• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملیالم سپر اسٹار مموٹی کو کیرالا پولیس کا ’سائبر سیکوریٹی کیپٹن‘مقرر کردیا گیا

Updated: November 01, 2026, 7:14 PM IST | Mumbai

ملیالم فلموں کے معروف اداکار مموٹی کو کیرالا پولیس نے سائبر جرائم کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے اپنا ’سائبر سیکوریٹی کیپٹن‘ مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان ریاست کے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے ۳۱ ؍اکتوبر کو کوچی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا۔

Mammooty.Photo:INN
مموٹی۔ تصویر:آئی این این

ملیالم فلموں کے معروف اداکار مموٹی کو کیرالا پولیس نے سائبر جرائم کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے اپنا ’سائبر سیکوریٹی کیپٹن‘ مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان ریاست کے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے ۳۱ ؍اکتوبر کو کوچی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا۔ اس موقع پر کیرالا پولیس کے سائبر ونگ کی جانب سے شروع کی گئی نئی مہم ’کلک‘ (CLICK –Community-Led Initiative for Cyber Resilient Kerala) کا بھی افتتاح کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد عوام کو آن لائن فراڈ، ڈجیٹل دھوکہ دہی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے محفوظ رہنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا اور ۲۰۲۷ ءتک کیرالا کو سائبر خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ریاست بنانا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:زمان، منہاس اور بیگ کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے سہ فریقی سیریز جیتی

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے کہا کہ سائبر جرائم کے خلاف صرف واردات ہونے کے بعد تحقیقات کرنا کافی نہیں، بلکہ ایسی مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے جرائم کو پہلے ہی روکا جاسکے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں عام زندگی کا بڑا حصہ انٹرنیٹ اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی سے وابستہ ہوچکا ہے، اس لیے سائبر سیکوریٹی ہر شہری کی بنیادی ضرورت بن گئی ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ سال کیرالا میں سائبر فراڈ سے متعلق ۵۴ ؍ہزار سے زیادہ شکایات درج کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آن لائن دھوکہ دہی ایک سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے، جبکہ متعدد واقعات ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن کی شکایات درج نہیں کرائی جاتیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں، موبائل ایپلی کیشنز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھیں، ذاتی معلومات اور اہم دستاویزات محفوظ رکھیں اور نامعلوم یا مشتبہ لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔  
سائبر سیکوریٹی کیپٹن مقرر ہونے کے بعد مموٹی نے کہا کہ نئی نسل کے نوجوانوں کو سائبر جرائم کے خلاف مہم میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق صرف کسی ایک شخص کو کیپٹن مقرر کرنے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا، بلکہ طلبہ سمیت معاشرے کے ہر فرد کو ڈجیٹل دنیا کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ اداکار نے انٹرنیٹ کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے ذریعے بہت سے فائدہ مند کام انجام دیے جاسکتے ہیں، لیکن ان کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور جعلی شناخت اختیار کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے عوام کو مشتبہ پیغامات، جعلی پروفائلز اور غیر معمولی آن لائن ہدایات کی تصدیق کرنی چاہیے۔ 
مموٹی نے والدین کو بھی بچوں کے اسمارٹ فون استعمال کے حوالے سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے رونے یا ضد کرنے پر انہیں خاموش کرانے کے لیے فوراً اسمارٹ فون تھما دینا مناسب عادت نہیں ہے۔ ان کے مطابق جب تک بچوں میں موبائل فون ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی سمجھ پیدا نہ ہوجائے، والدین انہیں بنیادی سہولتوں والے سادہ موبائل فون فراہم کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو ڈجیٹل دنیا کے فوائد سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات اور غلط استعمال کے بارے میں بھی سمجھانا ضروری ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:پرکاش راج کے سیاسی مؤقف سے خاندان بھی پریشان رہا، اہلیہ پونی ورما کا انکشاف

’کلک‘ مہم کے تحت کیرالا پولیس نے ریاست میں تقریباً ایک ہزار سائبر محفوظ گاؤں قائم کرنے اور کالجوں میں ۵۰۰ ؍سے زیادہ سائبر ریزیلینس مراکز بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ان مراکز کے ذریعے طلبہ اور عام شہریوں کو سائبر خطرات کی شناخت، آن لائن فراڈ سے بچاؤ اور کسی سائبر حملے یا دھوکہ دہی کی صورت میں فوری اقدامات کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے میں پولیس، تعلیمی اداروں، صنعتوں، سماجی تنظیموں اور نوجوانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔ پولیس سائبر ریزیلینس مراکز کی قیادت کرے گی، جبکہ کالج معاون مراکز کے طور پر کام کریں گے اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ادارے تکنیکی معلومات اور تربیت فراہم کرنے میں تعاون کریں گے۔ اس کے علاوہ سائبر کیپٹنز اور سائبر فرسٹ ریسپانڈرز کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ مقامی سطح پر سائبر جرائم کے خلاف فوری آگاہی اور مدد کا انتظام ہوسکے۔ 
 وزیر داخلہ نے عوام کو مشورہ دیا کہ اگر کوئی شخص آن لائن مالی دھوکہ دہی کا شکار ہوجائے تو اسے فوری طور پر قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر ۱۹۳۰ پر اطلاع دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت شکایت درج کرانے سے متاثرہ شخص کو ضروری مدد فراہم کرنے اور مالی نقصان کو محدود کرنے کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ۳ نومبر سے وزیر داخلہ کا دفتر مکمل طور پر ڈجیٹل نظام کے تحت کام کرے گا۔ اس کے ذریعے عوام اپنی شکایات آن لائن جمع کراسکیں گے اور ایک ڈیش بورڈ کی مدد سے ان پر ہونے والی کارروائی کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔  تقریب میں ریاستی پولیس سربراہ روادا اے چندر شیکھر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پی وجین، پولیس مشیر اے ہیماچندرن، کوچی کی میئر وی کے منی مول، کوچی سٹی پولیس کمشنر آر نشانتھنی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ مموٹی نے اس موقع پر منتخب طلبہ کو ’کلک کیپٹن‘ کی ٹوپیاں بھی پیش کیں، تاکہ وہ اپنے تعلیمی اداروں اور معاشرے میں سائبر تحفظ کے سفیر کے طور پر کام کرسکیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK