فلم دیکھنے کے بعد اگر اس سے جڑے سوالات ناظرین کے ذہن و دماغ میں دیر تک باقی رہیں تو اس سے بڑی کامیابی کسی فلم کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 10:01 AM IST | Agency | Mumbai
فلم دیکھنے کے بعد اگر اس سے جڑے سوالات ناظرین کے ذہن و دماغ میں دیر تک باقی رہیں تو اس سے بڑی کامیابی کسی فلم کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے۔
فلم دیکھنے کے بعد اگر اس سے جڑے سوالات ناظرین کے ذہن و دماغ میں دیر تک باقی رہیں تو اس سے بڑی کامیابی کسی فلم کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے۔ بالی ووڈ میں ایسی کئی فلمیں بنی ہیں جن کے کلائمکس نے برسوں تک لوگوں کو سوچنے پر مجبور رکھا۔سنیما ہال سے باہر نکلنے کے بعد بھی ناظرین کے ذہنوں میں کہانی اور اس کے انجام سے متعلق کئی سوالات گردش کرتے رہے۔ ایسی ہی ایک فلم ۱۹۸۱ءمیںریلیز ہوئی تھی جس کا نام ’میری آواز سنو‘تھا۔
یہ بھی پڑھئے:جھارکھنڈ کی راجیہ سبھا سیٹ پر کراس ووٹنگ ، بی جے پی جیتی
ریلیز سے پہلے ہی یہ فلم تنازعات کی زدمیںآگئی تھی اور اس پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں عدالت کی اجازت کے بعد جب یہ فلم نمائش کے لیے پیش کی گئی تو اس نے دھوم مچا دی۔ کئی شہروں میں اس کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ اس نے ۱۹۷۵ءکی آل ٹائم بلاک بسٹر فلم ’شعلے‘کے بعض ریکارڈ بھی توڑ دیے تھے۔’میری آواز سنو‘ ۲۳؍نومبر ۱۹۸۱ءکو ریلیز ہوئی تھی۔ریلیز کے فوراً بعدفلم پر پابندی عائد کر دی گئی۔ دراصل فلم میں ایک وزیر، آئی اے ایس افسر اور پولیس حکام کو بدعنوان اور کرپٹ دکھایا گیا تھا، جس سے حکومتی حلقوںمیں بے چینی پیدا ہو گئی۔پابندی لگنے کےبعد فلم کے پروڈیوسرز عدالت سے رجوع ہوئے۔
یہ بی پڑھئے:وہپ کے باوجود ادھو کی میٹنگ سے ۶؍ اراکین پارلیمنٹ غیر حاضر ، وجہ بتائو نوٹس
عدالت نے فلم میں چند تبدیلیوں کی ہدایت دی، جن پر عمل کے بعد اسے دوبارہ ریلیز کی اجازت ملی۔سب سے نمایاں تبدیلی یہ تھی کہ فلم میں جس ملک کا نام ’ہندوستان‘لیا گیا تھا، اسے تبدیل کرکے ’مندوستان‘ کر دیا گیا۔ اس تنازعے نے الٹا فلم کے حق میں کام کیا، کیونکہ لوگوں کے اندر یہ جاننے کا اشتیاق بڑھ گیا کہ آخر اس فلم میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے اسے بین کر دیا گیا تھا۔فلم کے آخری منظر میں پس منظر سے ایک آواز سنائی دیتی ہے’’آدمی مجبور ہے، اب اس کی آواز کون سنے گا، یہ فیصلہ اب آپ کیجیے۔‘‘یہی جملہ فلم کو ایک منفرد انجام دیتا ہے۔ اس دور کی روایتی فلموں کے برعکس اس کا اختتام کسی واضح فیصلے کے بجائے ایک سوال پر ہوتا ہے، جو ناظرین کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔