کینیاکا اولمپکس کیلئے ڈوپنگ ٹیسٹ جاری رکھنے کا فیصلہ

Updated: May 19, 2020, 6:20 AM IST | Agency | Nairobi

کورونا وائرس کے خطرے کے درمیان کینیا ٹوکیو اولمپکس کے لئے اپنی ٹیم کے ڈوپنگ ٹیسٹ جاری رکھے گا اور اس کے لئے اس نے ایک لاکھ۷۰؍ ہزار ڈالر کی رقم طے کی ہے۔

Doping Test - PIC : INN
ڈوپنگ ٹیسٹ ۔ تصویر : آئی این این

 کورونا وائرس کے خطرے کے درمیان کینیا ٹوکیو اولمپکس کے لئے اپنی ٹیم کے ڈوپنگ ٹیسٹ جاری رکھے گا اور اس کے لئے اس نے ایک لاکھ۷۰؍ ہزار ڈالر کی رقم طے کی ہے۔کینیا کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (اےڈی اے كے) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جافٹر رگت نے کہا کہ یہ مشکل وقت سے نکلنے کا ایک طریقہ ہے۔اب تک کئی کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت  آئے ہیں اور۶۰؍سے زیادہ کھلاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ 
 رگت نے کہا کہ ہم نے ملک میں ڈوپنگ سے لڑنے کے لئے بجٹ طے کیا ہے اور ہم اس جنگ میں جیت حاصل کریں گے ۔ ہمارے پاس اولمپکس کے لئےایک لاکھ ۷۰؍ہزار ڈالر کا بجٹ ہے جبکہ گزشتہ سال کی دوحہ عالمی ایتھلیٹکس کے لئے۲۶؍ ملین ڈالر کا بجٹ تھا۔ اےڈی اےكے نے اپنے قیام کے بعد سے ۴؍ سال میں ۴۱۱۶؍ ٹیسٹ کئے ہے جس سے ۳۵۵۲؍ يورين سیمپل ہیں  جبکہ ۵۴۵؍بلڈ سیمپل ہیں ۔اب تک۱۲۰؍ مثبت معاملے سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے کھلاڑیوں پر پابندی لگی ہے۔
 عالمی ایتھلیٹکس کے صدر سیبسٹین کو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں آنے جانے پر پابندی کی وجہ سے ڈوپنگ کے خلاف جنگ میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ٹیسٹ میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
 عالمی ایتھلیٹکس نے کینیا کو ایتھوپیا، یوکرین، بیلاروس، نائیجیریا اور بحرین کے ساتھ اے زمرے میں رکھا ہے۔یہ  زمرہ ان ممالک کے لئے ہے جن کے کھلاڑی ڈوپنگ کر سکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی چمپئن شپ یا اولمپکس سے پہلے ان ممالک کے کھلاڑیوں کو مقابلے سے باہر تین ٹیسٹ کرانے ہوں گے تبھی یہ اولمپکس میں حصہ لینے کے اہل ہو پائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK