Updated: June 19, 2026, 5:04 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی حکام کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر عوامی سطح پر تنقید اور نیتن یاہو کے بارے میں ان کے ذاتی تبصرے، پسِ پردہ امریکی دباؤ کا اشارہ ہیں جس میں امریکہ-ایران معاہدے پر دستخط کے بعد مزید شدت آنے کی توقع ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی روزنامہ ’معاریو‘ (Maariv) کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام کو تشویش ہے کہ وہائٹ ہاؤس کے ساتھ بڑھتے اختلافات کے نتیجے میں تل ابیب پر اسلحے کی پابندی اور سیکوریٹی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اگر تل ابیب نے اپنا موجودہ مؤقف برقرار رکھا، تو واشنگٹن کے ساتھ یہ تنازع اسلحے کی کھیپ میں تاخیر، فوجی امداد پر پابندیوں اور ممکنہ طور پر مکمل اسلحہ کی پابندی جیسے سخت اقدامات کا باعث بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ-ایران کے درمیان حال ہی میں دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کی وجہ سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۱۵۰؍ سے زائد طبی ماہرین وتنظیموں کاعالمی طبی انجمن سے اسرائیل کی معطلی کا مطالبہ
اسرائیلی حکام کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر عوامی سطح پر تنقید اور وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے بارے میں ان کے ذاتی تبصرے، پسِ پردہ امریکی دباؤ کا اشارہ ہیں جس میں امریکہ-ایران معاہدے پر دستخط کے بعد مزید شدت آنے کی توقع ہے۔ مبینہ طور پر ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں نیتن یاہو پر شمالی محاذ پر لچک دکھانے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ معاہدے کو مستحکم بنانے میں مدد مل سکے۔ اطلاعات کے مطابق، مخصوص امریکہ کی جانب سے جنوبی لبنان میں پانچ پوزیشنوں سے اسرائیل کا انخلا، شام کے علاقے ہرمون (Hermon) سے پسپائی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں نمایاں کمی کے مطالبات کئے جارہے ہیں۔ حکام نے کہا کہ توقع ہے واشنگٹن انخلاء کے حوالے سے نیتن یاہو سے پختہ عزم حاصل کرنے کیلئے دباؤ برقرار رکھے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
کشیدہ تعلقات کے درمیان خاموش سفارت کاری
اسرائیلی حکام نے بتایا کہ وہائٹ ہاؤس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کے ساتھ ایک ممکنہ ملاقات پر غور کیا جارہا ہے جبکہ واشنگٹن میں ایک اعلیٰ سطحی اسرائیلی وفد بھی بھیجا جاسکتا ہے، اگرچہ ابھی تک امریکی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ اس سے قبل، ٹرمپ نے اسرائیلی براڈکاسٹر ’کان‘ (KAN) کو بتایا تھا کہ حالانکہ انہوں نے لبنان پر حملے کے حوالے سے نیتن یاہو پر تنقید کی تھی لیکن وہ اکتوبر کے انتخابات سے پہلے ان کی حمایت کرتے ہیں۔