Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ میں جون کے آخر میں پڑنے والی شدید گرمی سے ۱۰؍ ہزار سے زائد اموات!

Updated: July 14, 2026, 10:56 AM IST | London

’یورو ایم او ایم او‘ کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے۹؍ ہزار سے زیادہ اموات۶۵؍ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تھیں۔

People are suffering from the heat in London these days. Photo: INN
لندن میں اِن دنوںگرمی سے لوگوں کا برا حال ہے۔ تصویر: آئی این این

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران یورپی ممالک میں۱۰؍ ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یورپی مرکز برائے امراض کی روک تھام و کنٹرول (ای سی ڈی سی) اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے قائم نیٹ ورک’یورو ایم او ایم او‘ کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے۹؍ ہزار سے زیادہ اموات۶۵؍ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تھیں۔ شدید گرمی ہیٹ اسٹروک (گرمی لگنے) کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ یہ دل اور سانس کی بیماریوں کو بھی مزید سنگین بنا دیتی ہے، جس سے خاص طور پر بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ڈنمارک کے اسٹینٹس سیرم انسٹی ٹیوٹ کے چیف فزیشن لاسے ویسٹرگارڈ، جہاںیورو ایم او ایم او کی میزبانی کی جاتی ہے، نے رائٹرز کو بتایا:’’سال کے اس وقت اس قدر زیادہ اضافی اموات ہونا غیر معمولی بات ہے۔ یہ تعداد واقعی بہت زیادہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا:’’اس بلند اضافی شرحِ اموات کی کوئی اور معقول وجہ نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ اس کی بنیادی وجہ شدید گرمی کی لہر تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جاپان: غیر معمولی سماجی تبدیلی، بچوں سے زیادہ پالتو جانور!

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جون کے آخر میں آنے والی یہ شدید گرمی کی لہر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھی، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویوز کو زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما کر رہی ہے۔یہ اعداد و شمار۲۷؍ یورپی ممالک کے قومی اداروں سے حاصل کردہ مجموعی اموات کے ریکارڈ پر مبنی ہیں، جن میں۲۲؍ سے۲۸؍جون کے دوران تمام وجوہات سے ہونے والی اضافی اموات شامل ہیں، نہ کہ صرف گرمی سے براہِ راست ہونے والی اموات۔ اسی ہفتے فرانس، اسپین، برطانیہ اور دیگر ممالک میں گرمی کی شدت اپنے عروج پر تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران کووڈ۱۹؍کی وبا یا کوئی اور بڑا سبب سامنے نہیں آیا جو اس ہفتے۱۰؍ ہزار۶۵۰؍ اضافی اموات کی وضاحت کر سکے۔اس سے قبل کے ۸؍ ہفتوں میں انہی یورپی ممالک میں اوسطاً ہر ہفتے اموات کی تعداد معمول سے تقریباً۵۰۰؍ کم تھی۔’یورو ایم او ایم او‘ نے یہ بھی واضح کیا کہ مزید معلومات موصول ہونے پر مستقبل میں ان اعداد و شمار میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔

جون کے آخر میںشدید گرمی نے یورپ کے مختلف حصوں میں بجلی کی فراہمی متاثر کی، اس باعث اسکول بھی بند کئے گئے۔اس دوران گرمی نے فرانس، اسپین اور برطانیہ میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ایورو ایم او یم اوانفرادی ممالک کے اضافی اموات کے اعداد و شمار شائع نہیں کرتا، تاہم اس نے بتایا کہ فرانس اور بلجیم وہ دو ممالک تھے جہاں جون کے آخری ہفتے میں انتہائی بلند اضافی شرحِ اموات ریکارڈ کی گئی۔بلجیم کے سرکاری ادارۂ صحت سائنسینو کے مطابق، ملک میں ۲۰۰۰ء سے ریکارڈ رکھے جانے کے بعد سے کسی بھی گرمی کی لہر کے دوران یہ سب سے زیادہ اضافی اموات تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی یہودیوں میں فلسطین حامی ظہران ممدانی، نیتن یاہو سے زیادہ مقبول: پول

انگلینڈ اور ویلز میں مئی جون میں۲۷۰۰؍ افراد ہلاک ہوئے

دوسری جانب امپیریل کالج لندن، برطانیہ کے محکمہ موسمیات اور لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی مشترکہ سائنسی تحقیق جو پیر کو شائع ہوئی کے مطابق، مئی اور جون کی گرمی کی لہروں کے دوران صرف انگلینڈ اور ویلز میں تقریباً۲۷۰۰؍ افراد گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK