آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے ۴۴؍ویں میچ میں ایک بار پھر دو روایتی حریف آمنے سامنے ہوں گے۔ چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) اپنے ہوم گراؤنڈ پر ممبئی انڈینز (ایم آئی) کا مقابلہ کرے گی اور سیزن میں دوسری بار انہیں شکست دینے کی کوشش کرے گی۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 6:05 PM IST | Mumbai
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے ۴۴؍ویں میچ میں ایک بار پھر دو روایتی حریف آمنے سامنے ہوں گے۔ چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) اپنے ہوم گراؤنڈ پر ممبئی انڈینز (ایم آئی) کا مقابلہ کرے گی اور سیزن میں دوسری بار انہیں شکست دینے کی کوشش کرے گی۔
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے ۴۴؍ویں میچ میں ایک بار پھر دو روایتی حریف آمنے سامنے ہوں گے۔ چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) اپنے ہوم گراؤنڈ پر ممبئی انڈینز (ایم آئی) کا مقابلہ کرے گی اور سیزن میں دوسری بار انہیں شکست دینے کی کوشش کرے گی۔ اس سیزن میں آٹھ میں سے چھ میچ ہارنے والی ممبئی کی ٹیم بھی کوشش کرے گی کہ اپنے گھر میں ملنے والی زبردست شکست کا بدلہ چیپاک اسٹیڈیم میں لے سکے۔
تاہم، ان کے لیے یہ راہ آسان نہیں ہوگی۔ ممبئی کے لیے یہ میچ ٹورنامنٹ میں اپنی آخری امیدیں برقرار رکھنے کی جنگ ہے، جبکہ ایک فتح چنئی کو پلے آف کی دوڑ میں مستحکم کر دے گی۔ چنئی آٹھ میچوں میں تین فتوحات اور چھ پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر چھٹے نمبر پر ہے۔
The bigger picture of a perfect strike 🏏 pic.twitter.com/I5rqDkymOM
— Mumbai Indians (@mipaltan) May 1, 2026
جسپریت بمراہ اور ٹرینٹ بولٹ پاور پلے میں چنئی کی سلامی جوڑی ریتوراج گائیکواڑ اور سنجو سیمسن کو جلد آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔ بولٹ پہلے ہی دونوں کو تین تین بار آؤٹ کر چکے ہیں، جو انہیں ایک بڑا خطرہ بناتا ہے۔ گائیکواڑ نے بولٹ کے خلاف چھ اننگز میں ۱۱۰؍کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف ۳۴؍ رنز بنائے ہیں۔ دوسری طرف بمراہ کے خلاف گائیکواڑ کا ریکارڈ بہتر رہا ہے، جہاں انہوں نے چار اننگز میں ۱۵۳؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے ۲۹؍ رنز بنائے ہیں اور ایک بار بھی آؤٹ نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:فرح خان، سونو سود سمیت دیگر فلمی شخصیات راہل رائے کی حمایت میں سامنے آئے
ممبئی کے مڈل آرڈر بلے بازوں سوریا کمار یادو، تلک ورما اور ہاردک پانڈیا کو نور احمد اور عقیل حسین جیسے اسپنرز کے خلاف مشکل چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔ سوریا کمار نور کے خلاف چھ اننگز میں دو بار آؤٹ ہوئے ہیں، جبکہ عقیل کے خلاف ان کا اسٹرائیک ریٹ ۱۱۴؍ رہا ہے۔ تلک ورما کا ریکارڈ عقیل کے خلاف خاصہ کمزور ہے جہاں وہ پانچ اننگز میں صرف ۸۷؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے ۲۰؍ رنز بنا سکے ہیں۔
اللہ غضنفر اس سیزن میں ممبئی کے سب سے مؤثر گیند باز رہے ہیں اور وہ چنئی کے مڈل آرڈر (شیوم دوبے، ڈیوالڈ بریوس اور سرفراز خان) کے خلاف اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ غضنفر نے اس سیزن میں اپنے ۷۱؍ فیصد اوورز (۷؍ سے ۱۶؍ اوورز کے درمیان) کرائے ہیں، جن میں انہوں نے ۳ء۹؍ کی اکانومی سے ۶؍ وکٹیں حاصل کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیڈرر، ندال اور سنر کی کامیابی کی برابری کر کے زیوریو سیمی فائنل میں
ہاردک پانڈیا کی کارکردگی اس سیزن میں کچھ خاص نہیں رہی۔ آئی پی ایل ۲۰۲۶ءسے قبل ٹی۲۰؍ میچوں میں ہاردک نے۱۶۵؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے۲۸۶؍ رنز بنائے تھے، لیکن اس آئی پی ایل میں ان کے بلے سے صرف ۱۲۸؍ رنز نکلے ہیں اور وہ محض چار چھکے ہی لگا پائے ہیں۔ گیند بازی میں بھی ان کی اکانومی۳ء۱۲؍ رہی ہے جو کہ کافی مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔ ممبئی کو ٹورنامنٹ میں بنے رہنے کے لیے اپنے کپتان کی بہترین کارکردگی کی اشد ضرورت ہے۔