Updated: October 28, 2026, 9:32 PM IST
| Makkah Mukarrama
مسجد الحرام میں ایک ہی فرض نماز کے لیے حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مسالک کے پیروکار الگ الگ مقامات پر اپنے اپنے امام کے پیچھے جماعت ادا کرتے تھے؛ اکتوبر ۱۹۲۶ء میں علما کی مشاورت اور شاہ عبدالعزیز کی منظوری کے بعد ایک امام کے پیچھے مشترکہ جماعت کا نظام نافذ ہوا، جس نے حرم شریف میں صدیوں سے جاری متعدد جماعتوں کی روایت کا خاتمہ کردیا۔
مسجد الحرام میں نماز کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
مسجد الحرام میں ایک امام کے پیچھے اجتماعی نماز کی ادائیگی کے ۱۰۰؍ سال مکمل ہونے پر حرم شریف کی تاریخ کے ایک اہم انتظامی اور مذہبی فیصلے کی جانب توجہ مبذول ہوئی ہے۔ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء کو شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے دور میں علما کی مشاورت سے یہ فیصلہ نافذ کیا گیا کہ مسجد الحرام میں فرض نمازیں چار الگ الگ جماعتوں کے بجائے ایک امام کی اقتدا میں ادا کی جائیں گی۔ اس سے قبل حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی فقہی مسالک کے پیروکار حرم شریف میں مقررہ الگ مقامات پر اپنے اپنے امام کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔ نئے نظام کے تحت نمازیوں کو ایک جماعت میں جمع کیا گیا اور اس طرح ایک ہی فرض نماز کی متعدد جماعتیں قائم کرنے کا رواج ختم ہوگیا۔ تاریخی روایات کے مطابق مسجد الحرام میں مختلف فقہی مسالک کے لیے الگ مقامات یا مقاماتِ اربعہ قائم تھے۔ ہر مقام پر ایک محراب اور نماز کی امامت کے لیے مخصوص جگہ موجود تھی۔ حنفی امام کا مقام خانۂ کعبہ کے شمالی جانب، مالکی امام کا مقام مغربی جانب، شافعی امام کا مقام زمزم کے کنویں کی عمارت کے بالائی حصے میں اور حنبلی امام کا مقام جنوبی جانب تھا۔ ان مقامات پر متعلقہ فقہی مسلک کے امام نماز پڑھاتے تھے اور پیروکار عموماً اپنے ہی مسلک کے امام کی اقتدا کرتے تھے۔ تاریخی بیانات میں نمازوں کی ادائیگی کی ترتیب مختلف ادوار میں بدلنے کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم شافعی جماعت کو اکثر پہلی جماعت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس انتظام کے نتیجے میں ایک ہی فرض نماز مختلف اوقات میں متعدد مرتبہ ادا کی جاتی تھی۔
یہ روایت کب شروع ہوئی، اس بارے میں مؤرخین کے درمیان مکمل اتفاق نہیں ہے۔ ایک علمی تحقیق کے مطابق مسجد الحرام میں الگ الگ جماعتوں کا رواج پانچویں صدی ہجری کے آخری حصے، یعنی تقریباً ۱۱؍ ویں صدی عیسوی میں سامنے آیا اور کئی صدیوں تک جاری رہا۔ بعض تاریخی حوالوں میں بارہویں صدی عیسوی کے سیاح ابن جبیر کے مشاہدات بھی ملتے ہیں، جن میں حرم شریف میں مختلف جماعتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ابتدا میں اس انتظام کے تحت مختلف مسالک کے پیروکاروں کو اپنی فقہی روایت کے مطابق نماز ادا کرنے کا موقع ملتا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایک ہی نماز کے لیے الگ الگ جماعتوں کا قیام حرم شریف کے انتظام اور نمازیوں کے باہمی اجتماع سے متعلق بحث کا موضوع بن گیا۔ شاہ عبدالعزیز نے حجاز پر اقتدار قائم ہونے کے بعد مسجد الحرام کے انتظامات اور نمازیوں کے درمیان اتحاد کے معاملے پر علما سے مشاورت کی۔ تاریخی بیان کے مطابق اکتوبر ۱۹۲۶ء میں حجاز اور نجد کے علما کے نمائندہ گروہوں نے اس مسئلے پر غور کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مسجد الحرام میں فرض نماز ایک ہی جماعت کی صورت میں ادا کی جائے، خواہ امام کا تعلق کسی بھی فقہی مسلک سے ہو۔ مختلف مسالک سے ائمہ کے نام تجویز کیے گئے، جن میں سے مقررہ اوقات میں امامت کے لیے انتخاب کیا جانا تھا۔ اس انتظام کو شاہ عبدالعزیز کی منظوری حاصل ہوئی اور نمازیوں کے لیے ایک جماعت کے پیچھے نماز ادا کرنے کا نظام نافذ کردیا گیا۔ سعودی تاریخی ذرائع اس فیصلے کو حرم شریف کے انتظامی ارتقا اور نمازیوں کو ایک جماعت میں جمع کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی وزیر کینیڈی کا دعویٰ: ۵۰ کروڑ عربوں نےسائنس میں کچھ کام نہیں کیا؛ عالمی سطح پر تنقید کا سامنا
اس فیصلے کی اہمیت محض نماز کے انتظام تک محدود نہیں تھی۔ حرم شریف دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مرکزی عبادت گاہ ہے، جہاں مختلف زبانوں، قومیتوں اور فقہی روایات سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ساتھ عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ایک جماعت کے نظام نے نماز کے وقت مختلف مسالک کے لیے الگ الگ جگہوں اور الگ امامت کی ضرورت ختم کردی۔ اس کے بعد نمازی ایک ہی امام کی اقتدا میں صفیں قائم کرکے نماز ادا کرنے لگے۔ اس تبدیلی کو سعودی عرب کی ابتدائی انتظامی اصلاحات میں بھی شامل کیا جاتا ہے، جن میں مسجد الحرام کی تعمیر و مرمت، روشنی کے انتظامات اور حرم شریف میں عبادت کے طریقۂ کار کو منظم کرنا شامل تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مسافروں کی جان بچانے والے کپتان سمت مچھار کو متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ اعزاز
مسجد الحرام میں نماز کے اس انتظام کی تاریخ کے حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی ضروری ہے۔ بعض سعودی تاریخی ذرائع، بالخصوص سعودپیڈیا، ایک امام کے پیچھے نماز کے نظام کے آغاز کو ۱۹۲۴ء سے منسوب کرتے ہیں، جبکہ دوسرے تاریخی بیانات اور ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والی سالگرہ کی رپورٹیں ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء کو علما کے اتفاق اور شاہی منظوری کے ساتھ اس فیصلے کے نفاذ کی تاریخ قرار دیتی ہیں۔ اس فرق کی ممکنہ وجہ ابتدائی انتظامی تبدیلیوں اور حتمی طور پر متعدد جماعتوں کے خاتمے کے مراحل کو الگ الگ شمار کرنا ہے۔