Updated: October 27, 2026, 7:03 PM IST
| Srinagar
کشمیری پنڈت کارکن راکیش ہنڈو، جنہیں بنٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو جموں و کشمیر پولیس نے وادیِ کشمیر میں اقلیتی ملازمین اور مہاجر مزدوروں کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسند دھمکی آمیز پوسٹرز کی مبینہ گردش کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے۔ ہنڈو کو ۱۷؍ اکتوبر کو بارہمولہ پولیس کی ایک ٹیم نے ہریانہ کے فرید آباد میں واقع ان کی رہائش گاہ سے مقامی پولیس کے تعاون سے گرفتار کیا، جس کے بعد انہیں کشمیر لایا گیا۔
کشمیری پنڈت کارکن راکیش ہنڈو۔ تصویر: ایکس
کشمیری پنڈت کارکن پر بارہمولہ پولیس اسٹیشن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ ۶۶؍ ایف اور ۸۴؍ سی کے تحت ایف آر (FIR No. 151/2026) کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تحقیقات کا آغاز بارہمولہ کے محکمہ مالیات میں پرائم منسٹر ری ہیبلیٹیشن پیکیج کے تحت تعینات کشمیری پنڈت ملازم روہت رینا کی شکایت کے بعد ہوا تھا۔تفتیش کاروں کے مطابق، یہ کیس `یونائیٹڈ لبریشن کونسل (یو ایل سی ) جسے کچھ جگہوں پر ریز سٹنس یونائیٹڈ لبریشن کونسل(آریو ایل سی) بھی کہا گیا ہے،سے مبینہ طور پر جڑے ایک عوامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے الیکٹرانک مواد کو ترمیم کرنے، پھیلانے اور بار بار شیئر کرنے سے متعلق ہے۔اس مبینہ دھمکی آمیز مواد میں وادی میں موجود اقلیتی ملازمین اور مہاجر مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس سے کمیونٹی کے اراکین میں شدید تشویش پھیل گئی تھی۔رپورٹس کے مطابق، ایک سینئر پولیس افسر نے راکیش ہنڈو اور شکایت کنندہ روہت رینا کے درمیان ذاتی رقابت کو ان دھمکی آمیز پوسٹرز کے پیچھے ایک ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔ تاہم پولیس نے اس گرفتاری پر ابھی تک کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کن گائوں پتھرائومعاملہ: ۱۶؍ افراد گرفتار ،۳۱؍ اکتوبر تک پولیس کسٹڈی کے احکامات
ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، تفتیش کاروں نے بی این ایس ایس کی دفعہ ۳۵؍(۳؍) کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے ہنڈو کو پوچھ گچھ کیلئے پیش ہونے کو کہا تھا۔ ہنڈو کا موقف رہا ہے کہ وہ فرید آباد میں مقیم تھے اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کشمیر کا سفر نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تحقیقات میں شامل ہونے کی اجازت مانگی تھی۔ہنڈو نے اس سے قبل ان دھمکی آمیز پوسٹرز کی تحقیقات اور ان کو وائرل کرنے کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کا مطالبہ کیا تھا۔لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈراور کشمیری پنڈت سیاستدان سنجے سراف نے ہنڈو کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سنجے سراف نے کہا کہ ہنڈو کی گرفتاری اور حراست نے ان کے کام سے واقف لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الزامات کی درست تحقیقات کی جانی چاہئیں اور اس کارکن کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک ہونا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیری پنڈت برادری انصاف اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ تحقیقات سے حقائق سامنے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: کسانوں نے یوگی حکومت کیخلاف محاذ کھولا، الہ آباد میں زبردست احتجاج
واضح رہے کہ یہ گرفتاری اگست میں یو ایل سی کی طرف سے جاری کردہ مبینہ دھمکی آمیز پوسٹرز کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے چند مہینوں بعد سامنے آئی ہے، جن میں وزیرِ اعظم کے روزگار پیکیج کے تحت بھرتی ہونے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان دھمکیوں کے بعد حکومت کو ملازمین کو چھٹی پر بھیجنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔وادی نے گزشتہ سالوں میں کشمیری پنڈتوں اور مہاجر مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ (ہدف بنا کر قتل) کے واقعات بھی دیکھے ہیں۔ اگست میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے اینٹ بھٹے کے دو مزدوروں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ۵۹؍ سالہ راکیش ہنڈو نے ۲۰۰۸ء کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں سری نگر کی حضرت بل نشست سے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے خلاف الیکشن لڑا تھا، لیکن وہ ہار گئے تھے۔