جنوبی افریقہ کو ہراکر ٹی۔۲۰؍ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے والی نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے ٹیم کی آل راؤنڈ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 12:23 PM IST | Kolkata
جنوبی افریقہ کو ہراکر ٹی۔۲۰؍ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے والی نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے ٹیم کی آل راؤنڈ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ایڈن گارڈنس کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے ٹی ۔۲۰؍ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو۹؍ وکٹوں سے شرمناک شکست دے کر فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا ہے۔ اس شاندار فتح کے بعد نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنرنے ٹیم کی کارکردگی کو انتہائی اطمینان بخش قرار دیا ۔فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مچل سینٹنرنے کہا’’اس میچ میں جیت حاصل کرنا واقعی خوش آئند ہے۔ جب آپ دیکھتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کتنی مضبوط ٹیم ہے، تو اتنے اہم مقابلے میں ایسی کارکردگی دکھانا بہت سکون دیتی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کو سپر ۔۸؍ کے اپنے آخری میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں ۴؍ وکٹوں سے شکست ہوئی تھی، تاہم نیٹ رن ریٹ میں پاکستان سے بہتر ہونے کی وجہ سے کیوی ٹیم سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔ گزشتہ شکست سے سیکھنے کے حوالے سے سینٹنر نے کہا ’’میرا خیال ہے کہ جب بھی آپ میدان میں ہارتے ہیں، تو اس سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ آج ہمارا فوکس مسلسل دباؤ برقرار رکھنے پر تھا، اور جب آپ وقفے وقفے سے وکٹیں لیتے ہیں تو حریف کے لئے بلے بازی مشکل ہو جاتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سری لنکا کی ناکامی کی وجہ منفی ماحول اور ناقص فٹنیس ہے
نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے پاور پلے میں گیند کول میک کونچی (۹؍رن پر ۲؍وکٹ) کے حوالے کی، جنہوں نے اپنے پہلے ہی اوور کی چوتھی اور پانچویں گیند پر وکٹیں حاصل کر کے جنوبی افریقہ کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔ سینٹنر نے بتایا ’’ابتدائی ۲؍ اوور کیلئے ہماری ایک خاص منصوبہ بندی تھی، جس کے بعد گیند بازوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی۔ جب ڈیوالڈ بریوس بلے بازی کے لئے آئے تو ہمیں معلوم تھا کہ وہ اسپن کھیلنا پسند کرتے ہیں، اس لئے ہم نے گیند کو ان سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔‘‘
جنوبی افریقہ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں ۸؍وکٹوں کے نقصان پر ۱۶۹؍رن بنائے تھے۔جواب میں نیوزی لینڈ کے افتتاحی بلے باز ٹم سیفرٹ اور فن ایلن نے پہلی وکٹ کیلئے۱۱۷؍ رنوں کی ریکارڈ ساز شراکت داری قائم کر کے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔فن ایلن کی تعریف کرتے ہوئے کپتان نے کہا’’یہ شراکت داری دیکھنا کمال کا تجربہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ۱۷۰؍ رنوں کا ہدف ہمارے لئے مناسب تھا لیکن ٹی ۔۲۰؍میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پاور پلے میں وکٹیں گر جاتیں تو چیلنج بڑھ جاتالیکن ان دونوں نے جارحانہ کھیل پیش کیا۔ ۳۳؍ گیندوں پر سنچری بنانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کدامبی سری کانت کی شاندار کارکردگی، دیگر ہندوستانی کھلاڑی جلد باہر
نیوزی لینڈ کی ٹیم اب ۸؍ مارچ کو احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں خطاب کیلئے مقابلہ کرےگی ۔ مچل سینٹنر نے فائنل کے تعلق سے کہا ’’اگر ہم فائنل میں بھی اسی طرح کی کارکردگی دہرا سکیں تو شاندار ہوگا۔ احمد آباد کی پچ مختلف ہے، وہاں کے حالات الگ ہوں گے۔ ہم فائنل بھی جیتنے کیلئے متحد ہوکر مخالف ٹیم کا مقابلہ کریں گے۔