Inquilab Logo Happiest Places to Work

میٹ گالا ۲۰۲۶ء: منیش ملہوترہ نے اپنے لباس کے ذریعہ ہنرمندکاریگروں کو خراجِ تحسین پیش کیا

Updated: May 05, 2026, 11:00 AM IST | New York

منیش ملہوترہ نے ممبئی کو خراجِ تحسین پیش کیا، وہ شہر جس نے ان کے کیریئر کو تشکیل دیا اور انہیں فلمی دنیا کا سفر عطا کیا۔ انہوں نے اپنے لباس کو صرف ایک ملبوس نہیں بلکہ ہنر، یادوں اور ٹیم ورک کی ایک کہانی قرار دیا۔

Manish Malhotra.Photo:X
منیش ملہوترا۔ تصویر:ایکس

 منیش ملہوترہ نے ممبئی کو خراجِ تحسین پیش کیا، وہ شہر جس نے ان کے کیریئر کو تشکیل دیا اور انہیں فلمی دنیا کا سفر عطا کیا۔ انہوں نے اپنے لباس کو صرف ایک ملبوس نہیں بلکہ ہنر، یادوں اور ٹیم ورک کی ایک کہانی قرار دیا۔ منیش ملہوترہ نے ۲۰۲۵ء میں پہلی بار شرکت کے بعد پیر کے روز میٹ گالا ۲۰۲۶ء میں دوبارہ شرکت کی۔ اس سال ڈیزائنر نے اپنے لباس کے ذریعے ممبئی اورہندوستان کے ماہر کاریگروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ منیش نے ایک خاص طور پر تیار کردہ سیاہ بندگلہ لباس پہنا، جس کے ساتھ ایک شاندار کیپ تھی، جسے بنانے میں تقریباً ۹۶۰؍ گھنٹے لگے اور اس میں ممبئی اور دہلی کے۵۰؍ سے زائد کاریگروں نے حصہ لیا۔ اس لباس میں باریک دھاگے کا کام، پھولوں کے نقش و نگار، کاریگروں سے متاثر تھری ڈی مجسمے، میجرنگ ٹیپ کی تفصیلات، اور یہاں تک کہ ان کاریگروں کے دستخط بھی شامل تھے جنہوں نے اس کو تیار کیا۔

 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Manish Malhotra (@manishmalhotra05)


انسٹاگرام پر اپنے لباس کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے منیش نے کہا کہ وہ اس انداز کو نہایت ذاتی بنانا چاہتے تھے اور یہ ممبئی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی شہر ان کے کیریئر، فلمی سفر اور ڈیزائن کی سوچ کی بنیاد بنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لباس صرف ایک ملبوس نہیں بلکہ ہنر، یادوں اور باہمی تعاون کی ایک کہانی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میٹ گالا ۲۰۲۶ء: جعفر جیکسن نے فلم کی کامیابی کے بعد مائیکل جیکسن سے متاثر لباس پہنا


منیش نے لکھا’’میٹ گالا میں اپنی شرکت کے لیے میں کچھ ایسا تخلیق کرنا چاہتا تھا جو نہایت ذاتی ہو۔ممبئی کی عکاسی، وہ شہر جس نے میرے سفر، میری فلمی دنیا اور میرے ڈیزائن کے احساس کو شکل دی، ساتھ ہی وہ اٹیلیر جو ہر روز میرے وژن کو حقیقت میں بدلتا ہے۔میرا ورک فیملی، ایک کلاسک ہندوستانی بندگلہ جیسا کوئی نہیں۔یہاں ایک آرکیٹیکچرل کیپ کے ساتھ، جسے ۹۶۰؍ گھنٹوں میں ممبئی اور دہلی کے۵۰؍ سے زیادہ کاریگروں نے تیار کیا۔ میرے لیے یہ صرف ایک لباس نہیںیہ ہنر، یادداشت اور اشتراک کی ایک کہانی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:متحدہ عرب امارات کے فجیرہ پر ڈرون حملہ، تین ہندوستانی شہری زخمی


قریب سے دیکھنے پر کیپ میں کئی ناموں کے ساتھ ساتھ مقامی ٹرین، سی لنک، اور ممبئی کے اسکائی لائن کے دیگر عناصر کے نقش بھی نظر آتے ہیں۔ یہی نہیں، انہوں نے اپنی کیپ کے کندھوں پر سلائی مشینوں پر کام کرتے درزیوں کے تھری ڈی مجسمے بھی شامل کئے۔ یہ قدم عالمی فیشن میں ہندوستانی ہنر کو ایک مضبوط آواز کے طور پر پیش کرنے کے لیے اٹھایا گیا۔ اس خاص لباس کو تیار کرنے کے لیے ڈوری ورک، چکنکاری، کسب اور زردوزی جیسی مختلف تکنیک استعمال کی گئی۔ انہوں نے لکھا’’ڈوری، زردوزی، چکنکاری اور کسب کی کڑھائی ایک بیانیہ کی صورت میں یکجا ہوتی ہیں۔ اس لباس میں خود کاریگروں کے نام اور دستخط شامل ہیں۔ہر اس ہاتھ اور ہر اس لمحے کو خراجِ تحسین جو اس کی تخلیق کا حصہ بنا۔ باریک ہاتھ کی کڑھائی ممبئی کے فلمی مقامات کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ تھری ڈی مجسماتی عناصر ان کاریگروں کو سراہتے ہیں جنہوں نے اس کو تیار کیا۔ یہ انداز ایک جشن بھی ہے اور ایک یاد دہانی بھی کہ ہم کہاں سے آئے ہیں اور کس طرح ہندوستانی ہنر عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK