اترپردیش کے ضلع فتح پور میں جین زی کے بعد جین الفا نے انٹر کالج میں بنیادی سہولت کیلئے احتجاج کیا، جس کےبعد منتظمین نے تحریر طور پر یقین دہائی کرائی، یہ احتجاج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 10:04 PM IST | Luckhnow
اترپردیش کے ضلع فتح پور میں جین زی کے بعد جین الفا نے انٹر کالج میں بنیادی سہولت کیلئے احتجاج کیا، جس کےبعد منتظمین نے تحریر طور پر یقین دہائی کرائی، یہ احتجاج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
امتحانات سے متعلق مسائل پر ملک گیر جین زی کے مظاہروں کے بمشکل چند روز بعد، طلبہ کی ایک نئی نسل نے عوام کی توجہ حاصل کی ہے۔ اس بار یہ جین الفا ہےجو تقریباً۲۰۱۳ء اور۲۰۲۰ء کی وسط کے درمیان پیدا ہونے والے بچے ہیں۔جن کا اتر پردیش کے ضلع فتح پور کے ایک سرکاری انٹر کالج میں احتجاج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔یہ احتجاج کشن پور کے سروودیہ انٹر کالج میں ہوا، جہاں طلبہ اسکول کے باہر جمع ہوئے اور بجلی، صاف پینے کا پانی، کلاس روم میں مناسب وینٹیلیشن اور بہتر انفراسٹرکچر جیسی بنیادی سہولیات کا مطالبہ کیا۔
UP students win infrastructure fight in hours: fans, water cooler, desks all promised
— Nabila Jamal (@nabilajamal_) July 28, 2026
Students at Sarvodaya Inter College in Fatehpur #UttarPradesh protested outside their school gates over erratic electricity, broken furniture, dirty toilets, lack of clean drinking water,… pic.twitter.com/PRMAmTklNC
آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوکے مطابق، طلبہ نے الزام لگایا کہ کلاس روم میں مناسب پنکھے اور مستقل بجلی کی فراہمی نہیں ہے، جبکہ پینے کے پانی کی رسائی بھی ناکافی ہے۔ کچھ طلبہ نے اسکول کے بیت الخلاء کی حالت اور پرنسپل کے نامناسب رویے کی بھی شکایت کی، یہ دعوے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیے گئے ہیں تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔خاص توجہ اس بات نے حاصل کی ہے کہ احتجاج کس انداز میں منظم کیا گیا۔ صرف ہاتھ سے لکھے نعروں کے بجائے، متعدد طلبہ نے مبینہ طور پر اپنے مطالبے پر مشتمل پوسٹرز اور تختیاں ڈیزائن کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز استعمال کیے۔ڈیجیٹل ٹولز کا روایتی سڑکوں پر احتجاج کے ساتھ اس امتزاج نے قومی توجہ فوری طور پر حاصل کی، بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے اسے اتر پردیش کی ’’پہلی جنریشن-الفا تحریک‘‘ قرار دیا۔
بعد ازاں یہ مظاہرہ فوری طور پر کامیاب نظر آیا۔ تعلیمی حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد، ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف اسکولز (DIOS) نے مبینہ طور پر طلبہ کے اہم مطالبات کو قبول کرتے ہوئے تحریری یقین دہانی جاری کیں۔عوامی طور پر شیئر کی گئی یقین دہانی کے مطابق، ہر کلاس روم میں اگلے دن تک چار چھت کے پنکھے لگائے جائیں گے، ناقص برقی تاروں کی مرمت کی جائے گی، ایک ماہ کے اندر ڈیسک اور بینچ فراہم کیے جائیں گے، اور اسکول کے احاطے میں ایک آر او واٹر کولر نصب کیا جائے گا۔اس واقعے نے آن لائن وسیع بحث کو جنم دیا ہے، نہ صرف اس لیے کہ احتجاج کرنے والے اسکول کے بچے تھے بلکہ ان کے اٹھائے گئے مسائل کی وجہ سے بھی۔
یہ بھی پڑھئے: کیرالا: آر ایس ایس لیڈر کے جنتر منتر کے متنازع بیان پر پولیس تحقیقات کا حکم
تاہم بہت سے مبصرین نے مشاہدہ کیا کہ مطالبات وسیع تر سیاسی یا نظریاتی خدشات کے بجائے بنیادی تعلیمی انفراسٹرکچر پر مرکوز تھے، کئی نے سوال کیا کہ ایسی ضروری سہولیات کی دستیابی سے پہلے عوامی احتجاج کی ضرورت کیوں پڑی؟ جبکہ فوری نتیجہ کے علاوہ، یہ واقعہ نوجوان نسلوں میں شہری مصروفیت کے بدلتے ہوئے انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں جنریشن-زی نے روزگار، امتحانات اور عوامی پالیسی کے گرد بڑھ کر تحریکیں چلائی ہیں، وہیں فتح پور کا احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنریشن-الفا کے طلبہ کم عمری ہی میں ادارہ جاتی احتساب سے آگاہ ہو رہے ہیں، اور تبدیلی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو پرامن اجتماعی عمل کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ اے آئی سے تیار کردہ پوسٹرز کا ان کا استعمال یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اسکول کی عمر کے بچوں میں شہری شرکت کو کس طرح شکل دینا شروع کر رہی ہیں۔اگرچہ اس احتجاج کے طویل مدتی اثرات دیکھنے باقی ہیں، تعلیمی حکام کی تحریری وعدوں پر اب قریب سے نظر رکھی جائے گی۔اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ ڈیجیٹل دور کی طلبہ سرگرمی بنیادی سطح پر حکمرانوں کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔