• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’نتین یاہو، بیوی سارہ کے غصے سے بچنے کے لیے خود کو کمرے میں بند کر لیتے ہیں‘‘

Updated: February 11, 2026, 12:24 PM IST | Jerusalem

سابق سیکوریٹی چیف امی ڈرور کا دعویٰ ہے کہ بنیامین نتین یاہو اکثر اپنی بیوی کے غصے سے بچنے کے لیے خود کو کمروں میں بند کر لیتے ہیں اور اپنی علیحدہ رہنے والی بیٹی، نوآ سے خفیہ طور پر ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Sara And Netanyahoo.Photo:INN
سارہ اور نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این

طوفانی الزامات کے ایک سلسلے جو اسرارئیل کے وزیرِ اعظم کی نجی زندگی سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ بنیامین نتین یاہو کی سیکوریٹی  ٹیم کے ایک سابق سربراہ نے ایک ایسے گھرانے کی تصویر پیش کی ہے جو خوف اور انتشار کا شکار تھا۔سابق باڈی گارڈ، جن کی شناخت امی ڈرور کے نام سے کی گئی ہے، نے ایسے واقعات بیان کیے جن میں مبینہ طور پر وزیرِ اعظم اپنی اہلیہ سارا نتین یاہو کے غصے سے بچنے کے لیے خود کو کمرے میں بند کر لیتے تھے۔
یہ انکشافات عبرانی خبر رساں ادارے ’’معاریو‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سامنے آئے ہیں، جن میں ایک ایسے رہنما کی تصویر پیش کی گئی ہے جو اپنی مضبوط عوامی شخصیت کے باوجود مبینہ طور پر اپنی گھریلو زندگی کو سنبھالنے کے لیے ’’خفیہ کارروائیوں‘‘ کا سہارا لیتا ہے۔
وہ چھپ جاتے ہیں اور دروازہ بند کر لیتے ہیں
سابق  سیکوریٹی چیف کے مطابق، وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ کے درمیان کشیدگی بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی تھی کہ نتین یاہو اپنی حفاظت کے لیے جسمانی طور پر الگ ہو جاتے تھے۔باڈی گارڈ کے مطابق  ’’وہ بس اندر جاتے ہیں، دروازہ بند کرتے ہیں اور تالا لگا لیتے ہیں، یہاں تک کہ غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔‘‘
 سیکوریٹی اہلکار نے بتایا کہ یہ رویہ گھر کے عملے کے لیے کوئی راز نہیں تھا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کے دفتر کی ایک تجربہ کار ملازمہ ایڈنا ہلبانی کے بیانات کا حوالہ بھی دیا، جنہوں نے اس سے پہلے گھریلو تنازعات کے دوران وزیرِ اعظم کے خود کو الگ تھلگ کرنے کی طرف   اشارہ کیا تھا۔ باڈی گارڈ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ایک آدمی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی سے ڈرے۔‘‘ اور مزید کہا کہ گھر میں چھپنا چاہے جتنا بھی ’لغو‘ لگے، نتین یاہو سے پھر بھی اسرائیل چلانے کی توقع کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:’’زندگی نہ ملے گی دوبارہ ۲‘‘ کا پہلا مسودہ مکمل، تینوں مرکزی اداکاروں سے بات چیت

مبینہ کلیپٹومینیا اور ’’غائب ہونے والے تحائف
ازدواجی کشیدگی کے علاوہ، انٹرویو میں سارہ نتین یاہو کی مبینہ’’کلیپٹومینیا‘‘ سے متعلق شرمندگی کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا۔سابق باڈی گارڈ نے دعویٰ کیا کہ سرکاری دوروں کے دوران ہوٹلوں سے اشیاء خاص طور پر تولیے اور تحائف بھی اکثر غائب ہو جایا کرتے تھے ۔گارڈ نے الزام لگایا کہ ’’وہ کلیپٹومینیا کی مریضہ ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ہر موقع پر جو کچھ ملے چرا لیتے ہیں... تحائف غائب ہو جاتے ہیں، ہوٹلوں سے تولیے غائب ہو جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ  سیکوریٹی  عملے کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب وفد کے چیک آؤٹ کے بعد ہوٹل کا عملہ پوچھتا تھا’’کیا ہوا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی : بنگال نے آندھرا کو شکست دیدی ، سیمی فائنل میں جموں کشمیر سے مقابلہ

علیحدہ رہنے والی بیٹی سے خفیہ ملاقاتیں
انٹرویو میں وزیرِ اعظم اور ان کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹی، نوآ روتھ، کے درمیان کشیدہ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ باڈی گارڈ نے اس تعلق کو ایک ’المیہ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نتین یاہو کو اپنی اہلیہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے بیٹی سے خفیہ طور پر ملنا پڑتا تھا۔ گارڈ نے انکشاف کیاکہ ’’ ہم انہیں چپکے سے باہر نکالتے تھے، باقاعدہ  سیکوریٹی  مشقیں کرتے تھے تاکہ ان کی ملاقات ممکن ہو سکے۔‘‘ مبینہ طور پر ان خفیہ کارروائیوں میں وزیرِ اعظم کو یروشلم کے مختلف کیفے تک پہنچانا شامل تھا تاکہ وہ اپنی بیٹی اور نواسوں/نواسیوں کے ساتھ وقت گزار سکیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK