٹ بال ٹیم کی دو تجربہ کار کھلاڑیوں، مونا حمودی اور زہرہ سربالی نے آسٹریلیا میں کھیلے گئے ویمنز ایشین کپ ۲۰۲۶ء کے دوران پیش آنے والے ان واقعات سے پردہ اٹھایا ہے جنہوں نے ان کی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ٹورنامنٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ان کے صبر، مہارت اور دباؤ میں فیصلے کرنے کی صلاحیت کا کڑا امتحان ثابت ہوا۔
۲؍ مارچ ۲۰۲۶ءکو جنوبی کوریا کے خلاف میچ سے قبل جب ایرانی ٹیم نے اپنا قومی ترانہ نہیں پڑھا، تو اسے ایران میں جاری سیاسی کشیدگی اور حکومت کے خلاف احتجاج سمجھا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان خواتین کو ’’غدار‘‘ اور ’’بے غیرتی کی انتہا‘‘قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کھلاڑیوں نے اگلے میچوں میں ترانہ تو پڑھا، لیکن ان پر حکومتی اہلکاروں کی کڑی نگرانی کی خبروں نے ٹیم میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد مونا حمودی سمیت ۵؍ کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ کی درخواست دی، جسے منظور بھی کر لیا گیا تاہم، چند ہی دنوں بعد ان میں سے اکثر نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور ایران واپس جانے کا انتخاب کیا۔ مونا حمودی نے کہا میرے سامنے ایک بڑا سوال تھا،کیا میں گھر واپس جاؤں یا پناہ لے لوں؟ اس کشمکش نے مجھے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ ہر فیصلے کے نتائج میرے خاندان، میری زندگی اور میرے کھیل کے مستقبل پر پڑنے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا کی خواتین ٹیم نے ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کو کلین سویپ کیا


زہرہ سربالی کے مطابق انہیں آسٹریلیا میں مقیم ایرانی کمیونٹی، میڈیا اور سوشل میڈیا کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا تھا، جس کی وجہ سے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑ رہا تھا۔۱۹؍ مارچ کو جب یہ ٹیم تہران پہنچی تو ولی عصر اسکوائر پر ہزاروں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ شہر میں بڑے بڑے بل بورڈز لگائے گئے جن پر لکھا تھا’’میرا انتخاب، میرا وطن۔‘‘ اگرچہ بظاہر ان کے خلاف اب تک کوئی تادیبی کارروائی نہیں ہوئی، لیکن ماہرین اور سابق کوچز کا ماننا ہے کہ اس واقعے کا نفسیاتی بوجھ ان کے کیریئر پر ہمیشہ رہے گا۔

یہ بھی پڑھئے:پرینیتی چوپڑہ نے راگھو چڈھا کی حمایت کی


مشہور ایرانی صحافی عادل فردوسی پور کا کہنا ہے کہ ایرانی خواتین فٹ بال پر اس سے پہلے کبھی اتنا میڈیا پریشر نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کھلاڑیوں کو سزا دی گئی تو مستقبل میں کوئی بھی کھلاڑی ایران کی نمائندگی کرنے سے کترائے گا۔ مونا حمودی اور زہرہ سربالی اب دوبارہ ٹریننگ کا حصہ ہیں، لیکن ان کے دلوں میں اب بھی یہ خوف برقرار ہے کہ ان کے مستقبل کے کسی بھی عمل کی غلط تشریح کی جا سکتی ہے۔ ان کے لیے یہ سفر محض ایک فٹ بال ٹورنامنٹ نہیں بلکہ اپنی بقا کی جنگ بن گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK