داسن شناکا نے ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں خوشی کا کوئی موقع فراہم نہیں کر سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انگلینڈ کے خلاف میچ جیتا جا سکتا تھا۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 7:04 PM IST | Colombo
داسن شناکا نے ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں خوشی کا کوئی موقع فراہم نہیں کر سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انگلینڈ کے خلاف میچ جیتا جا سکتا تھا۔
سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے سپر ایٹ مرحلے سے ٹیم کے عبرتناک اخراج کا ملبہ بیرونی دباؤ، منفی ماحول اور کھلاڑیوں کی ناقص فٹنیس پر ڈال دیا ہے۔ کولمبو میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں۶۱؍رنز کی شکست کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شناکا نے ٹیم کی کارکردگی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران شناکا کا کہنا تھا کہ ٹیم کے گرد چھائی مسلسل منفی باتیں کھلاڑیوں کی ذہنی صحت اور کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بطور کھلاڑی ہمارے لیے باہر کے شور کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم زیادہ تر منفی باتیں ہی سنتے ہیں، جس کی وجہ سے ڈریسنگ روم میں کتنا ہی مثبت رہنے کی کوشش کریں، باہر سے ایک مایوس کن ماحول بن جاتا ہے۔‘‘انہوں نے حکام اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے ماحول کو روکنے کے لیے مداخلت کریں تاکہ مستقبل کے کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کو بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات سری لنکن کرکٹ کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نیوزی لینڈ کی توجہ سیمی فائنل پر مرکوز، انگلینڈ جیت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے تیار
داسن شناکا نے ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں خوشی کا کوئی موقع فراہم نہیں کر سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انگلینڈ کے خلاف میچ جیتا جا سکتا تھا، لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف مقابلہ یکطرفہ رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی کھلاڑی ہارنے کی نیت سے میدان میں نہیں اترتا، لیکن کبھی حالات حق میں نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھئے:۱۵؍ سال بعد ہولی پر کسی بڑی فلم کی ریلیز نہیں، کرکٹ ورلڈ کپ وجہ
کپتان نے ٹیم کے فٹنیس لیول پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سری لنکا شاید ان ٹیموں میں سے ایک ہے جس کے سب سے زیادہ کھلاڑی زخمی ہیں۔ ہماری جسمانی فٹنیس کا معیار وہ نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ دوسری ٹیمیں ہم سے بہت آگے ہیں۔ ہمارے ۴؍سے ۵؍ بہترین کھلاڑی انجری کے باعث باہر تھے، حالانکہ یہ کوئی بہانہ نہیں ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ سری لنکا مسلسل شکستوں کے بعد سپر ایٹ مرحلے سے باہر ہو گیا ہے، جس میں انگلینڈ سے ۵۱؍ رنز کی شکست اور اب نیوزی لینڈ کے خلاف ناکامی شامل ہے۔