• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا کے خلاف مارکو جینسن نے وقار یونس کا ریکارڈ توڑ دیا

Updated: October 28, 2026, 9:03 PM IST | Cape Town

جنوبی افریقہ کے تیز گیند باز مارکو جینسن نے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی۱۰۰؍ وکٹیں مکمل کرلیں۔ نیولینڈز، کیپ ٹاؤن میں کھیلے جارہے اس مقابلے کے دوسرے دن میٹ رینشا کو آؤٹ کرتے ہی جینسن نے یہ اہم سنگ میل عبور کیا۔

Marco Jansen.Photo:INN
مارکو جینسن۔ تصویر:آئی این این

 جنوبی افریقہ کے تیز گیند باز مارکو جینسن نے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی۱۰۰؍ وکٹیں مکمل کرلیں۔ نیولینڈز، کیپ ٹاؤن میں کھیلے جارہے اس مقابلے کے دوسرے دن میٹ رینشا کو آؤٹ کرتے ہی جینسن نے یہ اہم سنگ میل عبور کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ انہوں نے پاکستان کے سابق عظیم تیز گیند باز وقار یونس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں گیندوں کی تعداد کے لحاظ سے تیزی سے ۱۰۰؍ وکٹیں مکمل کرنے والے گیند بازوں کی فہرست میں اپنی جگہ بنالی۔
مارکو جینسن نے اپنے ٹیسٹ کریئر کے محض ۲۴؍ویں میچ میں ۱۰۰؍ وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح انہوں نے جنوبی افریقہ کے سابق تیز گیند باز پیٹر پولاک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تاہم، جنوبی افریقہ کی جانب سے سب سے کم میچوں میں ۱۰۰؍ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ اب بھی ورنن فلینڈر کے پاس ہے، جنہوں نے صرف ۱۹؍ ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ ڈیل اسٹین اس فہرست میں دوسرے مقام پر ہیں، جنہوں نے اپنے ۲۰؍ویں ٹیسٹ میچ میں ۱۰۰؍ وکٹیں مکمل کی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:نصیرالدین شاہ کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاجی طلبہ کی حمایت میں بیان

 ٹیسٹ کرکٹ میں گیندوں کی تعداد کے لحاظ سے تیزی سے  ۱۰۰؍ وکٹیں مکمل کرنے والوں کی فہرست میں بھی مارکو جینسن نے اہم مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے صرف۳۸۶۴؍  گیندیں پھینک کر اپنی ۱۰۰؍ویں ٹیسٹ وکٹ حاصل کی، جبکہ پاکستان کے سابق فاسٹ بولر وقار یونس کو اس سنگ میل تک پہنچنے کے لیے  ۳۹۷۶؍ گیندیں درکار ہوئی تھیں۔ اس طرح جینسن نے وقار یونس کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس فہرست میں تیسرے مقام پر پہنچ گئے۔ اس ریکارڈ میں جنوبی افریقہ کے سابق تیز گیند باز ڈیل اسٹین سرفہرست ہیں، جنہوں نے محض  ۳۶۳۱؍گیندیں پھینک کر ۱۰۰؍ ٹیسٹ وکٹیں مکمل کی تھیں۔ مارکو جینسن کی یہ کامیابی ان کی گیند بازی کی صلاحیت، رفتار اور ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل بہتر ہوتی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ تیسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن چائے کے وقفے تک آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر ۱۹۱؍ رنز بنالیے تھے۔ آسٹریلیا کی شروعات اچھی رہی اور ٹریوس ہیڈ اور میٹ رینشا نے پہلی وکٹ کے لیے  ۵۸؍ رنز کی شراکت قائم کی۔ ہیڈ نے ۴۹؍ گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے ۴۱؍ رنز بنائے، لیکن وہ بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
آسٹریلیا کے بلے باز مارنس لبوشین ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد میٹ رینشا اور کیمرون گرین نے تیسرے وکٹ کے لیے ۱۲۶؍ رنز کی اہم شراکت قائم کرکے آسٹریلیا کی اننگز کو سنبھالا۔ رینشا نے ۷۴؍ رنز بنائے، لیکن مارکو جینسن نے انہیں آؤٹ کرکے نہ صرف آسٹریلیا کی اہم شراکت ختم کی بلکہ اپنی ۱۰۰؍ویں ٹیسٹ وکٹ بھی حاصل کرلی۔ کیمرون گرین نے  ۱۱۰؍گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے ۶۵؍ رنز بنائے، تاہم وہ بھی جینسن کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے مارکو جینسن اور سائمن ہارمر نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا کی بیٹنگ پر دباؤ برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ بلے بازی رینکنگ میں ابھیشیک شرما دوبارہ نمبر ایک بن گئے

 اس سے قبل جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں  ۳۲۹؍ رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔ میزبان ٹیم کے لیے اب آسٹریلیا کو جلد آؤٹ کرنا اور پہلی اننگز میں حاصل کیے گئے اسکور کا دفاع کرنا اہم ہوگا۔ دوسری جانب آسٹریلیا کی کوشش ہوگی کہ رینشا اور گرین کی شراکت کے بعد باقی بلے باز بھی ذمہ داری سے کھیلیں اور جنوبی افریقہ کے اسکور کے قریب پہنچ کر میچ میں اپنی پوزیشن مضبوط کریں۔ مارکو جینسن کے لیے یہ میچ انفرادی طور پر یادگار ثابت ہوا ہے۔ وقار یونس جیسے عظیم گیند باز کا ریکارڈ پیچھے چھوڑنا اور ٹیسٹ کرکٹ میں۱۰۰؍ وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنا ان کے کریئر کی ایک اہم کامیابی ہے۔ اب شائقین کی نظریں اس بات پر ہیں کہ جینسن باقی میچ میں جنوبی افریقہ کے لیے مزید کتنی وکٹیں حاصل کرتے ہیں اور دونوں ٹیموں کے درمیان یہ ٹیسٹ مقابلہ کس رخ پر آگے بڑھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK