Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال: بالین شاہ حکومت کا بدعنوانی کیخلاف مہم، سیاستدانوں کی املاک کی جانچ ہوگی

Updated: April 17, 2026, 10:11 AM IST | Mumbai

نیپال کی نومنتخب بالین حکومت نے۲۰۰۶ء سے اقتدار میں رہنے والے سیاست دانوں اور اہلکاروں کے اثاثوں کی چھان بین کیلئے ایک کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

Balen Shah. Photo: INN
بالین شاہ۔ تصویر: آئی این این

نیپال کی نومنتخب بالین حکومت نے۲۰۰۶ء سے اقتدار میں رہنے والے سیاست دانوں اور اہلکاروں کے اثاثوں کی چھان بین کیلئے ایک کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے الزامات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں کمیشن تحقیقات کرے گا اور اپنی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔نیپال کی حکومت نے بدھ کو گزشتہ دو دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والے ممتاز سیاست دانوں اور اعلیٰ عہدیداروں کے اثاثوں کی جانچ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کااعلان کیا ہے۔۲۰۰۶ء وہ سال تھا جب اس وقت کے بادشاہ گیانیندر شاہ کی آمرانہ حکومت دوسری عوامی تحریک کے بعد گر گئی تھی۔ اس عرصے کے دوران، نیپالی کانگریس، سی پی این۔یو ایم ایل اور ماؤسٹ سینٹر جیسی پارٹیوں نے ملک پر حکومت کی۔ ان پارٹیوں کی لیڈروں پر اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے کافی دولت جمع کرنے کا الزام ہے۔سابق وزرائے اعظم شیر بہادر دیوبا، کے پی شرما اولی، اور پشپا کمل دہل ’پرچنڈ‘ کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کی جانچ ہورہی ہے۔ حکومت کے ترجمان اور وزیر تعلیم سسمیت پوکھرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے سابق جج راجندر کمار بھنڈاری کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیشن تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیشن۲۰۰۶ء سے۲۰۲۶ء تک اقتدار میں رہنے والے سیاستدانوں اور عہدیداروں کے اثاثوں کی جانچ کرے گا۔یہ فیصلہ وزیر اعظم بالیندر شاہ حکومت کے۱۰۰؍ نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK