ڈینیل میدویدیف نے جمعہ کو دو سیٹس سے پچھڑنے کے باوجود زبردست واپسی کرتے ہوئے ۲۰۲۶ء آسٹریلین اوپن کے چوتھے راؤنڈ میں جگہ بنائی۔ انہوں نے ۵؍ سیٹس تک جاری رہنے والے دلچسپ مقابلے میں ہنگری کے فیبیان ماروزسن کو شکست دی۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 8:05 PM IST | Melbourne
ڈینیل میدویدیف نے جمعہ کو دو سیٹس سے پچھڑنے کے باوجود زبردست واپسی کرتے ہوئے ۲۰۲۶ء آسٹریلین اوپن کے چوتھے راؤنڈ میں جگہ بنائی۔ انہوں نے ۵؍ سیٹس تک جاری رہنے والے دلچسپ مقابلے میں ہنگری کے فیبیان ماروزسن کو شکست دی۔
ڈینیل میدویدیف نے جمعہ کو دو سیٹس سے پچھڑنے کے باوجود زبردست واپسی کرتے ہوئے ۲۰۲۶ء آسٹریلین اوپن کے چوتھے راؤنڈ میں جگہ بنائی۔ انہوں نے ۵؍ سیٹس تک جاری رہنے والے دلچسپ مقابلے میں ہنگری کے فیبیان ماروزسن کو شکست دی۔
سابق عالمی نمبر ایک نے ۳؍ گھنٹے ۴۳؍ منٹ تک جاری رہے میچ میں ۷۔۶، ۶۔۴،۵۔۷،۰۔۶ ، ۳۔۶؍سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے دو سیٹ سے پچھڑنے کے بعد اپنے کیریئر کی پانچویں واپسی کی اور میلبورن پارک میں یہ ان کی چوتھی واپسی تھی۔
میدویدیف میچ سے باہر ہونے کے قریب تھے، لیکن تیسرے سیٹ میں ۵۔۵؍پر فیصلہ کن بریک حاصل کرنے کے بعد مقابلے کا رخ بدل گیا۔ اس کے بعد ۱۱؍ویں سیڈ نے لگاتار نو گیمز جیت کر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور آخرکار میچ اپنے نام کر لیا۔ کورٹ پر انٹرویو کے دوران میدویدیف نے کہا کہ ’’وہ بہت اچھا کھیلے اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر میں ہار گیا تو ہار گیا، لیکن میں بس کوشش کرتا رہوں گا، لڑتا رہوں گا۔ میں نے تھوڑا اور کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ مجھے ہر طرف گھما رہا تھا۔ یہ کام کر گیا، میں بہتر کھیلنے لگا، اس لیے میں اس سے خوش ہوں۔‘‘
WOW 😱
— #AusOpen (@AustralianOpen) January 23, 2026
From 0-4 down, Potapova fight back and we`re back on serve! @wwos • @espn • @tntsports • @wowowtennis • #AO26 pic.twitter.com/2v5BcCBUe2
تین بار کے آسٹریلین اوپن فائنلسٹ نے ۲۰۲۶ء سیزن کا آغاز شاندار فارم میں کیا ہے اور اپنی فتوحات کا سلسلہ ۸؍ میچوں تک بڑھا دیا ہے، جس میں اس ماہ کے آغاز میں برسبین میں اے ٹی پی ۲۵۰؍ ایونٹ کا خطاب جیتنا بھی شامل ہے۔ میدویدیف کا اگلا مقابلہ امریکی کھلاڑی لرنر ٹیئن سے ہوگا، جو پرتگال کے نونو بورگیس کو۶۔۷، ۴۔۶، ۲۔۶؍ سے شکست دے کر آگے بڑھے۔ ٹیئن نے گزشتہ سال کے آسٹریلین اوپن میں دوسرے راؤنڈ کے پانچ سیٹس کے مقابلے میں میدویدیف کو حیران کیا تھا اور اس وقت ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ میں انہیں۱۔۲؍ کی برتری حاصل ہے، جس کے باعث اس ری میچ کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی: سرفراز خان کی شاندار ڈبل سنچری، ممبئی نے حیدرآباد پر شکنجہ کسا
جووک نے پاؤلینی کو شکست دے کر بڑاالٹ پھیر کر دیا
میلبورن ٹاپ ۱۰۰؍ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی ۱۸؍ سالہ ایوا جووک نے ٹورنامنٹ کا اب تک کا سب سے بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے ساتویں سیڈ جیسمین پاؤلینی کو تیسرے راؤنڈ میں۲۔۶، ۶۔۷؍سے شکست دے دی۔اس فتح کے ساتھ ۲۹؍ویں سیڈ جووک پہلی بار کسی گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کے دوسرے ہفتے میں پہنچ گئی ہیں اور یہ ٹاپ ۱۰؍ کھلاڑی کے خلاف ان کی پہلی کامیابی بھی ہے۔ اس سے قبل انہیں پاؤلینی کے خلاف تین میں سے دو میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔میچ کے بعد آن کورٹ انٹرویو میں جووک نے کہا کہ وہ اس فتح کی کافی عرصے سے منتظر تھیں اور مشکل ناکامیوں کے بعد اس رکاوٹ کو عبور کر کے بے حد خوش ہیں۔
جووک نے پہلے سیٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی، تاہم دوسرے سیٹ میں پاؤلینی نے بھرپور مقابلہ کیا۔ اس کے باوجود جووک نے ٹائی بریک میں جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے میچ اپنے نام کیا۔اس نتیجے کے ساتھ جووک کی شاندار پیش رفت جاری ہے، جو گزشتہ سال اسی وقت ۱۹۱؍ویں رینک پر تھیں۔ وہ اگلے راؤنڈ میں یولیا پوتینتسیوا کا سامنا کریں گی۔