Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ:’’جنا نائیگن‘‘ پائریسی کیس میں دو ملزمین کی ضمانت مسترد

Updated: July 03, 2026, 4:05 PM IST | Chennai

جنوبی ہندوستانی سنیما کے سپر اسٹار اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے تھلاپتی کی فلم ’’ جنانائیگن‘‘ کو لے کر تنازع مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ مدراس ہائی کورٹ نے پائریسی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو ملزمین کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

Jana Nayagan.Photo:INN
جنانائیگن۔ تصویر:آئی این این

جنوبی ہندوستانی سنیما کے سپر اسٹار اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے تھلاپتی کی فلم ’’ جنانائیگن‘‘ کو لے کر تنازع مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ مدراس ہائی کورٹ نے پائریسی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو ملزمین کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
سماعت کے دوران چنئی سائبر کرائم پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ’’جنانائیگن‘‘ کے پائریٹڈ ورژن کو تقریباً ۱۲؍ ملین لوگوں نے دیکھا ہے۔ فلم کو ابھی تک سنیما گھروں میں باضابطہ طور پر ریلیز نہیں کیا گیا ہے اور اسے ابھی تک سینسر بورڈ سے حتمی منظوری نہیں ملی ہے۔
کیس اس وقت شروع ہوا جب کے وی این  پروڈکشن نے فلم کے آن لائن لیک ہونے کی شکایت درج کرائی۔ شکایت کے بعد، چنئی سائبر کرائم پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا اور پائریسی کے پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے۲۱؍ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ تفتیش کے دوران متعدد ملزمین کو گرفتار کیا گیا جب کہ دو ابھی تک مفرور بتائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سنی دیول اور اکشے کھنہ کا ’اکّا‘ میں ایک ساتھ آنا، واقعی خدا کا منصوبہ ہے: سِدھارتھ


گرفتار ملزمین میں رجنی اور جے پرکاش نے مدراس ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ جب کیس جسٹس سی کمارپن کے سامنے سماعت کے لیے آیا تو پولیس نے معاملے کی سنگینی کو تفصیل سے بیان کیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ نیٹ ورک کے پیچھے والوں نے پہلے فلم کی ڈجیٹل فائلیں حاصل کیں اور پھر انہیں مختلف ذرائع سے ملا کر مکمل پائریٹڈ ورژن بنایا۔ اس کے بعد اسے انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیا گیا، جہاں سے یہ تیزی سے پائریسی ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز تک پہنچ گیا۔ یہ پورا آپریشن اتنا تیز تھا کہ لاکھوں لوگ اس کی ریلیز سے پہلے ہی فلم دیکھ چکے تھے۔
حکومت نے یہ بھی دلیل دی کہ کیس کی تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور اہم شواہد کی جانچ کرنا باقی ہے۔ اس بنیاد پر پولیس نے ملزم کو ضمانت دینے کی مخالفت کی۔ عدالت نے ان دلائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے دونوں ملزمین کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

یہ بھی پڑھئے:اسپین۲۰۱۰ء کے فائنل کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ کامیاب


یہ پورا معاملہ ۹؍ اپریل  ۲۰۲۶ء کی رات کو شروع ہوا، جب ’’جنانائیگن ‘‘ کے کلپس اور بعد میں پوری فلم آن لائن لیک ہو گئی۔ پروڈکشن ہاؤس نے فوری طور پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور غیر قانونی اسٹریمنگ روکنے کا حکم حاصل کیا۔ عدالت نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو ان ویب سائٹس اور لنکس کو بلاک کرنے کی بھی ہدایت کی جہاں فلم غیر قانونی طور پر دستیاب تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK