Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیویندر فرنویس کے دہلی جانےکی خبر محض افواہ ہے یا اس کے آثار نظر آ رہے ہیں

Updated: August 30, 2026, 11:44 AM IST | New Delhi

اپوزیشن کے متعدد لیڈران یہ کہہ چکے ہیں کہ وزیراعلیٰ کو مرکزی کابینہ میں شامل کیا جانے والا ہے، سنجے رائوت نے تو ان کے وزیراعظم بننے کی پیش گوئی بھی کردی۔

Devendra Fadnavis is considered close to Amit Shah. Photo: INN
دیویندر فرنویس کو امیت شاہ کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ کچھ عرصے سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے دہلی جانے یعنی مرکزی کابینہ میں  کوئی عہدہ سنبھالنے کی خبر گردش کر رہی ہے۔ ہرچند کہ خود فرنویس متعدد مرتبہ یہ بات دہرا چکے ہیں کہ وہ دہلی نہیں جا رہے ہیں بلکہ مہاراشٹر حکومت سنبھالتے رہیں گے لیکن ان کا بار بار دہلی جانا اور وزیر اعظم مودی یا وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرنا ضرور کوئی اشارہ دے رہا ہے۔ 
اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے میں برسراقتدار طبقے سے زیادہ اپوزیشن میں بحث ہو رہی ہے۔ شیوسینا (ادھو) کے رکن پارلیمان سنجے رائوت مسلسل کسی نہ کسی بہانے دیویندر فرنویس کو مرکزی کابینہ میں شامل کئے جانےکے تعلق سے بیان دے رہے ہیں۔ جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے بعد جس دن مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لیا گیا اسی دن امیت شاہ نے فون کرکے فرنویس کو دہلی طلب کیا تھا۔ اس وقت سنجے رائوت نے کہا تھا کہ ’’ دیویندر فرنویس ملک کے نئے وزیر تعلیم ہو سکتے ہیں۔ ‘‘ جب فرنویس لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ وہ کہیں نہیں جا رہےہیں بلکہ مہاراشٹر ہی میں پارٹی کی کمان سنبھالیں گے۔ پھر جب منترالیہ میں وزیر اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ کی جانب سے ایک کے بعد ایک میٹنگیں منعقد ہونے لگیں تب بھی سنجے رائوت نے کہا کہ دیویندر فرنویس جلد از جلد ریاست کے کام نپٹا رہے ہیں کیونکہ انہیں دہلی جانا ہے۔ انہیں دہلی میں بڑی ذمہ داری ملنے والی ہے۔ اب تو رائوت نے یہاں تک کہہ دیا کہ بی جے پی میں اس تعلق سے تگ ودو جاری ہے کہ اگلا وزیر اعظم دیویندر فرنویس کو بنایا جائے۔ یاد رہے کہ راہل گاندھی سے لے کر اروند کیجریوال تک یہ کہہ چکے ہیں وزیر اعظم مودی اپنی میعاد کار پوری نہیں کر سکیں گے اور انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے اندر نئی قیادت کی تلاش جاری ہے۔ ٹھیک یہی بات سنجے رائوت بھی کہہ چکے ہیں کہ ۱۷؍ ستمبر ( وزیراعظم کی سالگرہ) کے بعد ملک میں بہت بڑا سیاسی زلزلہ آئے گا، اور نریندر مودی وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بطور وزیر اعظم یہ مودی کی آخری سالگرہ ہوگی۔ اب انہوں نے فرنویس کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ وزیر اعظم بنتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: گنیش اُتسو کے’ مہاپرساد‘ کیلئے لائسنس لازمی، ہندوتواوادی ناراض

سنجے رائوت کے بعد اب کانگریس کے وجے وڈیٹیوار نے بھی فرنویس کےوزیر اعظم بننےکا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ ہماری خواہش ہے کہ ۲۰۲۹ء سے پہلے دیویندر فرنویس وزیراعظم بن جائیں کیونکہ ۲۰۲۹ء کے بعد انہیں موقع نہیں ملے گا۔ کم از کم ایک بار تو کوئی مراٹھی شخص وزیراعظم بن جائے۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ فرنویس تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں  شاید اسی لئے بی جے پی نے انہیں اعلیٰ عہدہ (پارلیمانی بورڈ) دیا ہے۔ یہ ان کی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ہماری خواہش ہے کہ دیویندر فرنویس ۲۰۲۹ء سےپہلے ملک کے وزیراعظم بن جائیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی انہیں کتنا موقع دیتی ہے۔ ہماری خواہش بس یہ ہے کہ کوئی مراٹھی وزیر اعظم بن جائے۔ 
یاد رہے کہ دیویند ر فرنویس کو امیت شاہ کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ ایکناتھ شندے کو شیوسینا سے اور اجیت پوار کو این سی پی سے الگ کرکے مہایوتی میں شامل کروانےکا پورا کریڈٹ فرنویس ہی کو دیا گیا جس کی وجہ سے مرکز میں ان کی قدر اور بڑھ گئی ہے۔ اسکے علاوہ فرنویس کا تعلق ناگپور سے ہے اور آر ایس ایس ہیڈکوارٹر تک ان کی براہ راست رسائی ہے۔ انہیں موہن بھاگوت کا منظور نظر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسلئے اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ فرنویس کو وزیراعظم بنانے کی تگ ودو جاری ہے تو اس میں کوئی خاص حیرانی والی بات نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیجریوال اور راہل گاندھی کی اس بات میں کتنا دم ہے کہ پارٹی نئی قیادت کی تلاش کر رہی ہے کیونکہ اس سال نریندرمودی کو ہٹایا جانے والا ہے۔ فرنویس کا دہلی جانے یا نہ جانے کا راز اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK