• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مودی اور قزاخستان کے صدر توقایف کا اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم

Updated: September 13, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi

وزیراعظم نریندر مودی اور قزاخستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے نئی دہلی میں جاری ۱۸؍ ویں برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Narendra Modi And Kassym-Jomart Tokayev.Photo:PTI
مودی اور توقایف۔ تصویر:پی ٹی آئی

وزیراعظم نریندر مودی اور قزاخستان کے صدر قاسم جومارت توقایف  نے اتوار کو نئی دہلی میں جاری ۱۸؍ ویں برکس سربراہ اجلاس  کے موقع پر ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں لیڈروں نے ہندوستان اور قزاخستان کے باہمی تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم مودی اور صدر توقایف نے  دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں  کا جائزہ لیا۔ خاص طور پر تجارت، معیشت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، اہم معدنیات، ڈجیٹل ٹیکنالوجی، ادویہ سازی اور زراعت جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید عملی شکل دینے پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک پہلے ہی ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کر رہے ہیں اور موجودہ ملاقات کو ان کوششوں کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ 
دونوں لیڈروں کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندوستان ۲۰۲۶ء میں برکس کی صدارت  کر رہا ہے اور قزاخستان برکس کے پارٹنر ممالک میں شامل ہے۔ صدر توقایف ۱۲؍ اور ۱۳؍ ستمبر کو ہندوستان کے دورے پر ہیں اور انہوں نے برکس پلس/آؤٹ ریچ اجلاس میں بھی شرکت کی۔ قزاخستان کی برکس میں شرکت کو کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے اور وسطی ایشیا کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور قزاخستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا دونوں ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بات چیت میں  تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور رابطہ کاری  کے شعبوں میں عملی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ قزاخستان وسطی ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور قدرتی وسائل، توانائی اور اہم معدنیات کے اعتبار سے خطے میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جبکہ ہندوستان اپنی بڑھتی ہوئی معیشت اور صنعتی ضروریات کے پیش نظر ان شعبوں میں قابل اعتماد شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’حیوان‘‘نے پریہ درشن کی غیرمزاحیہ فلموں کے کمزورباکس آفس ریکارڈکو دراز کردیا

اس کے علاوہ  اہم معدنیات (Critical Minerals)  اور توانائی کے شعبے میں تعاون بھی مستقبل کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے جاری سفارتی بات چیت میں توانائی، تیل و گیس، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سمیت اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ 
صدر توقایف کے ساتھ وزیراعظم مودی کی ملاقات ہندوستان کی  وسطی ایشیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری کا بھی حصہ ہے۔ ہندوستان قزاخستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ قزاخستان بھی ہندوستان کو جنوبی ایشیا میں اپنا ایک اہم اور قابل اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتا رہا ہے۔  ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور عالمی معیشت میں آنے والی تبدیلیوں کے درمیان ہندوستان اور قازقستان کے درمیان اقتصادی و اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میسی کا شاندار گول بھی انٹر میامی کو نیش وِل کے خلاف فتح نہ دلا سکا، مقابلہ برابری پرختم

وزیراعظم مودی اور صدر توقایف کی تازہ ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو صرف سیاسی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے  تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات جیسے عملی شعبوں  میں مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔ برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقات ہندوستان اور  قزاخستان کے تعلقات کو نئی رفتار دینے اور مستقبل میں باہمی تعاون کے مزید امکانات پیدا کرنے کے لحاظ سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK