Updated: June 19, 2026, 6:03 PM IST
| Washington
امریکی صدر نے اسرائیل کے آئندہ انتخاب میں نیتن یاہو کی مشروط حمایت کا اعلان کیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ دیگر امیدواروں کا بھی جائزہ لیں گے،اس کے علاوہ انہوں نے نیتن یاہو کو مزید معقول رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل کوحقیقت کو تسلیم کرنے اور ایران امریکہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اکتوبر کے انتخابات میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حمایت کرنے کا قوی امکان ہے، تاہم انہوں نے نتن یاہو کو مزید معقول اقدامات کرنے کی تلقین کی اور دوسرے امیدواروں کوکا جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی۔تاہم انہوں نے نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مزید معقول رویہ اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا۔واضح رہے کہ ان کے یہ ریمارکس ایران امن معاہدے پر امریکہ-اسرائیل کشیدگی کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں جوہری مذاکرات ملتوی کرتے ہوئے پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کی گئی ہے جسے اسرائیلی عہدیدار ایک اہم پسپائی قرار دے رہے ہیں جبکہ نیتن یاہو کےانتہا پسند وزیر اسے دھوکہ قرار دے رہے ہیں۔ٹرمپ نے لبنان پر حملےکے طریقہ کار پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، خاص طور پر مزید تحمل اور ذمہ داری پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حکام کو اسلحےکی پابندی کا خدشہ؛ لبنان، امریکہ-ایران ڈیل پر واشنگٹن کےساتھ اختلافات مزیدگہرے
بعد ازاں فرانس میں جی۷؍ سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس میں، ٹرمپ نے نیتن یاہو کے انداز کی عوامی طور پر سرزنش کرتے ہوئے کہا،’’ تمہیں ہر بار جب کوئی حزب اللہ کا کوئی شخص کسی عمارت میں داخل ہو تو پوری عمارت کو گرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ انہیں اپنا دفاع نہیں کرنا چاہیے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ جب دو ڈرون صحرا میں مار گرائے جائیں اور بے ضرر گر جائیں، تو تمہیں بیروت میں عمارتیں گرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری جانب جمعرات کو وہائٹ ہاؤس کی میڈیا بریفنگ کے دوران، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران معاہدے پر اسرائیلی ناقدین کی غیرمعمولی سرزنش کی، انہیں خبردار کیا کہ وہ اپنے ’’تنہا طاقتور اتحادی‘‘ (امریکہ) کو اجنبی نہ بنائیں۔انہوں نے نیتن یاہو اور ٹرمپ کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان، نیتن یاہوکی کابینہ کے انتہا پسند اراکین سے کہا کہ’’ وہ بیدار ہوں اور حقیقت کا ادراک کریں۔‘‘مزید برآں وینس نے بریفنگ میں کہا، ’’اگر میں اسرائیلی حکومت کی کابینہ میں ہوتا، تو شاید میں اپنے دنیا بھر میں بچے ہوئے واحد طاقتور اتحادی پر حملہ نہ کرتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
دریں اثنا، نیتن یاہونے جمعرات کو امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، اور کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل کا ساتھ دیا۔ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، نیتن یاہونے ایک تقریب میں کہا، ’’یہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی، اور آگے مزید چیلنجز ہیں۔ساتھ ہی اسرائیل کے دفاع اور سلامتی کے حق کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ ایرن جنگ کے دوران امریکہ کی شراکت کو بھی سراہا۔ ذہن نشین رہے کہ نیتن یاہو نے اس معاہدے پر ابھی تک براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، حالانکہ ان کے اتحاد کے کچھ اراکین نے بدھ کو اس کی تفصیلات جاری ہونے سے پہلے ہی اسے مسترد کر دیا تھا۔ جبکہ معاہدے کی شرائط میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمےکا ذکرکیا گیا ہے۔ تاہم نیتن یاہو نے دہرایا کہ اسرائیلی فوجیں جنوبی لبنان پر قابض رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ ہم اس سے اس وقت تک پیچھے نہ ہٹیں جب تک اسرائیل کی سلامتی کی ضروریات اس کا تقاضا کریں۔‘‘