• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نصیرالدین شاہ سلمان رشدی کی قاتلانہ حملے سے متعلق یادداشت کو اسٹیج پر پیش کریں گے

Updated: October 11, 2026, 5:05 PM IST | Mumbai

معروف ہندوستانی اداکار نصیرالدین شاہ عالمی شہرت یافتہ مصنف سلمان رشدی کی یادداشتوں پر مبنی ایک نئے تھیٹر ڈرامے میں ان کا کردار ادا کریں گے۔’’۲۷؍ سیکنڈز‘‘ کے عنوان سے تیار کیے جانے والے اس ڈرامے کی کہانی سلمان رشدی کی کتاب Knife: Meditations After an Attempted Murder سے ماخوذ ہے۔

Naseeruddin Shah.Photo:INN
نصیر الدین شاہ۔ تصویر:آئی این این

معروف ہندوستانی اداکار نصیرالدین شاہ عالمی شہرت یافتہ مصنف سلمان رشدی کی یادداشتوں پر مبنی ایک نئے تھیٹر ڈرامے میں ان کا کردار ادا کریں گے۔’’۲۷؍ سیکنڈز‘‘ کے عنوان سے تیار کیے جانے والے اس ڈرامے کی کہانی سلمان رشدی کی کتاب Knife: Meditations After an Attempted Murder سے ماخوذ ہے، جس میں اگست ۲۰۲۲ء میں امریکہ کے شہر نیویارک میں ان پر ہونے والے جان لیوا حملے، اس کے بعد صحت یابی کی جدوجہد اور زندگی پر پڑنے والے گہرے اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ ڈراما ممبئی کے پرتھوی تھیٹر فیسٹیول میں پیش کیا جائے گا، جہاں نصیرالدین شاہ سلمان رشدی کے کردار میں نظر آئیں گے، جبکہ اداکارہ ملائیکا چودھری ان کی اہلیہ، شاعرہ اور مصنفہ ریچل ایلیزا گریفتھس کا کردار ادا کریں گی۔ 
  سلمان رشدی پر ۱۲؍  اگست ۲۰۲۲ء کو اس وقت حملہ کیا گیا تھا، جب وہ نیویارک کے علاقے چوٹاکوا میں ایک تقریب کے دوران مصنفین کی حفاظت اور انہیں تشدد سے محفوظ رکھنے کی اہمیت پر گفتگو کرنے والے تھے۔ اسی دوران حملہ آور اسٹیج پر پہنچا اور ان پر چاقو سے متعدد وار کیے۔ اس حملے میں رشدی شدید زخمی ہوگئے تھے اور ان کی دائیں آنکھ کی بینائی مستقل طور پر ختم ہوگئی تھی۔ ان کی جان بچ گئی، لیکن اس واقعے نے ان کی جسمانی صحت، ذاتی زندگی اور ادبی سفر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’نائف‘  ۲۰۲۴ء میں شائع ہوئی، جس میں انہوں نے حملے کی تفصیلات، اس کے بعد صحت یابی کے مشکل مراحل اور اپنے تجربات کو قلم بند کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:غزہ جنگ بندی: ایک سال بعد بورڈ آف پیس نے کیا حاصل کیا؟

اس ڈرامے کو نصیرالدین شاہ اور تھیٹر کے معروف ہدایت کار کوشک سین نے مل کر اسٹیج کے لیے ترتیب دیا ہے، جبکہ ارگھیا لاہری اس کی مشترکہ ہدایت کاری میں شامل ہیں۔ پروڈکشن کا نام موٹلی پروڈکشنز ہے۔ نصیرالدین شاہ نے واضح کیا ہے کہ یہ حملے کی لفظ بہ لفظ نقل یا محض واقعات کی دوبارہ منظرکشی نہیں، بلکہ کتاب میں بیان کیے گئے تجربات اور جذبات کی ایک فنکارانہ پیش کش ہے۔ڈرامے کی تیاری کے لیے سلمان رشدی کی ٹیم سے اجازت حاصل کی گئی تھی۔ اسٹیج کے لیے تحریر کردہ مکالموں میں کتاب کے اصل الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، تاکہ مصنف کے تجربات، احساسات اور نقطۂ نظر کی صداقت برقرار رہے۔ ڈرامے میں حملے کے بعد رشدی اور ان کے حملہ آور کے درمیان ایک تصوراتی مکالمے کو بھی اہمیت دی گئی ہے، جو کتاب کے نمایاں حصوں میں شامل ہے۔ 
 ’’۲۷؍ سیکنڈز‘‘ صرف ایک قاتلانہ حملے کی داستان نہیں، بلکہ محبت، حوصلے، انسانی رشتوں اور تخلیقی قوت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ڈرامے میں ریچل ایلیزا گریفتھس کے کردار کو خاص اہمیت حاصل ہے، جنہوں نے حملے کے بعد سلمان رشدی کی صحت یابی کے سفر میں ان کا ساتھ دیا۔ ان کے رشتے اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی کہانی اسٹیج پیش کش کا جذباتی پہلو ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’ایوینجرز: اینڈ گیم‘ اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی، ’اوتار‘ دوسرے نمبر پر

سلمان رشدی نے اس منصوبے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصے سے نصیرالدین شاہ کے مداح رہے ہیں اور انہیں اس کردار میں دیکھنے کے منتظر ہیں۔ رشدی کے مطابق، ان کی کتاب تشدد کے مقابلے میں محبت، فن اور تخلیقی اظہار کی قوت کو سامنے لاتی ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ڈراما دیکھنے والوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگا۔   دستیاب اطلاعات کے مطابق’ ’۲۷؍ سیکنڈز‘‘ کو پرتھوی تھیٹر فیسٹیول میں ۲؍ اور ۳؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو پیش کیا جائے گا۔ اسٹیج پر نصیرالدین شاہ اور ملائیکا چودھری کے ساتھ دیگر فنکار بھی مختلف کرداروں میں نظر آئیں گے۔ اس ڈرامے کے ذریعے سلمان رشدی کی زندگی کے ایک انتہائی مشکل دور کو تھیٹر کے فن، مکالموں اور جذباتی منظرکشی کے ذریعے ناظرین تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر، نصیرالدین شاہ کا سلمان رشدی کا کردار ادا کرنا ہندوستانی تھیٹر کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے۔’’۲۷؍ سیکنڈز‘‘ تشدد کے بعد زندگی کو دوبارہ سنوارنے، محبت کی طاقت، مصنفین کی سلامتی اور اظہارِ خیال کی آزادی جیسے موضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ ڈراما سامعین کو نہ صرف ایک جان لیوا حملے کی یاد دہانی کرائے گا بلکہ یہ بھی دکھائے گا کہ مشکل ترین حالات میں فن اور انسانی رشتے کس طرح امید کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK