مہاراشٹر حکومت نے اس معاملے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مختلف ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود ویڈیو مواد کی تفصیلی جانچ کے احکامات جاری کیے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 4:20 PM IST | Mumbai
مہاراشٹر حکومت نے اس معاملے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مختلف ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود ویڈیو مواد کی تفصیلی جانچ کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے سے متعلق تنازع اب بڑھتا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے اس معاملے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مختلف ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود ویڈیو مواد کی تفصیلی جانچ کے احکامات جاری کیے ہیں۔
مہاراشٹر محکمۂ داخلہ نے اس تحقیقات کی ذمہ داری مہاراشٹر سائبر پولیس کو سونپی ہے۔ سائبر پولیس اب پرنیت مورے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، آن لائن ویڈیوز، مختلف پلیٹ فارمز پر شوز کی ریکارڈنگز اور وائرل کلپس کا جائزہ لے گی۔ تحقیقاتی ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا کسی ویڈیو میں ایسی باتیں کہی گئی ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کرتی ہوں یا کسی طبقے، فرد یا خاتون کی عزت و وقار کو ٹھیس پہنچاتی ہوں۔
دراصل، یہ تنازع سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک شو کے ویڈیو سے شروع ہوا۔ ویڈیو میں پرنیت مورے حاضرین میں موجود ایک شخص، ہمانشو جانگڑا، سے گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ گفتگو کے دوران جانگڑا اپنا ڈیٹنگ کا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایک خاتون کو۳۷۰؍ روپے کی چکن بریانی کھلائی تھی اور اسی لیے وہ اس رقم کی وصولی کرنا چاہتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا کا فاتحانہ آغاز، ترکی کو ۲؍گول سے مات دی
اس تبصرے پر شو کے دوران پرنیت مورے نے ہنستے ہوئے اسے’پیک گروگرام کانٹینٹ‘ قرار دیا۔ بعد ازاں اس شو کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ جب تنازع بڑھا تو پرنیت مورے نے ’۳۷۰؍ روپے کی بریانی‘ والے ویڈیو پر معذرت کی۔ انہوں نے ہفتے کے روز انسٹاگرام پر اپنا ایک ویڈیو جاری کیا، جس میں کہا کہ وہ کافی عرصے سے اس مسئلے پر بات کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل تھا۔
یہ بھی پڑھئے:وِہان کی پیدائش کے بعد کترینہ کیف کے کم بیک کی تیاریاں، او ٹی ٹی ڈیبیو کا امکان
انہوں نے کہا کہ ۳۷۰؍ روپے کی بریانی والے ویڈیو کے بعد مجھے لوگوں کی جانب سے کافی نفرت کا سامنا کرنا پڑا اور میں اس کا مستحق ہوں۔ شو کے دوران ایک شخص نے کئی قابلِ اعتراض باتیں کی تھیں۔ لوگ ہنس رہے تھے، جس کی وجہ سے میں بھی ماحول کے اثر میں آ گیا اور درست فیصلہ نہ کر سکا۔ میں چاہتا تو اسی وقت اس شخص کو روک سکتا تھا، لیکن ایسا نہ کرکے میں نے اسے ایک پلیٹ فارم دے دیا، جس سے معاملہ مزید بڑھ گیا۔ اس سے جن لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، میں ان سب سے معذرت خواہ ہوں۔ میں اس معاملے میں جاری قانونی کارروائی کے دوران حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہوں۔ میری آپ سب سے صرف یہی درخواست ہے کہ مجھے ایک اور موقع دیں، میں ایک بہتر انسان بن کر دکھاؤں گا۔‘‘