محبوب خان کی فلم ’آن‘ سے بطور ہیروئن انہوں نے فلم انڈسٹری میںقدم رکھا۔ اسے بیرون ممالک ’دی سویز پرنسز‘ کے نام سے ۱۷؍ مختلف زبانوں کے ’سب ٹائٹل‘ کے ساتھ ریلیز کیاگیاتھا۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 2:11 PM IST | Anees Amrohi | Mumbai
محبوب خان کی فلم ’آن‘ سے بطور ہیروئن انہوں نے فلم انڈسٹری میںقدم رکھا۔ اسے بیرون ممالک ’دی سویز پرنسز‘ کے نام سے ۱۷؍ مختلف زبانوں کے ’سب ٹائٹل‘ کے ساتھ ریلیز کیاگیاتھا۔
فلم انڈسٹری میں ایسے کئی فنکار ہوئے ہیں جنہوںنے کم فلموں میں کام کیا مگر اپنے چند کرداروںکی وجہ سے ہمیشہ کیلئے اپنا نام ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں لکھوا گئے۔ ایسے ہی فنکاروں میں ایک تھیں اداکارہ نادرہ۔۵؍دسمبر ۱۹۳۲ء کو نادرہ کا جنم اسرائیل میں ہوا۔ ان کا اصلی نام فرحت ایزیکل تھا۔ ان کے والد مصر کے ایک یہودی خاندان سے تھے اور ان کی والدہ عراقی یہودی تھیں۔ تلاشِ معاش کے سلسلے میں یہ خاندان ہندوستان منتقل ہو گیا اور ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقے ناگپاڑہ میں رہائش اختیار کی، جہاں یہودیوں کی بھی بڑی تعداد آباد تھی۔
نادرہ کی خوبصورت ماں انگریزوں کے زمانے میں ایئر فورس میں فلور سُپروائزر کی پوسٹ پر تھیں۔ گھر کے مالی حالات بہت زیادہ اچھے نہیں تھے، لہٰذا نادرہ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ بعد میں انہیں مزید تعلیم کیلئے ایک کیتھولک نن کے پاس بھیجا گیا۔ گھر کے بچوں میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے نادرہ نے کچھ دنوں تک ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ کے کام سے بھی گھر کے خرچ میں والدین کا ہاتھ بٹایا۔ حالانکہ وہ خود ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھتی تھیں، مگر حالات نے انہیں اداکارہ بنا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: وکی کوشل کی’’مہا اوتار‘‘ میں شردھا کپور کی ممکنہ انٹری
اُن دنوں فلموں میں کام کرنا بہت معیوب سمجھا جاتا تھا اور نادرہ کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا کہ انہیں بغیر سر ڈھکے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ نادرہ کی ماں کو جب معلوم ہوا کہ وہ فلموں میں کام کرنا چاہتی ہیں تو وہ بہت ناراض ہوئیں اور کہا کہ اگر تو فلموں میں کام کرے گی تو تیری شادی کہاں ہوگی اور کون تجھ سے شادی کرے گا اور تو برادری میں ہماری ناک کٹوائے گی۔ تب نادرہ نے اپنی ماں کو سمجھاتے ہوئے ایک جملہ کہا کہ… ’’ماں، میں ایک اچھے خاندان کی عزت دار لڑکی ہوں۔ میں فلم لائن میں بھی کوئی ایسا کام نہیں کروںگی جس سے ہمارے خاندان کی عزت پر آنچ آئے، اور میں یہ بات آپ کی قسم کھاکر کہہ رہی ہوں…‘‘ سخت مزاج کی ماں نے اس بات سے متاثر ہوکر نادرہ کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت دے دی۔ نادرہ کا پہلا فلمی کانٹریکٹ بھی اُن کی ماں کو ہی سائن کرنا پڑا کیونکہ نادرہ اس وقت نابالغ تھیں اور تقریباً ۱۷؍برس کی اُن کی عمر ہوگی۔
حالانکہ ان کے فلمی کریئر کا آغاز ایک طرح سے اُسی وقت ہوگیا تھا جب ان کی عمر ۱۰؍ سال تھی۔ انہوں نےچائلڈ آرٹسٹ کے طور پر نانابھائی بھٹ اور بابو بھائی مستری کی فلم ’موج‘ میں ایک چھوٹا سا کردار نبھایا تھا۔ اس واقعے کے ۷؍ سال بعد ایک تقریب میں فلمساز وہدایتکار محبوب خان نے نادرہ کو دیکھا اور فلم میں کام کرنے کا آفر دے دیا۔ اس طرح ۴؍اکتوبر ۱۹۴۹ء کو فلم ’آن‘ کیلئے محبوب خان نے نادرہ کو سائن کر لیا۔ اس فلم کے ہیرو دلیپ کمار تھے اور ساتھ میں نمی تھیں۔ یہ فلم ۱۹۵۲ء میں نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ ’آن‘ ہندوستان کی پہلی رنگین فلم تھی۔ اس فلم میں نادرہ نے ایک بددماغ اور نک چڑھی راجکماری راج شری کا کردار ادا کیا تھا۔ محبوب خان کی ہدایت میں بنی اس فلم کی موسیقی نوشاد نے تیار کی تھی۔ اس فلم نےبیرون ملک میں بھی کئی جگہوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ باہر کے ملکوں میں اس فلم کو ’دی سویز پرنسز‘ کے نام سے ریلیز کیا گیا تھا اور یہ ۱۷؍ مختلف زبانوں کے ’سب ٹائٹل‘ کے ساتھ دکھائی گئی تھی۔اس کامیابی کے ساتھ ہی نادرہ کو ہندوستان کے علاوہ باہر کے ممالک میں بھی شہرت حاصل ہوئی۔
فلم ’آن‘ کی کامیابی کے بعد نادرہ نے فلم ’وراث‘ اور’ڈاک بابو‘ میں کام کیا۔ ’ڈاک بابو‘ فلم میں انہوںنے ایک صفائی کرنے والی جمعدارنی کا کردار ادا کیا تھا اور طلعت محمود اس فلم میں ان کے ہیرو تھے مگر یہ دونوں فلمیں کامیاب نہ ہو سکیں۔فلم ’آن‘ کی کامیابی کے بعد نادرہ کو راج کپور کی فلم میں کام کرنے کی خواہش ہوئی اور انہوںنے بغیر سوچے سمجھے راج کپور کی فلم ’شری چار سو بیس‘ میں ایک منفی کردار قبول کر لیا اور یہی ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ وہ راج کپور کی فلم میں کام کرنا چاہتی تھیں، اسلئے جب راج کپور فلم کا اسکرپٹ انہیں سنا رہے تھے تو درمیان ہی میں نادرہ نے انہیں روک دیا اور اس فلم میں ویمپ کا کردار قبول کر لیا۔ بعد میں اس کردار کو کافی شہرت ملی اور فلم بھی بہت کامیاب ثابت ہوئی۔ ۱۹۵۶ء میں ریلیز ہوئی اس فلم کا نادرہ پر فلمایا گیا ایک گیت ’’مڑ مڑ کے نہ دیکھ مڑ مڑ کے‘‘ بے حد مقبول ہوا تھا۔ مگر اس فلم کے بعد نادرہ پر بُری فلمی عورت کا ٹھپہ لگ گیا۔ اس کے بعد نادرہ کے پاس ہیروئن کے مرکزی کردار آنے بند ہو گئے۔ لگ بھگ ڈیڑھ برس تک نادرہ نے کوئی فلم سائن نہیں کی اور ان کے مالی حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ حالات سے تنگ آکر انہوںنے پھر سے ہر قسم کے رول کرنے شروع کر دیئے۔
یہ بھی پڑھئے: معروف گلوکارہ آشا بھوسلے کا ۹۲؍ سال کی عمر میں انتقال، ہندوستان سوگوار
اُنہی دنوں فلمی نغمہ نگار نخشب کی محبت میں گرفتار ہوکر نادرہ نے ان سے شادی کر لی مگر شادی کے بعد نخشب نے نادرہ کے فلموں میں کام کرنے پر پابندی لگا دی اور وہ خود ایک گیت کار کے ساتھ ہی فلمساز بھی بن گئے۔ یہ اور بات ہے کہ انہوں نے خود نادرہ کو ہیروئن لے کر فلم’نغمہ‘ اشوک کمار کے ساتھ بنائی۔ یہ فلم زیادہ نہیں چلی۔ بعد میں طلعت محمود کے ساتھ نادرہ کو ہیروئن بناکر فلم ’رفتار‘ بنائی، تو وہ بھی فلاپ ہو گئی۔ اس کے بعد نخشب نے نادرہ کو صرف خواجہ احمد عباس کی فلم ’آکاش‘ میں بلراج ساہنی کے مقابل ہیروئن کا کردار ادا کرنے کی اجازت دی مگر ان سب کے درمیان نخشب اور نادرہ کے آپسی تعلقات خراب ہوتے چلے گئے اور آخر ایک دن دونوں نے علاحدگی اختیار کر لی۔ بعد میں نخشب پاکستان چلے گئے تھےاور وہیں پر اُن کا انتقال ہوا۔
طلاق کے بعد نادرہ کو فلموں میں کام کے پھر سے آفر آنے لگے۔ حالانکہ وہ ہیروئن بننا چاہتی تھیں مگرحالات نے اجازت نہیں دی اور جو کردار اُنہیں ملتا گیا، وہ قبول کرتی چلی گئیں۔ فلمساز ایف سی مہرہ اور ہدایتکار محمد حسین کی فلم ’سپہ سالار‘ میں نادرہ نے مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگی ہوئی ایک کائو بوائے قسم کی لڑکی کا کردار ادا کیا تھا، جو گھوڑے پر سوار ہوکر گھومتی ہے۔ فلم کی خاص بات یہ ہے کہ نادرہ نے اس فلم میں میک اَپ بالکل نہیں کیا تھا اور اس قسم کے کردار ان کے تیکھے نین نقش پر خوب جچتے تھے۔ ’بلیک ٹائیگر‘ اور ’مادام زیرو‘بھی اُسی دور کی فلمیں ہیں۔۱۹۶۰ء میں کمال امروہی کی ریلیز ہوئی فلم ’دل اپنا پریت پرائی‘ میں ایک اہم رول اُن کو ملا مگر وہ بھی نگیٹیو رول تھا۔ اس فلم کی ہیروئن مینا کماری تھیں جو ایک نرس کا کردار ادا کر رہی تھیں اور اسپتال کے ڈاکٹر راجکمار سے محبت کرتی ہیں۔ مگر راجکمار کی شادی امیر باپ کی نک چڑھی بیٹی نادرہ سے ہو جاتی ہے۔ اس طرح وہ مینا کماری سے نفرت کرنے لگتی ہے اور پاگل پن کی حد تک جانے کو تیار ہے۔
اس کے بعد تو نادرہ کو فلم ’جولی، پاکیزہ، ایک نظر، امر اکبر انتھونی‘ وغیرہ فلموں میں سائڈ رول ہی پر گزارا کرنا پڑا۔ فلم ’جولی‘ میں جولی کی ماں کے کردار کیلئے نادرہ کو بہترین اداکاری پر فلم فیئر ایورڈ بھی دیا گیا۔ یہ فلم ۱۹۷۵ء میں ریلیز ہوئی تھی۔انہوںنے بی آر اشارہ کی فلم ’چیتنا‘ اور’لوگ کیا کہیںگے‘ میں بھی کام کیا۔ بی آر اشارہ کی فلم ’انصاف کا مندر‘ کا کردار نادرہ کو بہت پسند تھا۔ اسی درمیان انہوںنے ’پاکٹ مار، کالا بازار، میری صورت تیری آنکھیں، سپنوں کا سوداگر، تلاش، سفر اور ہنستے زخم‘ وغیرہ کئی بڑی فلموں میں کام کیا لیکن یہ سب فلمیں ان کے اندر کے فنکار کو مطمئن نہ کر سکیں۔ کافی عرصہ کے بعد پوجا بھٹ کی فلم ’تمنا‘ میں انہیں ایک کردار ملا اور پھر مہیش بھٹ کی فلم ’جوش‘ میں انہوںنے کام کیا۔ فلمساز وگیت کار گلزار کی فلم ’کردار‘کیلئے انہوںنے اتنی محنت سے کام کیا کہ ان کی آواز ہی بیٹھ گئی۔ مگر وہ ’کردار‘ کے اپنے کردار کو زندگی کا بہترین کردار مانتی تھیں۔ نادرہ کی فلم ’چھوٹی چھوٹی باتیں‘ کو ۱۹۶۵ء میں نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا، اسی طرح شمع/ سشما فلم ایوارڈ شروع کئے گئے تو ۱۹۷۸ء میں نادرہ کو بھی انعام سے نوازا گیا۔ فلم ’ساگر‘ اور’ہنستے زخم‘ میں نادرہ کی بہترین اداکاری کیلئے بہت تعریف کی گئی۔۱۹۷۲ء میں ریلیز ہوئی فلم ’پاکیزہ‘ کے کردار میں نادرہ کی اپنی شخصیت کچھ اس طرح کھپ گئی کہ وہ ایک یادگار کردار بن گیا ۔ ہدایتکار روہت کوشک کے ٹی وی سیریل ’آنکھیں‘ میں بھی نادرہ کا ویمپ والا کردار ہی تھا، جو انہوںنے بڑی محنت سے ادا کیا تھا۔ اِس کردار میں جب وہ نشے کی حالت میں ہوتی ہیں تو پوری ڈائن کا تصور پیش کرتی ہیں مگر جب ہوش میں ہوتی ہیں تو اپنی ایک ممتا بھری ماں بن جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ مقررہ تاریخ سے پہلے ریلیز ہوسکتی ہے
نخشب سے طلاق کے بعد نادرہ نے تنہائی سے گھبراکر ایک غیرفلمی شخص سے شادی کر لی تھی مگر یہ شادی ہفتہ دس دن سے زیادہ نہ چل سکی۔ اس طرح اپنی دونوں شادیوں کی ناکامی اور اولاد کے نہ ہونے کی وجہ سے نادرہ کی زندگی میں کافی بڑا خلاء پیدا ہو گیا تھا اور وہ خود کو کافی اکیلا محسوس کرتی تھیں۔ نادرہ کے دونوں بھائی ان سے الگ ایک امریکہ میں، اور دوسرا اسرائیل میں رہتے تھے۔
دسمبر ۲۰۰۵ء میں نادرہ پر فالج کا حملہ ہوا۔ ان کی حالت کافی نازک تھی کیونکہ انہیں ٹی بی اور سانس کی تکلیف بھی تھی۔ ممبئی کے بھاٹیہ اسپتال میں ان کی زندگی دوائوں کے سہارے پر چل رہی تھی۔ آخر میں ان کو بخار اور نمونیہ بھی ہو گیا اور اس طرح زندگی کی جنگ اکیلے لڑتے لڑتے ۹؍فروری ۲۰۰۶ء کو۷۲؍ سال کی عمر میں انہوںنے اپنے خالقِ حقیقی کو لبیک کہہ دیا۔