• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یمن کے شہری جنگ کی سفاکانہ قیمت ادا کررہے ہیں،۳؍ لاکھ بے گھر: اقوام متحدہ

Updated: November 04, 2026, 12:12 PM IST | New York

اقوام متحدہ کے ریلیف چیف ٹام فلیچر نے ایک بیان میں کہا کہ یمن کے شہری حالیہ جنگ کی سفاکانہ قیمت ادا کر رہے ہیں، جبکہ اس جنگ میں اب تک ۳؍ لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں،اس کے علاوہ تعز میں ضروری اشیاء کی قلت ہورہی ہے، تاہم انہوں نے فریقین سے امداد کے لیے سڑکیں کھولنے کا مطالبہ کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کے ریلیف چیف  ٹام فلیچرنے پیر کو خبردار کیا کہ یمن کے شہری بڑھتے ہوئے تنازعے کی قیمت اداکرہے ہیں، جبکہ اگست سے اب تک تقریباً۳؍ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔فلیچر نے کہا کہ محصور شہر تعز میں سڑکیں بند ہیں اور سامان ختم ہو رہا ہے، جہاں تقریباً ۱۰؍ لاکھ لوگ رہتے ہیں، جہاں پانی کا ذخیرہ آدھا رہ گیا ہے اور کھانے کی قیمتوں میں کم از کم۵۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپتالوں میں ایندھن اور ادویات ختم ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے یمن کے وزیر خارجہ افراح عبدالعزیز الزوبا سے بحران کے بارے میں بات کی، انہوں نے مزید کہا کہ انسانی ہمدردی کے شراکت دار تقریباً۲؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار بے گھر افراد تک پہنچ چکے ہیں۔ بعد ازاں فلیچر نے کہا، ’’ہمارے مطالبات واضح ہیں۔ سڑکیں کھولیں اور انہیں جانے دیں۔ شہریوں کو لڑائی کے ذریعے یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔‘‘

 

انہوں نے یمن میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے اسٹاف ممبر محمد الشامی کی حوثی حراست میں موت پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا، انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے عملے ۷۰؍ اور درجنوں دیگر انسانی ہمدردی کے کارکن اب بھی حراست میں ہیں۔انہوں نے کہا، ’’وہ سودے بازی کی چیزیں نہیں ہیں۔ انہیں رہا کرو۔‘‘واضح رہے کہ الشامی، جنہوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) کے دفتر کے لیے کام کیا، کو۶؍ جون۲۰۲۴ء سے حوثی گروپ نے من مانے طور پر حراست میں رکھا تھا۔تاہم الشامی حوثی حراست میں مرنے والے دوسرے اقوام متحدہ کے ملازم تھے۔علاوہ ازیں احمد باعلوی، جو ورلڈ فوڈ پروگرام کے قومی عملے کے رکن ہیں، کو شمالی یمن میں مقامی حکام نے۲۳؍ جنوری ۲۰۲۵ء سے من مانی طور پر حراست میں رکھا تھا اور اسی سال۱۱؍ فروری کو انتقال کر گئے تھے۔
ذہن نشین رہے کہ یمن۲۰۱۴ء سے تنازعے میں الجھا ہوا ہے، جب حوثی افواج نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مارچ۲۰۱۵ء میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کا آغاز ہوا۔اس تنازعے نے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے، جس سے لاکھوں لوگ انسانی امداد پر منحصر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK