ٹرمپ نے کنیڈا کے ساتھ کشیدگیکے دوران،’لیک امریکہ‘‘ کی حفاظت کرنے والے’’ڈونالڈ ڈک‘ جیسے فوجیوں کی اے آئی ویڈیوجاری کی، کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ اس جھیل کا نام ہمیشہ اونتاریو ہی رہے گا۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 9:01 PM IST | Washington
ٹرمپ نے کنیڈا کے ساتھ کشیدگیکے دوران،’لیک امریکہ‘‘ کی حفاظت کرنے والے’’ڈونالڈ ڈک‘ جیسے فوجیوں کی اے آئی ویڈیوجاری کی، کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ اس جھیل کا نام ہمیشہ اونتاریو ہی رہے گا۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کنیڈا کے ساتھ اپنے تنازع کو اس وقت بڑھا دیا جب انہوں نے اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں بھاری اسلحہ سے لیس اور مخصوص بالوں والے’’ڈونالڈ ڈک‘‘کی ایک فوج ’’لیک امریکہ‘‘ جو کہ سابقہ جھیل اونتاریو ہے، کے ساحلوں کی حفاظت کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ہوائی فائی-او کے تھیم گانے پر مبنی ۳۴ء سیکنڈ کی اس کلپ میں کنیڈین گیز کے پرندے جن کے انسانی بازو ہیں، حملہ آور رائفلیں اٹھائے ہوئے ہیں اور صدر کے مخصوص سنہرے بالوں کا اسٹائل رکھتے ہیں، جھیل کے قریب مارچ کرتے ہیں اور جب قریبی شہر، جو ٹورنٹو سے مشابہت رکھتا ہے، کے افق پر آتش بازی ہوتی ہے تو وہ اپنے ہتھیار فائر کرتے ہیں۔
US President #Trump just posted an AI slop video of armed ducks marching and firing in unison on “Lake America.”pic.twitter.com/90Sez2CEEa
— Record GBA (@RecordGBA) August 30, 2026
واضح رہے کہ یہ پوسٹس اس وقت سامنے آئیں جب ٹرمپ نے جمعرات کو ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس میں وفاقی ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ تمام دستاویزات اور ریکارڈز میں جھیل اونتاریو کو سرکاری طور پر ’’لیک امریکہ‘‘ کہیں،اور یہ تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ یہ اقدام ان کی گزشتہ کوشش کی طرح ہے جب انہوں نے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’’خلیج امریکہ‘‘ رکھا تھا۔ سنیچر کو پوسٹ کی گئی دوسری اے آئی ویڈیو میں ٹرمپ کو ’’ویلکم ٹو جھیل اونتاریو‘‘ کا نشان گرتے ہوئے اور اس کی جگہ ’’ویلکم ٹو لیک امریکہ‘‘ کا نشان نصب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے بعد وہ ولیج پیپل کے گانے ’’وائی ایم سی اے‘‘ پر رقص کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ نام تبدیل کرنے کا معاملہ امریکہ اور اس کے دیرینہ اتحادی کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔اس سے قبل ۲۲؍ اگست کو،جب آخری لمحات میں اوٹاوا اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے، امریکہ نے تقریباً۲۰؍ بلین ڈالر مالیت کی کنیڈین برآمدات پر۵۰؍ فیصد ٹیرف عائد کیے ۔ وزیراعظم مارک کارنی نے ان محصولات کو جنگ کے ایک عمل سے تشبیہ دی اور امریکی اشیاء پر۵۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کرکے جوابی کارروائی کی۔ بعد ازاں کارنی نے ٹرمپ کےحکم نامے پر ایکس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اونتاریو‘‘ کا نام وینڈٹ زبان کے لفظ ’’اونٹاری ایو‘‘ سے آیا ہے، جس کا مطلب ہے ’’جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے،‘‘ اور یہ نام کنیڈا کی کنفیڈریشن اور امریکہ کی آزادی کے اعلان دونوں سے پہلے کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کنیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت کا نام دینے کا مطلب ہے اسے جھیل اونتاریو کہنا، تب، اب اور ہمیشہ۔‘‘
Trump just posted this AI video of himself replacing the Lake Ontario sign with a “Lake America” sign.
— America Insider (@AmericaInsider0) August 30, 2026
I’ll never understand how 77 million people voted for this buffoon.
Should politicians use AI-generated videos like this? pic.twitter.com/tQkd5UKJiW
مزید برآںاونتاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ونونا میں ایک نئی تختی کی نقاب کشائی کی جس پر لکھا تھا ’’جھیل اونتاریو، اب اور ہمیشہ‘‘ اور ٹرمپ کو ’’آمر‘‘ اور ’’غنڈہ‘‘ قرار دیا۔ اس سے قبل ٹرمپ نے فورڈ کو ’’چاپلوس‘‘ قرار دیا تھا۔ دریں اثناءیہ تنازعہ وسیع تر کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ٹرمپ کی بار بار کی گئی تجویز بھی شامل ہے کہ کنیڈا کو ’’ ۵۱؍ویں ریاست‘‘ بننا چاہیے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔