Updated: March 31, 2026, 12:00 PM IST
|
Agency
| Mumbai
اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوں کو چھولینے والی عظیم اداکارہ مینا کماری ’ ملکہ جذبات‘ کے نام سےمشہور تھیں۔ممبئی میں یکم اگست۱۹۳۲ء کو ایک درمیانے طبقے کے مسلم خاندان میںمیناکماری جب پیدا ہوئیں تو باپ علی بخش انہیں یتیم خانےچھوڑ آئے کیونکہ دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد وہ اس بات کی دعاکررہے تھے کہ اللہ اس مرتبہ بیٹے کا منہ دکھادے تبھی انہیں بیٹی ہونےکی خبرآئی اور وہ بچی کو گھر نہ لے جاکر یتیم خانے چھوڑ آئے لیکن بعد میں ان کی بیوی کے آنسوؤں نے بچی کو یتیم خانے سے گھر لانے کیلئے مجبور کر دیا۔
مینا کماری شدت سے جذبات کا اظہار کرتی تھیں۔ تصویر:آئی این این
اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوں کو چھولینے والی عظیم اداکارہ مینا کماری ’ ملکہ جذبات‘ کے نام سےمشہور تھیں۔ممبئی میں یکم اگست۱۹۳۲ء کو ایک درمیانے طبقے کے مسلم خاندان میںمیناکماری جب پیدا ہوئیں تو باپ علی بخش انہیں یتیم خانےچھوڑ آئے کیونکہ دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد وہ اس بات کی دعاکررہے تھے کہ اللہ اس مرتبہ بیٹے کا منہ دکھادے تبھی انہیں بیٹی ہونےکی خبرآئی اور وہ بچی کو گھر نہ لے جاکر یتیم خانے چھوڑ آئے لیکن بعد میں ان کی بیوی کے آنسوؤں نے بچی کو یتیم خانے سے گھر لانے کیلئے مجبور کر دیا۔مینا کماری کی ماں اقبال بانو نے ان کا نام ’مہ جبیں‘ رکھا۔بچپن کے دنوں میں مینا کماری کی آنکھیں بہت چھوٹی تھیں اس لئے خاندان والے انہیں ’چینی‘کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ تقریبا ً۴؍ سال کی عمر میں۱۹۳۹ء میں بطور چائلڈ آرٹسٹ انہوں نے فلموں میں اداکاری شروع کر دی تھی۔پرکاش پکچرس کے بینر کے تحت بنی فلم ’لیدر فیس‘میں ان کا نام بے بی مینا رکھا گیا۔اس کے بعد ’بچوں کا کھیل‘ میں بطور اداکارہ کام کیا۔ اس فلم میں انہیں’ مینا کماری‘ کا نام دیا گیا۔
۱۹۵۲ء میں میناکماری کو وجے بھٹ کی ہدایت میں بیجو باورا میں کام کرنے کا موقع ملا۔ فلم کی کامیابی کے بعد وہ بطور اداکارہ اپنی شناخت بنانےمیں کامیاب رہیں۔۱۹۵۲ء میں مینا کماری نے فلمسازکمال امروہی سےشادی کر لی۔۱۹۶۲ء ان کے فلمی کریئر کیلئے کامیاب ثابت ہوا۔آرتی، میں چپ رہوں گی اورصاحب بیوی اور غلام جیسی فلمیں منظر عام پر آئیں اور اپنی بہترین اداکاری کے لئے وہ فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد کی گئیں۔ فلم فیئر کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ایک اداکارہ کو فلم فیئر کی ۳؍نامزدگیاں ملی تھیں۔۱۹۶۴ء میں کمال امروہی کے ساتھ ان کی شادی شدہ زندگی میں تلخی آ گئی اور دونوں علاحدہ رہنے لگے۔کمال امروہی کی فلم ’’پاکیزہ‘‘کی تخلیق میں تقریبا ۱۴؍ برس لگ گئے ۔ کمال امروہی سے الگ ہونے کے باوجود مینا کماری نے شوٹنگ جاری رکھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پاکیزہ جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع بار بار نہیں ملتا۔مینا کماری کی جوڑی اشوک کمارکے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ بہترین اداکاری کے لئے انہیں ۴؍بار بہترین اداکارہ کےفلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ان میںبیجو باورا، پرینیتا، صاحب بیوی اور غلام اورکاجل شامل ہیں۔
کہا جاتا ہےکہ مینا کماری اگر اداکارہ نہیں ہوتیں تو شاعر ہ کے طور پر اپنی شناخت بناتیں۔ہندی فلموں کے نغمہ نگار اور شاعر گلزار سے ایک بار مینا کماری نے کہا تھا، ’’یہ جو اداکاری میں کرتی ہوں اس میں ایک کمی ہے۔یہ فن، یہ آرٹ مجھ میں پیدا نہیں ہوا ہے، خیال دوسرے کا، کردار کسی کا اور ہدایت کسی کی ۔ میرے اندر سے جو پیدا ہوا ہے، وہ میں لکھتی ہوں، جو میں کہنا چاہتی ہوں، وہ لکھتی ہوں۔‘‘ مینا کماری نے اپنی وصیت میں اپنی نظمیں چھپوانے کا ذمہ گلزار کو دیا تھا جسے انہوں نے ’’ناز‘‘ تخلص سے چھپوایا۔
تقریباً ۳؍ دہائیوں تک اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوںپرراج کرنے والی ہندی سنیماکی عظیم اداکارہ مینا کماری۳۱؍ مارچ۱۹۷۲ء کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ گئیں۔ مینا کماری کے کریئر کی دیگر قابل ذکر فلموں میں آزاد، ایک ہی راستہ، یہودی، دل اپنا اور پریت پرائی،کوہ نور، دل ایک مندر، چترلیکھا، پھول اور پتھر، بہو بیگم، شاردا، بندش ، بھیگی رات، جواب اور دشمن شامل ہیں۔