Updated: October 10, 2026, 1:48 PM IST
|
Agency
نیوزی لینڈ کیلئے۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۰ء کے درمیان ۲۴؍ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے جیت راول نے ۲۷۔۲۰۲۶ءکے ڈومیسٹک سیزن سے قبل پیشہ ورانہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ ستمبر میں ۳۸؍ سال کے ہوئے راول نے دسمبر ۲۰۰۸ء میں شروع ہونے والے اپنے تقریباً ۱۸؍ سالہ کرکٹ کریئر کو الوداع کہہ دیا۔
نیوزی لینڈ کے کرکٹ کھلاڑی جیت راول۔ تصویر: آئی این این
نیوزی لینڈ کیلئے۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۰ء کے درمیان ۲۴؍ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے جیت راول نے ۲۷۔۲۰۲۶ءکے ڈومیسٹک سیزن سے قبل پیشہ ورانہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ ستمبر میں ۳۸؍ سال کے ہوئے راول نے دسمبر ۲۰۰۸ء میں شروع ہونے والے اپنے تقریباً ۱۸؍ سالہ کرکٹ کریئر کو الوداع کہہ دیا۔ انہوں نے نوعمری میں ہندوستان کے گجرات سے آکلینڈ منتقل ہونے کے بعد ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی ٹیم کے خلاف آکلینڈ کی جانب سے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا۔
راول نے ۲۹۲؍ فرسٹ کلاس اننگز میں سے ۲۸۵؍ میں اوپننگ کی اور ۳۷ء۳۶؍کے اوسط سے۱۰؍ہزار ۱۲۷؍رن بنائے، جن میں ۲۳؍ سنچریاں شامل ہیں۔ دسمبر ۲۰۲۵ء میں ناردرن ڈسٹرکٹس کی کپتانی کرتے ہوئے وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ۱۰؍ ہزار رن مکمل کرنے والے نیوزی لینڈ کے ۳۰؍ویں بلے باز بنے۔
راول نے ۲۰۱۶ء میں کرائسٹ چرچ میں پاکستان کے خلاف نیوزی لینڈ کیلئے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ انہیں اپنی واحد ٹیسٹ سنچری بنانے کیلئے۲۸؍ اننگز کا انتظار کرنا پڑا جبکہ انہوں نے ۷؍ نصف سنچریاں بھی بنائیں۔ وہ نیوزی لینڈ کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے جون ۲۰۲۱ء میں پہلی ورلڈ ٹیسٹ چمپئنشپ جیتی تھی۔
راول نے کہا کہ نیوزی لینڈ کیلئے کھیلنا بچپن کا خواب تھا اور انہیں اپنے کریئر پر فخر ہے۔ ٹیم میں کین ولیمسن، راس ٹیلر اور دیگر سینئر کھلاڑیوں نے انہیں ہمیشہ یہ احساس دلایا کہ وہ ٹیم کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ناردرن ڈسٹرکٹس کے کرکٹ جنرل منیجر ایان سینڈبروک نے راول کو شاندار سینئر کھلاڑی اور قائد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے رن اور پُرسکون قیادت کی کمی محسوس ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ راول سب کا احترام کرنے والے، وفادار اور ٹیم کے بہترین ساتھی رہے ہیں۔