• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں میں لت پیدا کرنے کے الزام پر میٹا اور یوٹیوب کیخلاف امریکی عدالت میں مقدمہ

Updated: February 11, 2026, 2:41 PM IST | California

کیلیفورنیا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک اہم مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے، جس میں میٹا اور یوٹیوب پر بچوں کیلئے جان بوجھ کر نشہ آور پلیٹ فارمز بنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ مقدمہ پہلی بار اس سوال کا تعین کر سکتا ہے کہ آیا سوشل میڈیا کمپنیاں بچوں کی ذہنی صحت کو پہنچنے والے نقصان کی قانونی طور پر ذمہ دار ہیں یا نہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

میٹا، جو فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ہے اور گوگل کی ملکیت یوٹیوب پر پیر (۹؍ فروری) کو بچوں میں ’’لت پیدا کرنے‘‘ کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب کیلیفورنیا میں بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک نہایت اہم مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا۔ اس مقدمے میں میٹا اور یوٹیوب پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ وہ بچوں کیلئے نشہ آور بن جائیں۔ یہ ان اولین مواقع میں سے ایک ہے جب کوئی جیوری براہِ راست اس بات پر غور کرے گی کہ آیا سوشل میڈیا کمپنیاں بچوں کی ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کی قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرائی جا سکتی ہیں یا نہیں۔ 
لاس اینجلس کی ایک جیوری کے سامنے چلنے والا یہ مقدمہ امریکہ بھر میں دائر کئے گئے سیکڑوں اسی نوعیت کے مقدمات کیلئے ایک اہم قانونی مثال بن سکتا ہے۔ اس مقدمے کا مرکز۲۰؍ سالہ خاتون ہیں، جنہیں عدالتی دستاویزات میں کیلِی جی ایم کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بچپن میں سوشل میڈیا کی لت لگنے کے باعث انہیں شدید ذہنی نقصان اٹھانا پڑا۔ ابتدائی دلائل میں مدعی کے وکیل مارک لینئیر نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر نوجوان صارفین کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے پلیٹ فارمز تیار کئے۔ انہوں نے جیوری سے کہا: ’’یہ مقدمہ تاریخ کی دو امیر ترین کارپوریشنز کے بارے میں ہے جنہوں نے بچوں کے دماغوں میں لت پیدا کی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مہاجر مخالف احتجاج کے بیچ رپورٹ: ہندوستانی کمیونٹی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی

بچوں کے کھلونوں کی اینٹیں جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ’’اے، بی، سی‘‘ جتنا آسان ہے:
اے: لت (Addiction)، 
بی : دماغ (Brains)، 
سی: بچے (Children)۔ 
لینئیر نے دلیل دی کہ کمپنیوں نے زیادہ سے زیادہ مصروفیت حاصل کرنے کیلئے ایسے نظام بنائے جو جوئے کے طریقۂ کار سے مشابہ ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہ صرف ایپس نہیں بناتے، یہ جال بچھاتے ہیں، ‘‘ اور مزید کہا کہ میٹا اور یوٹیوب نے ’’ڈیزائن کے ذریعے لت‘‘ کو فروغ دیا۔ انہوں نے جیوری کو بتایا کہ کیلِی نے چھ سال کی عمر میں یوٹیوب استعمال کرنا شروع کیا، اور اس کے خاندان کو کبھی یہ خبردار نہیں کیا گیا کہ ’’مقصد ناظرین کو عادی بنانا ہے‘‘ یا یہ کہ الگورتھم پر مبنی لت بچوں کیلئے کس قدر خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس مقدمے کو ’’بیل ویدر‘‘ ٹرائل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، یعنی اس کا فیصلہ مستقبل میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات اور ممکنہ ہرجانے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے ہندوستان پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی: روسی وزیر خارجہ کا الزام

کمپنیوں نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا
میٹا کے وکلا نے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان خاتون کی مشکلات کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا نہیں تھا۔ دفاعی وکیل پال شمٹ نے جیوری سے سوال کیا:’’اگر انسٹاگرام کو کیلِی کی زندگی سے نکال دیا جائے اور باقی سب کچھ ویسا ہی رہے، تو کیا اس کی زندگی مکمل طور پر بدل جائے گی، یا وہ آج بھی انہی مسائل سے دوچار ہوتی؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ذہنی مسائل میں ذاتی عوامل، جیسے بُلنگ اور خاندانی مسائل، زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یوٹیوب نے بھی الزامات کی تردید کی۔ کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ یہ دعوے ’’بالکل درست نہیں ‘‘ ہیں، اور کم عمر صارفین کیلئے حفاظتی ٹولز متعارف کرانے کی کوششوں کی طرف اشارہ کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK