زیوریو کے تعلق سے کرگیوس اور بیکر میں لفظی جنگ

Updated: July 02, 2020, 12:06 PM IST | Agency | Melbourne

کرگیوس نے زیوریو کو غلط قرار دیا جبکہ بیکر نے ان کا دفاع کیا

Alexender
الیکزینڈر زیوریو

:جرمنی کے عالمی نمبر ۷؍ ٹینس کھلاڑی الیگزینڈر زیوریو کے کورونا کے اس دور میں ایک کھچا کھچ  بھرے ہوئے کلب میں رقص کرنے کے معاملے میں آسٹریلیائی نک کرگیوس اور جرمنی کے سابق ٹینس لیجنڈ بورس بیکر سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں ۔
 زیوریو کا یہ ویڈیو ایک جرمن ڈیزائنر ، فلپ پلین نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیاتھی لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس ویڈیو کو بنانے کے وقت کا کوئی اشارہ نہیں مل سکا ہے۔ زیوریو کی ٹیم نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
 ۲۳؍سالہ زیوریو نے سربیا اور کروشیا میں حال ہی میں منعقدہ ایڈریا ٹور میں عالمی نمبروَن   کھلاڑی نوواک جوکووچ کے ساتھ حصہ لیاتھا جس میں جوکووچ ، گریگور دمتروف ، بورنا کورچ اور وکٹر ٹریکی کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔ زیوریو اور ان کی ٹیم کا ٹیسٹ منفی آیا لیکن انہوں نے خود کو تنہائی میں رکھا اور باقاعدگی سے ٹیسٹ کروا یا۔ زیوریو نے خود کو تنہائی میں رکھنے کا بھی دعویٰ کیا۔ لیکن کلب میں ان کے ڈانس کرنے کا ویڈیو سامنے آگیا۔
 کرگیوس نےزیوریو کو `خودغرض شخص قرار دیا،  اس سے ناراض ۶؍ بار کے گرینڈ سلیم فاتح بیکر نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ کرگیوس نے کہا کہ مجھے دنیا میں بہت سی متنازع چیزیں نظر آتی ہیں لیکن زیوریو کو اس طرح دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ آپ اتنے خود غرض کیسے ہو سکتے ہیں؟ 
 بیکر نے ٹویٹر پر کرگیوس کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو کوئی کھلاڑی کو اس طرح کے بیان دیتا ہے وہ میرا دوست نہیں ہوسکتا۔ آئینے میں دیکھیں اور سوچیں کہ آپ ہم سے بہتر ہیں۔ اس کے جواب میں کرگیوس نے لکھا کہ بورس ، میں کسی سے سامنا نہیں کر رہا ہوں اور نہ ہی کسی کو شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ عالمی وبا ہے اور اگر کوئی الیکس (الیگزینڈر زیوریو) جیسی احمقانہ حرکتیں کرتا ہے تو میں اس کے لئے اس پر تنقید کروں گا۔ یہ ایک سادہ سی چیز ہے۔ بیکر نے پھر لکھا کہ ہم سب کووڈ۱۹؍ نامی ایک وبا کے بیچ رہ رہے ہیں۔ یہ خوفناک ہے اور یہ بہت سارے لوگوں کو ہلاک کررہی ہے… ہمیں اپنے پیاروں کی حفاظت کرنی چاہئے لیکن پھر بھی ایسا سلوک کرنا ٹھیک نہیں ہے۔کرگیوس نے لکھا کہ سوچنے کا یہ ایک عجیب و غریب طریقہ ہے چمپئن۔ میں صرف لوگوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK