Inquilab Logo Happiest Places to Work

کھلاڑیوں کو وہ احترام نہیں مل رہا جس کے وہ حقدار ہیں: سِنر

Updated: May 08, 2026, 5:06 PM IST | Rome

یانک سِنر کا کہا کہ یہ ’’کہنا مشکل ہے‘‘کہ کیا وہ کبھی انعامی رقم (پرائز منی) کے معاملے پر کسی گرینڈ سلیم کا بائیکاٹ کریں گے۔ تاہم، اس اطالوی کھلاڑی کا دعویٰ ہے کہ کھلاڑیوں کو وہ احترام نہیں مل رہا جس کے وہ حقدار ہیں۔

Jannik Sinner.Photo:X
یانک سنر۔ تصویر:ایکس

یانک  سِنر کا کہا کہ یہ ’’کہنا مشکل ہے‘‘کہ کیا وہ کبھی انعامی رقم (پرائز منی)  کے معاملے پر کسی گرینڈ سلیم کا بائیکاٹ کریں گے۔ تاہم، اس اطالوی کھلاڑی کا دعویٰ ہے کہ کھلاڑیوں کو وہ احترام نہیں مل رہا جس کے وہ حقدار ہیں۔ 
یانک  سِنر کا کہا کہ یہ ’’کہنا مشکل ہے‘‘کہ کیا وہ کبھی انعامی رقم (پرائز منی)  کے معاملے پر کسی گرینڈ سلیم کا بائیکاٹ کریں گے۔ تاہم، اس اطالوی کھلاڑی کا دعویٰ ہے کہ کھلاڑیوں کو وہ احترام نہیں مل رہا جس کے وہ حقدار ہیں۔ ان کی ساتھی اور دنیا کی نمبر ایک کھلاڑی آرینا سبالینکا نے منگل کو کہا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ کھلاڑی ’کسی نہ کسی موڑ پر‘ بڑے ٹورنامنٹوں (میجرز) میں سے کسی ایک کا بائیکاٹ ضرور کریں گے۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، ٹاپ ۱۰؍کھلاڑی چاروں گرینڈ سلیم سے ہونے والی کمائی میں زیادہ حصے داری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ منافع میں شراکت داری اور میچ کے اوقات (شیڈولنگ) جیسے معاملات میں اپنی بات رکھنے کا زیادہ اختیار بھی چاہتے ہیں۔
اٹالین اوپن میں لگاتار چھٹا ماسٹرز ۱۰۰۰؍ خطاب جیتنے کی کوشش سے پہلے روم میں سِنر نے کہا کہ ’’یہ احترام کی بات زیادہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جتنا ہمیں واپس مل رہا ہے، ہم اس سے کہیں زیادہ دے رہے ہیں۔ یہ صرف ٹاپ کھلاڑیوں کے لیے نہیں ہے، یہ ہم تمام کھلاڑیوں کے لیے ہے، چاہے وہ مرد ہوں یا خواتین۔ ٹاپ ۱۰؍ مرد اور ٹاپ ۱۰؍ خواتین کھلاڑیوں نے مل کر ایک خط لکھا تھا۔ یہ اچھی بات نہیں ہے کہ ایک سال گزر جانے کے بعد بھی ہم اس نتیجے کے آس پاس بھی نہیں پہنچے ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔‘‘
سِنر نے کہا کہ ’’اگر دوسرے کھیلوں کی بات کریں  تو وہاں کے ٹاپ ایتھلیٹ جب کوئی ضروری خط بھیجتے ہیں، تو مجھے پورا یقین ہے کہ ۴۸؍ گھنٹوں کے اندر انہیں نہ صرف جواب ملتا ہےبلکہ ان کی ایک میٹنگ بھی ہو جاتی ہے۔ یقیناً، ہم پیسوں کی بات تو کر ہی رہے ہیں، لیکن سب سے ضروری عزت ہے اور ہمیں وہ مل ہی نہیں رہی۔‘‘
 ۲۴؍ بار کے گرینڈ سلیم  چمپئن  نوواک جوکووچ بھی اس بحث میں شامل ہو گئے اور کہا کہ ’’کھلاڑی جانتے ہیں کہ انہیں ہمیشہ میرا ساتھ ملے گا۔‘‘۳۸؍ سالہ سربیا کے کھلاڑی نے مزید کہا کہ ’’مجھے یہ بات اچھی لگی کہ اس موضوع پر اب زیادہ بات چیت ہو رہی ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ گرینڈ سلیم اور ٹور کے معاملے میں کھلاڑیوں کی جو حیثیت ہونی چاہیے، وہ ابھی نہیں ہے۔‘‘
کھلاڑیوں اور گرینڈ سلیم کے نمائندوں کے درمیان میٹنگز ہوئی ہیں۔ کھلاڑیوں کو منافع میں حصے داری کے اپنے مطالبے پر کوئی کامیابی نہیں ملی ہے اور انہوں نے مارچ میں انڈین ویلز میں گرینڈ سلیم پلیئر کونسل بنانے پر تبادلہ خیال کے لیے ہونے والی میٹنگ میں شامل ہونے سے منع کر دیا۔ گرینڈ سلیم کے حکام ابھی آپس میں یا کھلاڑیوں کے ساتھ زیادہ بات چیت نہیں کر سکتے کیونکہ پروفیشنل ٹینس پلیئرز اسوسی ایشن  نے ان پر مقدمہ کر رکھا ہے۔ اسوسی ایشن نے ان پر اجارہ داری قائم کرنے کا الزام لگایا ہے۔
سِنر نے اس مہینے ہونے والے فرینچ اوپن میں دی جانے والی ۵ء۹؍ فیصد انعامی رقم پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ کھلاڑیوں کا خیال ہے کہ یہ رقم ٹورنامنٹ کی کل کمائی کے ۲۲؍ فیصد سے کافی کم ہے، جس کے وہ حقدار ہیں۔ گزشتہ سال کے یو ایس اوپن میں انعامی رقم میں ۲۰؍ فیصد اضافہ ہوا تھا، اور جنوری میں ہونے والے آسٹریلین اوپن میں بھی یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۱۶؍ فیصد زیادہ تھے۔
سِنر نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں ہمیں یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ ومبلڈن میں انعامی رقم کتنی ہوگی۔ ہمیں پوری امید ہے کہ یہ بہتر ہوگی۔ اس کے بعد، ظاہر ہے، یو ایس اوپن ہوگا۔ اس لیے میں سمجھ سکتا ہوں کہ کھلاڑی بائیکاٹ کی بات کیوں کر رہے ہیں، کیونکہ ہمیں کہیں نہ کہیں سے تو شروعات کرنی ہی ہوگی۔ یہ سلسلہ کافی طویل عرصے سے چل رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:پرینکا چوپڑہ اور اورلینڈو بلوم تھریلر ’’ری سیٹ‘‘ میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوں گے


سِنر نے کسی بھی گرینڈ سلیم کا بائیکاٹ کرنے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ظاہر ہے، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ ایک طرح سے میں مستقبل کی پیش گوئی نہیں کر سکتا۔ یہ پہلی بار ہے جب مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تمام کھلاڑی ایک ہی پوزیشن میں ہیں اور سب کی سوچ بھی ایک جیسی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ درست بھی ہے کیونکہ کھلاڑیوں کے بغیر کوئی بھی ٹورنامنٹ نہیں ہو سکتا۔ ساتھ ہی، ہم ٹورنامنٹ کا احترام بھی کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں بطور ایتھلیٹ اور بڑا بناتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:اکھلیش یادو ممتا بنرجی سے ملنے بنگال پہنچے

انہوں نے مزید کہا کہ ’’چلیے دیکھتے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہوتا ہے۔‘‘ جوکووچ نے ہڑتال پر جانے کا کوئی براہ راست وعدہ تو نہیں کیا، لیکن سبالینکا کی اس معاملے میں مداخلت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے لیے یہی حقیقی لیڈرشپ ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ انہیں اسے برقرار رکھنا چاہیے۔ میں انہیں سلام کرتا ہوں۔ ہم سب ایک ہی کھیل کا حصہ ہیں۔ ہم سب اس کھیل کو اور اونچا اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ کھلاڑی ہوں، ٹورنامنٹ ہوں یا گورننگ باڈیز۔ بدقسمتی سے، اکثر مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے، جسے کچھ لوگ حل کرنا نہیں چاہتے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہیں پر کھلاڑیوں کے پاس اصل طاقت ہوتی ہے۔ میں ہمیشہ اس پورے نظام میں کھلاڑیوں کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی حمایت کرتا ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK