Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کی شرح ۱۳۹؍ فیصد سے تجاوز، خودکشیوں، تشدد میں اضافہ

Updated: May 21, 2026, 2:03 PM IST | Rome

Antigone کی نئی رپورٹ کے مطابق اٹلی کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد ۶۴؍ ہزار ۴۳۶؍ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اصل گنجائش کے مقابلے میں بھیڑ بھاڑ کی شرح ۱۳۹؍ فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد جیلیں اپنی استعداد سے دوگنا قیدی رکھنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث تشدد، خودکشیوں اور نفسیاتی بحران میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔

Photo : X
تسویر : ایکس

اٹلی کی جیلوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ بھاڑ، تشدد اور خودکشیوں نے ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ منگل کو انسانی حقوق کی تنظیم Antigone کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اپریل ۲۰۲۶ء کے اختتام تک اٹلی کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد ۶۴؍ ہزار ۴۳۶؍ تک پہنچ گئی، جبکہ ملک بھر کی جیلوں میں عملی طور پر صرف ۴۶؍ ہزار ۳۱۸؍ افراد کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ سرکاری یا ’’ریگولیٹری‘‘ گنجائش ۵۱؍ ہزار ۲۶۵؍ قیدیوں کی ہے، لیکن متعدد سیلز ناقابل استعمال یا خراب حالت میں ہیں، جس کے باعث اصل دستیاب جگہ اس سے کہیں کم رہ گئی ہے۔ نتیجتاً، جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کی حقیقی شرح ۱ء۱۳۹؍ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے : غزہ: خوراک کی تقسیم کے مرکز پر اسرائیلی حملے، ۴؍ فلسطینی جاں بحق

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے ۷۳؍ حراستی مراکز کم از کم ۱۵۰؍ فیصد گنجائش پر چل رہے ہیں، جبکہ آٹھ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد ان کی استعداد سے ۲۰۰؍ فیصد سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی صورتحال نہ صرف قیدیوں بلکہ جیل عملے کے لیے بھی خطرناک بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جیلوں کے اندر تشدد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ۲۰۲۵ء کے دوران جیل افسران پر حملوں کے ۲؍ ہزار ۴۲۳؍ واقعات سامنے آئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں ۴ء۱۲؍ فیصد زیادہ ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک اضافہ قیدیوں کے درمیان جھگڑوں اور حملوں میں دیکھا گیا، جو ۲۰۲۱ء کے ۳۳۵۶؍ واقعات سے بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں ۵۸۱۲؍ تک پہنچ گئے — یعنی تقریباً ۷۳؍ فیصد اضافہ۔
اینٹیگون نے اپنی رپورٹ میں الزام لگایا کہ اٹلی کی جیل انتظامیہ کی نئی سخت پالیسیوں نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق قیدیوں کی نقل و حرکت محدود کرنے، سرگرمیوں پر پابندیاں لگانے اور سخت نگرانی کے باعث جیلوں میں نفسیاتی دباؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’حفاظتی اقدامات‘‘ کے نام پر نافذ کی گئی سختیوں نے دراصل جیلوں کے ماحول کو زیادہ پرتشدد اور غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ قیدیوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے رپورٹ کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک قرار دیے جا رہے ہیں۔ ۲۰۲۵ء میں کم از کم ۸۲؍ قیدیوں نے خودکشی کی جبکہ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے اب تک مزید ۲۴؍  خودکشیاں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اس طرح صرف ڈیڑھ سال سے بھی کم عرصے میں مجموعی طور پر ۱۰۶؍ قیدی اپنی جان لے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : خلیجی ممالک کی اپیل کے بعد ایران پر حملہ روک دیا گیا: ٹرمپ

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ ۲۰۲۵ء میں جیلوں کے اندر اموات کی مجموعی تعداد ۲۵۴؍ تک پہنچ گئی، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے اطالوی جیل نظام کی ’’سنگین ناکامی‘‘ قرار دیا ہے۔ اینٹیگون کے صدر پیٹریزو گونیلا نے کہا کہ جیلوں میں سختی اور بندش کے اقدامات نے سیکوریٹی بہتر نہیں کی بلکہ بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سخت فوجداری پالیسیاں، طویل سزائیں اور متبادل اصلاحی پروگراموں کی کمی جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹلی کو فوری طور پر جیل اصلاحات، ذہنی صحت کی سہولیات میں بہتری اور متبادل سزاؤں جیسے اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ یہ بحران مزید سنگین انسانی مسئلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK