فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ لبنان، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 3:05 PM IST | Paris
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ لبنان، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ لبنان، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔ میکرون نے فرانس ۲؍ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کر کے درست کہا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کی سیکوریٹی ہمسایہ علاقوں پر قبضہ کرنے کے ذریعے یقینی نہیں بن سکتی۔
یہ بھی پڑھئے:چوٹ کے باعث نیمار ہیٹی کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے: سی بی ایف
انہوں نے کہا کہ وہ حکمتِ عملی جو (نیتن یاہو) غزہ، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں جاری رکھے ہوئے ہیں، طویل مدتی طور پر اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ خطے کے تمام طبقوں میں نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔ میکرون نے ایران کے ساتھ حالیہ امن معاہدے کی لبنان کے لیے اہمیت کو بھی دوبارہ واضح کیا۔
یہ بھی پڑھئے:مجھے کہا جاتا تھا اسے کچھ کھلاؤ: مادھوری دکشت نے’ باڈی شیمنگ‘ پر اپنا قصہ سنایا
انہوں نے کہاکہ ہم بہت جلد بین الاقوامی برادری کو متحرک کریں گے تاکہ لبنانی فوج کو اپنے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملے۔ میکرون نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ معاہدے کے باوجود ایران کے معاملے میں جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم تعاون اور گفت و شنید کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے مقابلے میں معاہدہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے، خاص طور پر جب کشیدگی میں عروج آنے کا خطرہ ہو، اور اس معاملے میں یہی بات درست تھی۔ ہم بمباری کے ذریعے کسی نظام میں تبدیلی حاصل نہیں لا سکتے۔