• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی پر تعطل برقرار

Updated: October 27, 2026, 12:01 PM IST | Rauf Ramesh | New Delhi

۱۵؍ویں روز بھی بھوک ہڑتال اور احتجاج جاری ، انتظامیہ کی کوششیں ناکام، طلبہ لیڈرجسیم خان کی حالت خراب ہو نے پر کیمپس میں کشیدگی۔

Students at Jamia Millia Islamia remain determined not to bow before the administration. Photo: PTI
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انتظامیہ کے آگے طلبہ کا نہ جھکنے کاعزم۔ تصویر: پی ٹی آئی

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر ۱۵؍ویں روز بھی طلبہ کی بھوک ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ کی تمام کوششوں کے باوجود تیسری مرتبہ بھی تعطل ختم نہیں ہوسکا۔جامعہ انتظامیہ نے گزشتہ شب ایک بار پھر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ کیمپس میں نصف شب کے بعد اچانک سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ ایک جانب طبیعت بگڑنے کے بعد بھوک ہڑتال کرنے والے جسیم خان کی حالت خراب ہو گئی تھی تو دوسری جانب جامعہ کے اسسٹنٹ رجسٹرار اور ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر کیمپس میں پہنچے اور طلبہ سے ایک بار پھر بات چیت کی۔ اس دوران طلبہ کے ساتھ معاہدے کے مسودے پر دستخط بھی ہوئے، جس کے بعد طلبہ نے اپنی جیت کا جشن منانا شروع کر دیا، لیکن یہ جشن کچھ ہی دیر بعد احتجاج میں تبدیل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۸؍اکتوبر سے بوتھ سطح پر ووٹر لسٹ کی جانچ شروع کی جائےگی

صبح ساڑھے چار بجے جب جامعہ کے رجسٹرار کیمپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ معاہدے کے مسودے میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کیلئے کوئی واضح ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئی ہے۔ طلبہ کا بنیادی مطالبہ انتخابات کی تاریخ کا تعین کرنا ہے، اسی لیے تعطل برقرار ہے۔ جامعہ انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں اور طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے بعد۱۵؍دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ تاہم طلبہ نے اس حکم نامے کو مسترد کرتے ہوئے بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹس میں انتخابی عمل کیلئے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، نہ ہی پراکٹر کے استعفے کے مطالبے پر کوئی بات کہی گئی ہے۔ طلبہ کے مطابق احتجاج کا مقصد کیمپس میں جمہوری حقوق اور طلبہ کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے نہ کہ محض غیر واضح یقین دہانی کو قبول کر لینا۔

دوسری جانب بھوک ہڑتال ختم کرنے والے جسیم خان کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ واضح رہے کہ ابن باسل اور ریحان خان نے بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

کیمپس کو جیل بنا دیا گیا ہے: بانی خاندان

جامعہ میں طلبہ یونین کی تحریک درمیان اب، جامعہ کے بانی خاندان، سابق طلبہ اور ممتاز طلبہ تنظیمیں (این ایس یو آئی اور ایس ایف آئی) بھی میدان میں آگئی ہیں۔ دہلی میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں، بانیوں کے اہل خانہ اور طلبہ لیڈروں نے یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس کے رویے پر سخت سوالات اٹھائے، اور کیمپس کو جیل بنادینے کاالزام عائد کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK