Inquilab Logo Happiest Places to Work

نجکاری اور سرکاری املاک کی فروخت کی تیاری

Updated: June 11, 2026, 11:38 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

مشرق وسطیٰ کے بحران اور معیشت کی زبوں حالی کے پیش نظر مودی سرکارکو وسائل کی کمی کا سامنا، اضافی آمدنی کیلئے ہنگامی اقدامات پر مجبور۔

Nirmala Sitharaman.Photo:INN
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این
مشرق وسطیٰ کے بحران سے معیشت کو محفوظ رکھنےکیلئے مودی سرکار کو وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کیلئے حکومت نے اضافی آمدنی کیلئے ہنگامی  قدم اٹھانے پر توجہ دینا شروع کردیا ہے۔ ’نیو انڈین ایکسپریس‘  میں دیپک منڈل اور پشپتا ڈئے کی رپورٹ کے مطابق اضافی آمدنی حاصل  کرنے کے جن منصوبوں کو فعال کیا گیا ہے ان میں نجکاری  کے ساتھ ہی ساتھ سرکاری  اثاثوں اور زمینوں کو  تیزی سے مونیٹائز ( پیسوں میں بدلنا یعنی فروخت کرنا)شامل ہے۔ ا س کے ساتھ  ہی ساتھ ساتھ   ڈس انویسٹمنٹ (نجکاری ) کے ذریعے فنڈ حاصل  کرنے کی کوششوں میں بھی  اضافہ کردیا گیاہے۔
ذرائع کے مطابق وسائل کے مزید ذرائع تلاش کرنے کیلئے حکومت کے اعلیٰ عہدیدار ہر ہفتے ڈپارٹمنٹ آف انویسٹ منٹ اینڈ پبلک  اسیس منٹ (ڈی آئی پی اے ایم) اور ڈپارٹمنٹ آف پبلک انٹرپرائز(ڈی پی ای) کے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ مالی سال۲۷ء میں نجکاری سے بجٹ میں طے کئے گئے ۸۰؍ ہزار کروڑ روپے کے ہدف کو حاصل کرلیا جائےگا۔
 
 
آئی ڈٹی بی آئی کو فروخت کیا جائےگا
ایک عہدیدار نے’نیو انڈین ایکسپریس‘ کے نمائندوں کو  بتایا کہ آئی ڈی بی آئی بینک کی مجوزہ اسٹریٹجک فروخت، جسے قیمتوں کے تعین سے متعلق خدشات اور سرمایہ کاروں کی کم دلچسپی کی وجہ سے روک دیا گیا تھا، دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ حکومت نے نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن (این ایم پی)۰ء۲ء کے تحت ۲۰۲۶ء سے۲۰۳۰ء تک۵؍سالہ مدت میں۱۰؍لاکھ کروڑ روپے کے اثاثوں کو  مونیٹائز (فروخت)کرنے  کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ’این ایم پی۰ء۱ ‘کے تحت حکومت نے۶؍ لاکھ کروڑ روپے کے ہدف کا تقریباً۹۰؍ فیصد حاصل کر لیا تھا۔
 غیر فعال  اثاثے بھی بیچے جائیں گے
اسی دوران مرکز’ نیشنل لینڈ مونیٹائزیشن کارپوریشن‘ کے ذریعے غیر استعمال شدہ اور  ایسے  سرکاری املاک کو فروخت کرنے کا عمل تیز کررہا ہے جو بنیادی حیثیت کے حامل نہیں ہیں۔  ڈی پی ای کے مطابق، مالی سال۲۶ء  میں تقریباً۱۰؍ہزار ۴۸؍ کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کو مونیٹائز کرنے کی منظوری حاصل کر لی گئی تھی۔
 
 
حکومت پر مالی بوجھ میں اضافہ
 حکومت نے مالی استحکام  اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے  ایک  ایک لاکھ کروڑ روپے  کافنڈ قائم کیا ہے۔ اس میں سے۱۰؍ہزار کروڑ  تیل کمپنیوں کے لئے ہیں تاکہ ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ایسے اقدام کی وجہ سے حکومت کا مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK