دسویں جماعت کی کم از کم تعلیمی قابلیت والی آدیواسی ترقیاتی محکمے کی ۴۷۸ ا؍سامیوں کیلئے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں نے رخواستیں دی ہیں،سرکاری ملازمتوں کیلئےمسابقت اورروزگار میں کمی کا مسئلہ ایک بار پھر زیر بحث۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 10:50 AM IST | Ali Imran | Nagpur
دسویں جماعت کی کم از کم تعلیمی قابلیت والی آدیواسی ترقیاتی محکمے کی ۴۷۸ ا؍سامیوں کیلئے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں نے رخواستیں دی ہیں،سرکاری ملازمتوں کیلئےمسابقت اورروزگار میں کمی کا مسئلہ ایک بار پھر زیر بحث۔
سرکاری ملازمت حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی اب گروپ ڈی زمرے کی اسامیوں کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ قبائلی ترقیاتی محکمہ میں چوکیداروں کی بھرتی کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دسویں جماعت کی کم از کم تعلیمی اہلیت رکھنے والی ان اسامیوں کیلئے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امیدواروں نے بھی امتحان دیا۔ ریاست کے مختلف پروجیکٹ دفاتر کے نتائج میں ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کے نام درج ہیں ۔ اس صورتحال سے سرکاری ملازمتوںکیلئے بڑھتی ہوئی مسابقت اور روزگار کے مواقع کی کمی کا مسئلہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔
ریاست بھر میں ۴۷۸؍اسامیوں کیلئے بھرتی
قبائلی ترقیاتی محکمہ نے اپنے ۲۹ ؍پروجیکٹ دفاتر کے تحت چلنے والے سرکاری آشرم اسکولوں اور رہائشی ہاسٹلوں میں چوکیدار (گروپ ڈی) کی ۴۷۸؍ خالی اسامیوں کیلئے ۲۹؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو اشتہار جاری کیا تھا۔ ان اسامیوں کیلئے کم ازکم دسویں جماعت پاس ہونا ضروری تھا ۔ آن لائن درخواستوں کا عمل ایک ماہ میں مکمل ہوا ۔ اس کے بعد ۲۸؍ جولائی سے ۲؍اگست ۲۰۲۶ کے دوران ریاست کے مختلف امتحانی مراکز پر تحریری امتحانات منعقد کیے گئے۔
نتائج میں ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کا بھی اندراج
محکمہ نے پروجیکٹ کے لحاظ سے نتائج کی فہرستیں جاری کی ہیں۔ ان فہرستوں میں امیدواروں کے نام، نمبر، زمرہ اور تعلیمی قابلیت سے متعلق معلومات دی گئی ہیں۔ ان نتائج میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں رکھنے والے امیدواروں کے نام بھی درج ہیں۔ بعض امیدواروں نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ یعنی ان اسامیوں کیلئے لازمی دسویں جماعت کی تعلیمی اہلیت سے کہیں زیادہ تعلیم حاصل کرنے والے امیدواروں نے بھی حصہ لیا۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کی تعداد کتنی؟
سرکاری معلومات کے مطابق، محکمہ نے ریاست کے تمام ۲۹؍ پروجیکٹ دفاتر کی رزلٹ شیٹس میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کی مجموعی تعداد الگ سے ظاہر نہیں کی ہے۔ اس لیے پورے مہاراشٹر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کی صحیح تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے۔ محض چند پروجیکٹ دفاتر کے نتائج کی بنیاد پر ریاست گیر اعداد و شمار پیش کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ تاہم، ناگپور، دھولیہ، بھنڈارہ اورگڈ چرولی سمیت بعض اضلاع کے نتائج کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فہرست میں شامل نصف سے زائد امیدوار گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ ہیں۔
اس بھرتی کا سب سے اہم پہلو اس عہدہ کیلئے مقررہ کم از کم تعلیمی قابلیت اور امیدواروں کی حقیقی تعلیمی سطح کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ دسویں پاس کی اہلیت والے عہدے کیلئے بڑی تعداد میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کا میدان میں اترنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوانوں کو ان کی قابلیت اور اہلیت کے مطابق روزگار کے مواقع میسر نہیں ہیں۔