Updated: July 29, 2026, 4:00 PM IST
| Rome
فٹ بال کی دنیا کے معروف کوچ پیپ گارڈیالا نے اٹلی میں منعقدہ پیپ سمر کیمپ کے چھٹے ایڈیشن کے دوران ۳۰؍ فلسطینی بچوں کا خیرمقدم کیا، جہاں انہیں فٹ بال کی تربیت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور تفریحی ماحول فراہم کیا گیا۔ گارڈیالا نے کہا کہ جنگ اور بے مکانی کا سامنا کرنے والے بچوں کو اگرچہ ان کا کھویا ہوا بچپن واپس نہیں دیا جا سکتا، لیکن انہیں خوشی اور سکون کے چند لمحے دینا بھی ایک اہم انسانی کوشش ہے۔ ان کے اس اقدام کو کھیل کے ذریعے انسانی ہمدردی اور نفسیاتی بحالی کی ایک مثبت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
پیپ گارڈیالا فلسطینی بچوں سے ملاقات کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
عالمی شہرت یافتہ فٹ بال منیجر پیپ گارڈیالا نے اٹلی میں منعقد ہونے والے پیپ سمر کیمپ (Pep Summer Camp) کے چھٹے ایڈیشن میں ۳۰؍ فلسطینی بچوں کا خصوصی خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں فٹ بال کی تربیت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں وہ جنگ کی تلخ یادوں سے کچھ وقت کے لیے دور رہ سکیں۔ منتظمین کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف فٹ بال کی تربیت دینا نہیں بلکہ ایسے بچوں کو چند خوشگوار لمحات فراہم کرنا بھی ہے جنہوں نے گزشتہ برسوں میں شدید انسانی بحران کا سامنا کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کیمپ ۲۸؍ جون سے ۱۸؍ جولائی کے درمیان منعقد کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کے باہرفلسطین حامی مظاہرین کا نیتن یاہو کے دورے کے خلاف احتجاج
پیپ گارڈیالا نے بچوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ ہم ان کا کھویا ہوا بچپن واپس نہیں لا سکتے، لیکن اگر ہم انہیں خوشی، کھیل اور مسکراہٹ کے چند لمحے دے سکیں تو یہ بھی ایک معمولی مگر اہم کوشش ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کھیل زبان، نسل اور سرحدوں سے بالاتر ہو کر انسانوں کو قریب لانے کی طاقت رکھتا ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ مشکل حالات سے گزرنے والے بچوں کو بھی کھیلنے، سیکھنے اور دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ کیمپ کے دوران فلسطینی بچوں نے مختلف عمر کے دیگر شرکا کے ساتھ مشترکہ تربیتی سیشنز میں حصہ لیا۔ کوچنگ اسٹاف نے انہیں بال کنٹرول، پاسنگ، پوزیشننگ، چھوٹے مقابلوں اور ٹیم ورک کی مشقیں کرائیں، جبکہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ سماجی سرگرمیوں اور گروپ ایکٹیویٹیز کا بھی اہتمام کیا گیا تاکہ بچے دوستانہ ماحول میں ایک دوسرے سے گھل مل سکیں۔ منتظمین کے مطابق پیپ سمر کیمپ کا بنیادی فلسفہ صرف بہتر کھلاڑی تیار کرنا نہیں بلکہ کھیل کے ذریعے نظم و ضبط، باہمی احترام، اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری جیسی اقدار کو فروغ دینا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی حکام کے مطابق پابندیاں ایران کو حملوں سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہیں: رپورٹ
پیپ سمر کیمپ گزشتہ چند برسوں سے یورپ میں نوجوان فٹ بالر تیار کرنے کے معروف پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد خود پیپ گارڈیالا کے اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ بچوں کو کم عمری ہی سے ایسی تربیت دی جائے جس میں تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار اور ٹیم اسپرٹ کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ کیمپ میں مختلف ممالک سے آنے والے لڑکے اور لڑکیاں شریک ہوتے ہیں، تاہم اس سال فلسطینی بچوں کی شرکت کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی بچوں کی نفسیاتی اور انسانی مشکلات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ پیپ گارڈیالا اس سے قبل بھی فلسطینی بچوں کی صورتحال پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ رواں برس بارسلونا میں منعقدہ ایک فلاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہم نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے، ہم نے انہیں بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔‘‘ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ فلسطینی بچوں کے دکھ کو محض خبروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔ اٹلی میں منعقدہ اس سمر کیمپ میں فلسطینی بچوں کی میزبانی کو بھی اسی انسانی سوچ کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یو اے ای نے دنیا کے پہلے مکمل طور پر مربوط اے آئی پر مبنی عدالتی پلیٹ فارم کا افتتاح کیا
پیپ سمر کیمپ کے منتظمین کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد صرف فٹ بال کی تکنیکی تربیت فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی نشوونما میں بھی کردار ادا کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ہر سال مختلف عمر کے بچوں کو تربیتی سیشنز، دوستانہ مقابلوں، تفریحی سرگرمیوں اور گروپ ورک میں شریک کیا جاتا ہے تاکہ وہ کھیل کے ذریعے اعتماد، نظم و ضبط، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری جیسی اقدار سیکھ سکیں۔ فلسطینی بچوں کی شرکت کو بھی اسی فلسفے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں انہیں ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کیا گیا تاکہ وہ روزمرہ کی مشکلات سے ہٹ کر چند خوشگوار لمحات گزار سکیں۔
کیمپ میں شریک کوچز اور منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ کھیل بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق مختلف ثقافتوں اور ممالک سے آنے والے بچوں کا ایک ساتھ کھیلنا نہ صرف کھیلوں کی مہارت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور احترام کرنے کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس سال فلسطینی بچوں کو دوسرے شرکا کے ساتھ مشترکہ تربیتی سیشنز میں شامل کیا گیا تاکہ وہ خود کو الگ تھلگ محسوس نہ کریں بلکہ عالمی فٹ بال برادری کا حصہ بن کر اعتماد کے ساتھ سرگرمیوں میں شریک ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اپنی دیوار گیر تصویر پر پیڈرو سانچیز نے فلسطینی بچی لیان اور فنکاروں کا شکریہ ادا کیا
پیپ گارڈیالا نے بچوں سے ملاقات کے دوران ان کے ساتھ وقت گزارا، تصاویر بنوائیں اور تربیتی سرگرمیوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ان بچوں کے لیے بچپن کے چند لمحات فراہم کرنے کی ہماری معمولی سی کوشش ہے۔‘‘ ان کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں مشکلات کا سامنا کرنے والے بچوں کو کھیل، تعلیم اور محفوظ ماحول تک رسائی ملنی چاہیے کیونکہ یہی چیزیں انہیں امید اور اعتماد دیتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل صرف مقابلے کا نام نہیں بلکہ انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ٹرمپ ایران جنگ میں پھنسے ہوئے نظر آرہے ہیں‘‘
فلسطینی بچوں کی میزبانی کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی پذیرائی ملی۔ متعدد فٹ بال شائقین، سماجی کارکنوں اور کھیل سے وابستہ شخصیات نے اس اقدام کو کھیل کے ذریعے انسانی ہمدردی کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔ کئی صارفین نے لکھا کہ جنگ اور تنازعات کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے، اس لیے اگر کھیل کے ذریعے انہیں کچھ وقت کے لیے ہی سہی، خوشی اور سکون کا ماحول فراہم کیا جا سکے تو یہ ایک قابلِ ستائش کوشش ہے۔ دوسری جانب بعض صارفین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے اقدامات کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے دیرپا امن اور تحفظ کی کوششیں بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔