Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان ریلوے اسٹیشن حملہ کیس:راج ٹھاکرے تمام الزامات سے بری

Updated: May 22, 2026, 4:39 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

چیف جیوڈیشل مجسٹریٹ نے استغاثہ کے شواہد کو ناکافی پایا ،دفاعی وکلاء کے دلائل کو درست تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔

MNS chief Raj Thackeray way court hearing. Photo: PTI
ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرےعدالت میںپیشی کیلئے جاتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

طویل عرصے سے زیرِ بحث کلیان ریلوے اسٹیشن حملہ کیس میں مہاراشٹر نونرمان سینا ( ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے کو ایک بڑی قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تھانے کی ایک مقامی عدالت نے ۱۸ ؍سال پرانے اس ہائی پروفائل مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے راج ٹھاکرے اور ان کے دیگر ۶؍ ساتھیوں کو تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا ہے۔ چیف جیوڈیشل مجسٹریٹ نے استغاثہ کی طرف سے ٹھوس ثبوت پیش نہ کرنے اور دفاعی وکیلوں کے دلائل کو درست تسلیم کرتے ہوئے یہ اہم فیصلہ صادر فرمایا۔

یہ بھی پڑھئے : منتقلی کی پالیسی کیخلاف نرسوں کا احتجاج، تبادلے کے احکامات واپس لینے کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق ۲۰۰۸ء میں کلیان ریلوے اسٹیشن پر ریلوے میں ملازمتوں کے لیے امتحانات منعقد کیے جا رہے تھے۔ اس امتحان میں شرکت کیلئے ریاست سے باہر خصوصاً بہار اور اتر پردیش سے بڑی تعداد میں نوجوان آئے تھے۔ اس دوران مہاراشٹر نونرمان سینا نے ریلوے بھرتیوں میں مقامی مراٹھی نوجوانوں کو نظر انداز کر کے غیر مقامی امیدواروں کو ترجیح دینے کا الزام لگاتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا جس نے بعد میں پُرتشدد رخ اختیار کرلیا اور امتحانات کے لیے آئے ہوئے امیدواروں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد کلیان پولیس نے راج ٹھاکرے اور ایم این ایس کے ۸ ؍سرکردہ کارکنوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا تھا۔ طویل عرصے تک یہ کیس کلیان کورٹ میں چلتا رہا تاہم انتظامی وجوہات کی بنا پر بعد میں اسے تھانے کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے : غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متاثرین کا برا حال

مقدمہ کی طویل کارروائی کے دوران نامزد ۸؍کارکنوں میں سے ۲؍ کی موت ہوچکی ہے۔گزشتہ ۶؍مئی کو ہونے والی اہم سماعت کے دوران راج ٹھاکرے خود عدالت میں پیش ہوئے تھے جن کی آمد کے پیشِ نظر عدالت کے باہر پارٹی کارکنوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا تھا۔ سماعت کے دوران راج ٹھاکرے کے وکلاء شلیش سڈیکر، شبھم کانڈے اور سہیاجی شندے نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ سیاسی دشمنی پر مبنی اور مکمل طور پر من گھڑت ہے اور ان کے موکل کے خلاف کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں ہے۔ دوسری طرف سے سرکاری وکیل پرمیلا چوہان نے حکومت کا موقف پیش کیا۔جمعرات کو کیس کی حتمی سماعت کے دوران چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اے. وی. کلکرنی نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ ملزمین کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔عدالت نے دفاعی وکلاء کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے راج ٹھاکرے سمیت تمام چھ  ملزمین کو بری کرنے کا حکم جاری کیا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ایم این ایس کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اسے حق کی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK