Inquilab Logo Happiest Places to Work

اترپردیش پنچایت انتخابات کی حتمی ووٹر فہرست جاری

Updated: June 11, 2026, 11:00 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

ووٹروں کی تعداد میں ۲۹؍ لاکھ سے زائد کا اضافہ،دوکروڑ سے زائد نام خارج،پنچایت ووٹر کو ۹؍ہندسی یونیک شناختی نمبر جاری کیا گیا۔

Voter List.Photo:INN
ووٹرلسٹ۔ تصویر:آئی این این
اتر پردیش میں مجوزہ پنچایت انتخابات کے لئے حتمی ووٹر فہرست بدھ کے روز جاری کر دی گئی۔ تمام دعووں، اعتراضات اور جامع جانچ پڑتال کے بعد تیار کی گئی اس فہرست میں ریاست بھر کے کروڑوں ووٹروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے اس بار ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے ہر پنچایت ووٹر کو ۹؍ ہندسوں پر مشتمل منفرد شناختی نمبر (یونیک آئی ڈی) جاری کیا ہے۔فہرست جاری ہونے کے فوراً بعد متعدد اضلاع سے ووٹروں کو آن لائن فہرست ڈاؤن لوڈ کرنے میں مشکلات پیش آنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ حکام کے مطابق یہ مسئلہ تکنیکی خرابیوں کے باعث پیش آیا ہے اور اسے جلد دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
 
 
ریاستی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اب اتر پردیش میں مجموعی طور پر ۱۲؍ کروڑ۵۸؍ لاکھ ۵۱؍ ہزار۵۷۰؍ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے۔ نظرثانی سے قبل ووٹروں کی تعداد ۱۲؍ کروڑ۲۹؍ لاکھ  ۵۰؍ ہزار ۵۲؍ تھی۔ اس طرح ووٹروں کی تعداد میں ۲۹؍لاکھ  ایک ہزار۵۱۸؍ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔نظرثانی مہم کے دوران ۲؍کروڑ۳۲؍ لاکھ  ۲۴؍ ہزار۸۰۵؍ نئے ووٹروں کے نام فہرست میں شامل کئے گئے، جبکہ ایک سے زائد مقامات پر اندراج، پتہ تبدیل ہونے، ووٹر کی وفات اور دیگر وجوہات کی بنا پر ۲؍ کروڑ۳؍ لاکھ ۲۳؍ ہزار۲۸۷؍ نام فہرست سے خارج کئے گئے۔اگرچہ ووٹر فہرست جاری کر دی گئی ہے، تاہم پنچایت انتخابات کی تاریخ کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا۔ ریاست میں گرام پردھانوں کی مدت کار گزشتہ  ۲۶؍ مئی کو ختم ہو چکی ہے۔ انتخابات میں تاخیر کے پیش نظر ریاستی حکومت نے موجودہ پردھانوں کو آئندہ چھ ماہ کے لئے بطور منتظم (ایڈمنسٹریٹر) ذمہ داریاں سونپ دی ہیں تاکہ پنچایتوں کا انتظامی کام متاثر نہ ہو۔وہیںریاستی حکومت نے پنچایت انتخابات میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے ریزرویشن کے تعین کے لئے ایک خصوصی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چھ ماہ کے اندر اضلاع کی سماجی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔تاہم جلد انتخابات کرانے کے مطالبے سے متعلق ایک عرضی ابھی الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے او بی سی کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ جولائی کے دوران ہی اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ انتخابی عمل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ریاست میں آئندہ سال فروری اور مارچ کے دوران اسمبلی انتخابات متوقع ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسمبلی انتخابات سے قبل پنچایت انتخابات منعقد کرائے گئے تو ان کی تنظیمی تیاریوں اور انتخابی حکمت عملی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔چونکہ پنچایت انتخابات پارٹی ٹکٹوں پر نہیں لڑے جاتے، اس لئےمقامی سطح پر اثر و رسوخ کی کشمکش اور گروہ بندی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کئی مواقع پر ایک ہی سیاسی جماعت کے دو بااثر کارکن ایک دوسرے کے مدمقابل انتخابی میدان میں اتر آتے ہیں، جس سے پارٹی کو نظم و ضبط متاثر ہونے اور بعد میں اسمبلی انتخابات کے دوران تنظیمی اتحاد کمزور پڑنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ریاست میں گرام پنچایتوں کے علاوہ علاقائی پنچایت (بی ڈی سی) اورضلع پنچایت اراکین کے انتخابات بھی ایک ساتھ کرائے جانے ہیں۔ اسی وجہ سے انتخابی شیڈول، ریزرویشن کی حتمی صورتحال اور عدالتی کارروائیوں پر تمام سیاسی جماعتوں اور مقامی نمائندوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK