اسکول شروع ہوئے ۳؍مہینے ہوچکے ہیں ،اس دوران بیشتر اساتذہ کے غیر تدریسی ذمہ داریوں پر مامور ہونے سے طلبہ کی پڑھائی کانقصان ہواہے
ایک اسکول میں بی ایل او کی ڈیوٹی میں مصروٖ ف اساتذہ ۔تصویر: آئی این این
اسکول شروع ہوئے ۳؍مہینے ہوچکے ہیں ،اس دوران اساتذہ کے غیر تدریسی ذمہ داریوں پر مامور ہونے سے طلبہ کا جو تعلیمی نقصان ہوا ہے اس تعلق سے والدین اور یونینوں کی جانب سے حکومت سے اس کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ اس مسئلہ کو حل کیا جاسکے ۔ نئے تعلیمی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا آغاز ۱۵؍ جون سے ہوا ہے۔ نئے تعلیمی سال کے پہلے ۳؍ مہینوں میں طلبہ کی بنیاد مضبوط کرنے، پیچھے رہ جانے والے بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے اور پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی سطح کو بہتر کرنے کی اُمید ہوتی ہے لیکن امسال ا سکول کھلنے کے چند ہی دنوں میں اساتذہ کو ایس آئی آر کی ڈیوٹی دے دی گئی تھی ۔اس کے بعد سروے، آن لائن ریکارڈ، اسکالرشپ، مختلف رپورٹس اور اسکیم کے کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا لہٰذا اب سوال یہ نہیں ہے کہ اساتذہ نے کتنا کام کیا بلکہ حکومت کو اب حساب دینا چاہئے کہ ان تین مہینوں میں طلبہ کو حقیقت میں کتنا پڑھایا گیا ۔
اسکول شروع ہوتے ہی یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کون سا طالب علم پڑھنے میں پیچھے ہے؟ بنیادی ریاضی کے تصورات کون نہیں سمجھتاہے؟ کس کو زیادہ مشق کی ضرورت ہے؟ اور کس طالب علم کو انفرادی توجہ کی ضرورت ہے؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے اور ان پر کام کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے لیکن اسکول شرع ہوتے ہی ٹیچرو ں کی کمی کی وجہ سے ان معاملات پر توجہ نہیں دی جاسکی ہے ۔
والدین یہ سوال بھی اُٹھا رہے ہیں کہ کیا اب حکومت کو طلبہ کے معیار کی چھان بین کرنی چاہئے؟کیونکہ اس نئے تعلیمی سال کے آغاز میں اساتذہ کا وقت کلاس روم کے بجائے ایس آئی آر اور دیگر کاموں میں صرف ہوا ہے ۔ کم اساتذہ والے اسکولوں میں صورتحال اور بھی سنگین ہے ۔
اس ضمن میں ریاست کی مختلف اساتذہ کی تنظیمیں اور اساتذہ پچھلے ۳؍ مہینوں میں تدریسی وقت اور طلبہ کے معیار کا آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ اس کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اساتذہ نے ایس آئی آر، سروے، آن لائن ریکارڈ اور منصوبہ بندی کی سرگرمیوں کی وجہ سے غیر نصابی سرگرمیوں پر جو وقت صرف کیا ہے ،اس سے طلبہ کی تعلیمی ترقی متاثر ہوئی ہے یا نہیں۔
ریاست بھر سے یہ مطالبہ ہے کہ اساتذہ کے ذریعہ کئے گئے ہر غیر تعلیمی کام کا حساب لیا جائے۔ پھر حکومت کو اس بات کا بھی حساب کرنا چاہئے کہ ان کاموں کی وجہ سے طلبہ کو پڑھانے کا کتنا وقت ضائع ہواہے؟
مہاراشٹر اسٹیٹ پرنسپلز اسوسی ایشن کے سابق نائب صدر مہندر گنپولے کے مطابق ’’یہ مسئلہ کم اساتذہ والے اسکولوں میں زیادہ سنگین ہے۔اساتذہ کو دی جانے والی غیر تدریسی ذمہ داریوں سے طلبہ کی پڑھائی کا نقصان ہو رہا ہے ۔‘‘