Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان حکومت کو سماجی بائیکاٹ جیسے واقعات سے نمٹنے کیلئے ٹھوس پالیسی کا حکم

Updated: April 13, 2026, 11:40 AM IST | Jaipur

ہائی کورٹ کا کھاپ اور ذات پنچایتوں کے فرامین کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سخت تبصرہ، کہا کہ یہ متوازی نظام انصاف چلا رہی ہیں۔

Khap Panchayats often order social boycott of an individual or family. Photo: INN
کھاپ پنچایتیں اکثرمعاملات میں فرد یا خاندان کے سماجی بائیکاٹ کا حکم دے دیتی ہیں ۔ تصویر: آئی این این

راجستھان ہائی کورٹ نے کھاپ اور ذات پنچایتوں کی جانب سےسماجی بائیکاٹ سے متعلق جاری کئے جانے والے فرامین کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سخت تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے فرمان نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ سماجی بائیکاٹ جیسے واقعات سے نمٹنے کیلئے ایک ٹھوس اور واضح پالیسی اختیار کرے۔ ہارئی کورٹ کے جج جسٹس فرزند علی کی سنگل بنچ نے۱۱؍درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ ان درخواستوں میں کئی اضلاع میں سماجی بائیکاٹ اور جبر کے معاملات میں انصاف کی اپیل کی گئی تھی جن میں سروہی، باڑمیر، ناگور، بلوترا، جالور اور جودھپور شامل ہیں۔ 
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ شکایات کے باوجود انتظامیہ اکثر ایسے معاملات میں ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کھاپ اور ذات پنچایتیں بغیر کسی قانونی اختیار کے متوازی انصاف کا نظام چلا رہی ہیں۔ یہ گروپ ’حقہ پانی بند‘ جیسے فرمان جاری کرکے لوگوں اور ان کے خاندانوں کو سماج سے الگ کردیتے ہیں جو شخصی وقار اور آزادی کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اب شولاپورمیں اشوک کھرات کی جائیداد کا پتہ چلا

عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کئی معاملات میں لوگوں کو اپنی پسند کی شادی کرنے یا روایات کے خلاف بات کرنے پر سزا دی گئی۔ کچھ خاندانوں پر بھاری جرمانہ لگایا گیا اور انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ کردیا گیا۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس اوپی) کے ساتھ پالیسی بنائے تاکہ ایسے معاملات سے مؤثر طریقے سے نپٹا جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ان رہنما خطوط کو تمام اضلاع میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور لوگوں کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ 
عدالت نے یہ بھی کہا کہ فی الحال راجستھان میں سماجی بائیکاٹ کو جرم قرار دینے کے لیے ابھی کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کو مہاراشٹر کی طرز پر قانون بنانے پر غور کرنا چاہئے جس سے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہو سکے۔ 
اس کے علاوہ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ سماجی بائیکاٹ کے تمام معاملات کی تحقیقات کیلئے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سطح کے افسر کی تقرری کی جائے اور ہر معاملے کی جانچ۹۰؍ دنوں کے اندر مکمل کی جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK