پرینیتی چوپڑہ،امول پالیکر،شیکھر سمن اور عادل حسین جیسےماہر اداکاروں کی اداکاری سے سجی فلم میں سماجی پہلو کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
فلم’رپورٹنگ لائیو‘کےایک منظر میںپرینیتی چوپڑہ اور دیگرکو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این
رپورٹنگ لائیو (Reporting Live)
اسٹارکاسٹ: پرینیتی چوپڑہ،دیوین بھوجانی، شاسوت چٹرجی، عادل حسین، امول پالیکر، ناصر، سمیر کوچر، شیکھر سمن،پراچی شاہ
ڈائریکٹر: دھروو ترپاٹھی l رائٹر:دھروو ترپاٹھی،مہیر جادھو
پروڈیوسر: جوشوا شرساٹھ، پرتھا کرن ٹھاکر،امیت چودھری
ایڈیٹر: شیام سالگائونکر
کاسٹنگ ڈائریکٹر: سنجیو موریہ
سنیماٹو گرافر: سدھیر چودھری
پروڈکشن منیجر: شبھم باجپئی، نمیش سکسینہ
اسسٹنٹ ڈائریکٹر: انوراگ پردھان، مسکان دھرمانی
ریٹنگ: **
کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ ریت کیلئےکوئی کسی کی جان بھی لےسکتا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ غلط فہمی میںہیں، کیونکہ یہ محض ریت نہیںبلکہ ’براؤن گولڈ‘ ہے، جس کی غیر قانونی کان کنی کا کاروبار ملک کی کئی ریاستوں میں دھڑلے سے جاری ہے۔ کوئی اسے روکنے کی کوشش کرے تو کان کنی مافیا اسے راستے سے ہٹانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ریت کے اسی ’براؤن گولڈ‘ کی غیر قانونی تجارت کے خوفناک پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہے او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر جمعہ،۹؍اکتوبر کو ریلیز ہونے والی فلم ’رپورٹنگ لائیو‘۔ پرینیتی چوپڑا کی اداکاری سے سجی یہ فلم دکھاتی ہے کہ کس طرح بدعنوانی کی دلدل میں پھنسا یہ غیر قانونی کاروبار ماحولیات اور انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کررہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ موضوع کے اعتبار سے اہم یہ فلم مجموعی طور پر کیسی بنی ہے۔
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی ایک بلند حوصلہ، بہادر اور جفاکش صحافی سندھیا یادو (پرینیتی چوپڑا) اور اس کے ساتھی کیمرہ مین ونود (دیون بھوجانی) کےگرد گھومتی ہے۔ ایک گاؤں میں پل ٹوٹنے کے سبب ہونے والے حادثے میں اسکول کے کئی بچوں کی موت ہوجاتی ہے۔ اس دردناک واقعے کی رپورٹنگ کے لیے وہاں پہنچی سندھیا کے ہاتھ ریت کی غیر قانونی کان کنی سے متعلق ایک چونکا دینے والی خبر لگ جاتی ہے۔
اس غیر قانونی کاروبار کے نتیجے میں دریاؤں کے راستے تبدیل ہورہے ہیں، آس پاس کے کھیت بنجر ہوتے جارہے ہیں اور دریاؤں پر بنے پل کمزور پڑرہے ہیں، جس کی وجہ سے حادثات میں لوگوں کی جانیں جارہی ہیں۔ اس کے باوجود کوئی اس معاملے پر زبان کھولنے کو تیار نہیں، کیونکہ یہ خبر جتنی بڑی ہے، اتنی ہی خطرناک بھی ہے۔ ریت مافیا کے اس منظم نیٹ ورک کی رسائی انتہائی بااثر لوگوں تک ہے۔
سندھیا سچائی کا پتہ لگانے کے لیے اپنی تحقیقات شروع کرتی ہے۔شیو کاکا (امول پالیکر) اور منگیش (پیتوباش ترپاٹھی) کی مدد سےوہ کسی نہ کسی طرح اس غیر قانونی کاروبار کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ لیکن سچ سامنے لانے کی اس کوشش کا انجام کیا ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے فلم دیکھنی ہوگی۔
ہدایت کاری
اس فلم کے ذریعے پہلی مرتبہ ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھنے والے مصنف اور ہدایت کار دھروو ترپاٹھی نے یقیناً ایک سنجیدہ اور اہم مسئلےکو موضوع بنایا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ریت مافیا کے بارےمیں کئی حیران کن انکشافات سامنے آچکےہیں۔ دھروو نے فلم میںتحقیقاتی صحافت کے ذریعے اس غیر قانونی کاروبار کی گہرائی میں اترنے اور اس سے جڑے مختلف خطرات کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، اس معاملے میں سیاسی گٹھ جوڑ کے پہلو کو وہ نظرانداز کردیتے ہیں۔
ہدایت کار نے فلم کو حقیقت سے قریب رکھنے کی کوشش کی ہے اور غیر ضروری ڈرامائی انداز اختیار کیے بغیر اپنی بات کہی ہے۔ اس کے باوجود اسکرین پلے کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا تھا۔ فلم میں آنے والے موڑ پہلے ہی سے قابلِ پیش گوئی محسوس ہوتے ہیں، اس لیے وہ ناظرین کو چونکانے میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ اسی طرح درد اور جذبات سے بھرپور مناظر بھی وہ اثرپیدا نہیں کرپاتے کہ جذبات سے مغلوب ہوکر ناظرین کی آنکھیں نم ہوجائیں۔
اداکاری
اداکاری کی بات کریں تو تمام فن کاروں نے اپنے اپنے کردار مناسب انداز میں نبھائے ہیں، لیکن امول پالیکر، شیکھر سمن، شاشوت چٹرجی اور عادل حسین جیسے تجربہ کار اور باصلاحیت اداکاروں کی موجودگی سے جس اثر کی توقع تھی، وہ فلم میں دکھائی نہیں دیتا۔ پرینیتی چوپڑا سے بھی زیادہ گہری اور شدت بھری اداکاری کی امید رہ جاتی ہے۔البتہ دیون بھوجانی اپنی اداکاری سے متاثر کرتے ہیں۔ ان کاکام عمدہ ہے۔ فلم کا تکنیکی پہلو بھی اچھا ہے۔ مجموعی طور پر ریت مافیاکے غیر قانونی کاروبار کی پرتیں کھولنے والی یہ فلم ایک بار آن لائن ضرور دیکھی جاسکتی ہے۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ سماجی مسائل پر مبنی فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں تو غیر قانونی کان کنی کے ایک اہم اور تلخ سچ کو سامنے لانے والی یہ کرائم ڈراما فلم ایک بار دیکھی جاسکتی ہے۔