Inquilab Logo Happiest Places to Work

موڈی نے اشارہ دیا، پنت کی کپتانی پر غور ہوگا

Updated: May 24, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کی ٹیبل میں نیچے سے دوسرے نمبر پر رہنے کے بعد ٹیم کی لیڈرشپ میں تبدیلی پر غور کر سکتی ہے۔ ٹیم ۲۰۲۵ء میں بھی ساتویں نمبر پر رہی تھی۔

Tom Moody.Photo:X
ٹام موڈی۔ تصویر:ایکس

لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کی ٹیبل میں نیچے سے دوسرے نمبر پر رہنے کے بعد ٹیم کی لیڈرشپ میں تبدیلی پر غور کر سکتی ہے۔ ٹیم ۲۰۲۵ء میں بھی ساتویں نمبر پر رہی تھی۔ایل ایس جی کے گلوبل ڈائریکٹر آف کرکٹ ٹام موڈی نے سیزن ختم ہونے کے بعد کہا کہ ٹیم کو کپتانی کے پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ رشبھ پنت کی کپتانی میں ایل ایس جی نے ۲۸؍ میچوں میں صرف ۱۰؍ کامیابی حاصل  کی  اور ۱۸؍ مقابلے ہارے۔
پنجاب کنگز سے ہار کے بعد پریس کانفرنس میں موڈی نے کہا’’کپتانی کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو پنت کے لیے یہ چیلنجنگ رہا ہے اور نتائج بھی یہی دکھاتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ کیا کپتانی کا دباؤ ان کی بلے بازی میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سیزن ہمارے لیے مشکل رہا، لیکن ہم اس پر وقت لے کر سوچیں گے۔ ہر چیز پر غور کریں گے۔ لیکن یہ صاف ہے کہ ہم اپنی امیدوں یا اپنے طے شدہ معیار تک نہیں پہنچ پائے۔ فرنچائزی کی لیڈرشپ کو لے کر ہم مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں گے۔ ہر شعبے کی طرح، جب آپ کسی سیزن کا جائزہ لیتے ہیں، تو کئی فیصلے کرنے پڑتے ہیں، اور فی الحال ایسا لگ رہا ہے کہ ہمیں ری سیٹ (دوبارہ شروعات) پر غور کرنا ہوگا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:تھلاپتی وجے: ایک فلمی فنکار جو خوابوں کو تعبیر عطا کرنے کا ہنر جانتا ہے


پنت نے ۲۰۱۸ء میں۶۰ء۱۷۳؍کے اسٹرائیک ریٹ سے۶۸۴؍ رن اور ۲۰۱۹ء میں۶۶ء۱۶۲؍  کے اسٹرائیک ریٹ سے ۴۸۸؍ رن بنا کر آئی پی ایل میں شاندار پہچان بنائی تھی لیکن ایل ایس جی کے لیے پچھلے دو سیزن میں ان کی کارکردگی اوسط درجے کی رہی ہے۔ انہوں نے دو سیزن میں ۵۸۱؍ رنز بنائے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ۷۴ء۱۳۵؍رہا ہے۔ ان دونوں سیزن میں ان کی اوسط اور اسٹرائیک ریٹ ان کے کیریئر کے ریکارڈ سے نیچے رہا۔ سیزن کے دوران پنت نے ڈریسنگ روم میں ’’بہت سارے سوچنے والے اور فیصلے کرنے والے لوگ‘‘ ہونے کی بات بھی کہی تھی۔ موڈی کا یہ تبصرہ اس بیان کے بعد آیا ہے، جس میں ہیڈ کوچ جسٹن لینگر نے بھی پچھلے میچ کے بعد پنت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:جاپان: نصف سے زائد معمر خواتین کا تعلقات کیلئے انسانوں کی بجائےاے آئی سے مشورہ


موڈی نے کہا’’مجھے لگتا ہے کہ اس مایوس کن سیزن کے لیے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ یہ کسی ایک کھلاڑی پر انگلی اٹھانے کا وقت نہیں ہے۔ ہم سب جوابدہی لیتے ہیں اور ابھی کسی ایک شعبے کو قصوروار ٹھہرانے کا وقت نہیں ہے۔ ہمیں پرسکون دماغ سے اس پورے سیزن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں سدھارنا ہوگا، اور ان پر کام کیا جائے گا۔‘‘اگر پنت کو کپتانی سے ہٹایا جاتا ہے  تو وہ ایل ایس جی سے متنازع طریقے سے باہر ہونے والے پہلے کپتان نہیں ہوں گے۔ ان سے پہلے کے ایل راہل، جنہوں نے فرینچائزی کے شروعاتی تین سیزن میں کپتانی کی تھی، ٹیم چھوڑنے کے بعد کہہ چکے ہیں کہ وہ ’’ہلکے پھلکے ماحول‘‘ والی ٹیم میں کھیلنا چاہتے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK