• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

``فری فلسطین ٹور‘‘ کے اختتام پر میکلمور کا جذباتی بیان، کہا ’’میں خود کو جذباتی محسوس کر رہا ہوں‘‘

Updated: November 04, 2026, 4:08 PM IST | New York

امریکی ریپر اور گلوکار میکلمور (Macklemore) نے اپنے ’فری فلسطین ٹور‘ (Free Palestine Tour) کے اختتام کے بعد ایک جذباتی پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس دورے کے دوران ملنے والی حمایت، لوگوں کے ردعمل اور فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت خود کو شدید جذبات سے مغلوب محسوس کر رہے ہیں۔

Macklemore.Photo:X
میکلمور۔ تصویر:ایکس

امریکی ریپر اور گلوکار میکلمور (Macklemore) نے اپنے ’فری فلسطین ٹور‘ (Free Palestine Tour) کے اختتام کے بعد ایک جذباتی پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس دورے کے دوران ملنے والی حمایت، لوگوں کے ردعمل اور فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت خود کو شدید جذبات سے مغلوب محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دورہ ان کے لیے محض موسیقی کی تقریبات کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ رہا جس نے انہیں جذباتی طور پر بھی متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھئے:یمن کے شہری جنگ کی سفاکانہ قیمت ادا کررہے ہیں،۳؍ لاکھ بے گھر: اقوام متحدہ

میکلمور نے ۳۰؍ اکتوبر کو لندن کے ویمبلی ایرینا میں اپنے اس دورے کا آخری کنسرٹ پیش کیا۔ اس موقع پر ۱۲؍ ہزار ۵۰۰؍سے زائد شائقین موجود تھے۔ کنسرٹ میں متعدد معروف فنکاروں نے بھی شرکت کی، جن میں آئرش گلوکار ہوزیئر (Hozier)، برطانوی گلوکارہ پالوما فیتھ (Paloma Faith)، میوزک گروپ کنی کیپ (Kneecap)، آجا مونیٹ، وک مینسہ اور دیگر فنکار شامل تھے۔میکلمور نے سوشل میڈیا پر کنسرٹ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس وقت ہر اس موسیقار، مقرر اور شخص کے لیے بے حد شکر گزار ہیں جس نے لندن میں منعقدہ اس پروگرام میں شرکت کی۔ انہوں نے اس پورے دورے کو اپنی زندگی کا اب تک کا پسندیدہ ترین منصوبہ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کی زندگی، آزادی اور حقوق کی حمایت کرنا آج کے دور میں ایک متنازع موضوع بن چکا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے آزادی، وقار، تحفظ اور مساوی حقوق کا مطالبہ کرنے کی بھی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود لوگوں نے اپنی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ میکلمور نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دورے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ جب لوگ اجتماعی طور پر اپنی آواز، اسٹیج اور عوامی پلیٹ فارم کو دوسروں کی آزادی اور حقوق کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا صرف فنکاروں کو نہیں بلکہ ان تمام شائقین کو بھی دیا جنہوں نے پروگراموں میں شرکت کرکے اس مہم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق جب لوگ یہ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں کہ کسی مسئلے پر آواز اٹھانے سے ان کے پیشہ ورانہ مستقبل یا کریئر پر کیا اثر پڑے گا اور اجتماعی آزادی کو ترجیح دیتے ہیں تو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ ہفتے ان کے لیے انتہائی مصروف اور مشکل رہے۔ اس دوران مختلف فنکاروں سے رابطے، پروگراموں کی منصوبہ بندی، انتظامی امور اور مسلسل میٹنگز کے بعد اب انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے سب لوگ آخرکار سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:انیل کپور نے شاہ رخ خان سے پہلی ملاقات اور ’منت‘ سے جڑا قصہ بتایا

میکلمور نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی بہت سا کام باقی ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کا سفر طویل ہے، تاہم ان کے نزدیک یہ دورہ لوگوں کے دلوں میں محبت، یکجہتی اور انسانیت کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ثابت ہوا ہے۔ لندن کے آخری کنسرٹ کے دوران میکلمور نے غزہ کی صورت حال اور فلسطینی عوام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ سوشل میڈیا پر مسلسل غزہ میں ہونے والی تباہی اور انسانی مصائب کی تصاویر دیکھ رہے تھے تو ایک وقت ایسا آیا جب خاموش رہنا ان کے لیے اپنی بات کہنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کو بہادری یا دلیری کا نام نہیں دیتے بلکہ اسے انسانیت کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود بچے بھی ہمارے اپنے بچوں کی طرح ہیں اور انسانیت کی بنیاد پر ان کے دکھ درد کو محسوس کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ دنیا کے تمام انسانوں کے مساوی حقوق اور عزت و وقار سے جڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ میکلمور کا اصل نام بینجمن ہیگرٹی (Benjamin Haggerty) ہے۔ انہیں ستمبر ۲۰۲۶ء میں امریکی گلوکار ایڈ شیرن کے ’لوپ ٹور‘ (Loop Tour) سے الگ کردیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب میکلمور نے نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ایک کنسرٹ کے دوران غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے فلسطین کی آزادی کی حمایت میں آواز بلند کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK