Updated: March 10, 2026, 10:02 AM IST
| New Delhi
کئی ریاستوں میں دہائیوں سے ان کے پبلک سروس کمیشنوں میں مسلمانوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق، چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، مہاراشٹر، ہریانہ اور ہماچل پردیش سمیت کئی ریاستوں میں کبھی بھی کوئی مسلمان ریاستی کمیشن کے چیئرپرسن یا ممبر کے طور پر خدمات انجام نہیں دے سکا ہے۔
یو پی ایس سی بھون۔ تصویر: ایکس
سرکاری اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی سے متعلق حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشنز (ایس پی ایس سی) کے قائدانہ عہدوں پر مسلمانوں کی موجودگی انتہائی محدود رہی ہے۔ یہ وہ آئینی ادارے ہیں جو ملک بھر میں سرکاری خدمات کے لئے بھرتی کے امتحانات منعقد کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
محقق محمد عبدالمنان کی نئی کتاب ’ایٹ دی باٹم آف دی لیڈر: اسٹیٹ آف دی انڈین مُسلمز‘ (At the Bottom of the Ladder: State of the Indian Muslims) کے مطابق، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اسٹیٹ پبلک سروس کمیشنز کے مجموعی طور پر ۴۷۴ سربراہوں میں صرف ۲۲ مسلمانوں نے بطور چیئرپرسن خدمات انجام دی ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ وسط ۲۰۲۴ء تک ان کمیشنوں کی ۹۶۷ نشستوں میں مسلم ممبران کی تعداد ۹۱ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ملک بھر میں کل ۱۳؍ ہزار ۸۱۸؍ ضلعی اور سیشن ججوں میں صرف ۷۱۱؍ مسلمان جج؛ تمل ناڈو سرفہرست
کتاب میں ۱۵۰ کلیدی سرکاری اداروں اور تنظیموں میں مسلم نمائندگی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ محقق نے نوٹ کیا کہ کئی ریاستوں میں دہائیوں سے ان کے پبلک سروس کمیشنوں میں مسلمانوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق، چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، مہاراشٹر، ہریانہ اور ہماچل پردیش سمیت کئی ریاستوں میں کبھی بھی کوئی مسلمان ریاستی کمیشن کے چیئرپرسن یا ممبر کے طور پر خدمات انجام نہیں دے سکا ہے۔
کچھ ریاستوں میں مسلمانوں کی محدود نمائندگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بہار میں، ’بہار پبلک سروس کمیشن‘ کے چیئرپرسن کے طور پر تین مسلمانوں نے خدمات انجام دیں، جن میں اے کے ایم حسن (۸۹-۱۹۸۵ء)، رضیہ تبسم (۲۰۰۳ء) اور امتیاز احمد کریمی (۲۰۲۴ء) شامل ہیں۔ آسام کے آسام پبلک سروس کمیشن میں صرف ایک مسلمان ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر آصف علی ۱۹۸۴ء سے ۱۹۸۹ء کے درمیان چیئرپرسن رہے، حالانکہ وقت کے ساتھ کمیشن میں ۱۸ مسلم ممبران مقرر کئے گئے۔ کیرالا میں ۱۹۵۶ء میں کیرالا پبلک سروس کمیشن کے قیام کے بعد سے دو مسلم کمیشن کے چیئرپرسن رہے ہیں، جبکہ تامل ناڈو میں ۱۹۳۲ء سے اب تک تین مسلم سربراہ رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ مختلف خطوں میں صورتحال نمایاں طور پر مختلف ہے۔ مثال کے طور پر، جموں و کشمیر میں، جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے ۲۱ چیئرپرسن میں سے ۸ مسلمان رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی جیلوں میں اعلیٰ عہدوں پر مسلم نمائندگی انتہائی کم
واضح رہے کہ پبلک سروس کمیشنز کی بنیاد نوآبادیاتی دور میں پڑی تھی۔ لی کمیشن کی سفارش پر ۱۹۲۶ء میں پہلا کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ آزادی کے بعد، ہندوستان نے سرکاری خدمات میں بھرتی کی نگرانی کے لئے مرکزی اور ریاستی سطح پر دو مختلف کمیشنوں پر مشتمل نظام اپنایا۔ پبلک سروس کمیشنز دستورِ ہند کی دفعات ۳۱۵ سے ۳۲۳ کے تحت قائم کئے گئے ہیں اور یہ مسابقتی امتحانات کے ذریعے سول سرونٹس کی بھرتی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ’یونین پبلک سروس کمیشن‘ (یو پی ایس سی) کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، جو مرکزی خدمات کے لئے قومی سطح پر بھرتیاں کرتا ہے۔