• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی احتجاج کی کامیابی کا ثبوت۴۰۰۰۰؍ نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی ہے: پرشانت کشور

Updated: October 11, 2026, 8:02 PM IST | Patna

جن سوراج پارٹی کے بانی اور بنکی پور ایم ایل اےپرشانت کشور نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی احتجاج کی کامیابی کا ثبوت ۴۰؍ ہزار نیم فوجی اہلکار ہیں ، ساتھ ہی وہ اپوزیشن کے سی ای سی گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے میں شامل ہوگئے، انہوں نے کہا گزشتہ۸؍ سے ۱۰؍ سالوں میں الیکشن کمیشن کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھے۔

Prashant Kishor, founder of the Jan Swaraj Party. Photo: INN
جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور۔ تصویر: آئی این این

جن سوراج پارٹی (جے ایس پی) کے بانی اور بنکی پور کے ایم ایل اے پرشانت کشور نے کہا کہ دہلی میں ۴۰؍ ہزار نیم فوجی اہلکاروں  کی تعیناتی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ قومی دارالحکومت میں سنیچر کو ہونے والا احتجاج کامیاب رہا، ساتھ ہی انہوں نے سی ای سی گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے میں اپوزیشن کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی ساکھ گزشتہ ۸؍- ۱۰؍سالوں میں ختم ہوئی ہے۔چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کمار کے خلاف احتجاج پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کشور نے کہا،’’بہت سے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ احتجاج میں کتنے لوگوں نے شرکت کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو اسے روکنے کے لیے۴۰؍ ہزار نیم فوجی اہلکار تعینات کرنے پڑے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کتنا طاقتور تھا۔

یہ بھی پڑھئے: سلیمان خان ہجومی تشدد کیس میں جلگائوں سیشن کورٹ سے ملزمین کو دوہرا دھچکا!

بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج ای سی آئی میں لوگوں کے کم ہوتے اعتماد کا عکاس ہے۔ کشور نے کہا، ’’گزشتہ آٹھ سے دس سالوں میں ای سی آئی کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ سی ای سی کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ کس طرح ای سی آئی نے۲۰۲۵ء کے اسمبلی انتخابات کے دوران بہار حکومت کو جیویکا ورکرز میں ۱۰؍ ہزار روپے تقسیم کرنے سے نہیں روکا تھا۔مزید برآں جے ایس پی کے بانی نے سنیچر کو بہار میں ہونے والی این ڈی اے میٹنگ کو بھی نشانہ بنایا اور اسے حکمران اتحاد کی بڑھتی ہوئی کمزوری کی علامت قرار دیا۔ کشور نے کہا، ’’جس طرح ان کی گھبراہٹ بنکی پور میں۴۸۰؍ لیڈروں کی میٹنگ (اگست میں ضمنی انتخاب سے پہلے) سے ظاہر ہوئی تھی، اسی طرح ایم ایل سی انتخابات کے حوالے سے بھی ایسی ہی گھبراہٹ ہے۔ چاہے این ڈی اے مقننہ یا قانون ساز کونسل کی میٹنگ بلائے، بہار کے تعلیم یافتہ اساتذہ اور گریجویٹ ووٹرز نے حکمران اتحاد کے امیدواروں کو شکست دینے کا ذہن بنا لیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ابھیجیت دپکے کو حراست میں لئے جانے پر والد کا درد چھلک اُٹھا

قابل ذکر ہے کہ جے ڈی (یو) کے ایم ایل اے اننت کمار سنگھ نے ۲۳؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں اپنی ہی پارٹی کے امیدوار نیرج کمار کے خلاف جے ایس پی پٹنہ گریجویٹ سیٹ کے امیدوار انوج سنگھ کی کھلے عام حمایت کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اگست میں کشور نے ضمنی انتخاب میں۱۹؍ ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے بنکی پور، جو بی جے پی کا گڑھ ہے، جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ اس سیٹ کی نمائندگی پانچ میعاد تک بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتیں نوین کر چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK