Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے دوران اسلحہ کا ذخیرہ ختم ہونے پر ڈونالڈ ٹرمپ سخت برہم

Updated: August 07, 2026, 11:46 AM IST | Washington

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر نے میٹنگ کے دوران وزیر دفاع کو ڈانٹ پلائی ، وہائٹ ہائوس نے رپورٹ کی تردید کی۔

US Secretary of Defense Pat Hegseth (file photo)
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ ( فائل فوٹو)

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ کے ریزورٹ میں ایک اجلاس کے دوران شدید غصے کا اظہار کیا۔ انھوں نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ سے امریکی گولہ بارود کے ذخائر میں شدید کمی سے متعلق وضاحت طلب کی اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس مسئلے کو حل کیا جا چکا ہے۔ اطلاع کے مطابق یہ تلخ کلامی گزشتہ ہفتے کابینہ کے اجلاس کے دوران ضمنی نشست میں ہوئی جہاں ٹرمپ نے اپنے وزیر دفاع سے ملٹری اسٹاک کی تیاری کے بارے میں انہیں گمراہ کرنے کی وجوہات  معلوم کیں۔ 

گائیڈڈ لانگ رینج میزائلوں اور ایئر ڈیفنس سسٹم میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے، جس نے ایران کے ساتھ مقابلے میں امریکی فوجیوں  کے  حوصلے پست کر دیئے۔ان تفصیلات کو ’واشنگٹن پوسٹ‘ اخبار نے اجلاس کی کارروائی سے آگاہ امریکی حکام کے حوالے سے نقل کیا ہے جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ایک افسر نے اشارہ دیا کہ یہ کمی ان اہم وجوہات میں سے ایک تھی جس نے ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید بڑے پیمانے پر حملے کرنے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ امریکی صدر نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سب سے بڑے حملے کا حکم دیا تھا لیکن آبنائے ہرمز سے متعلق نئے مذاکرات کے پس منظر میں اسے روک دیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے اگرچہ ’پیٹریاٹ‘ میزائلوں جیسے دفاعی سسٹم اور گولہ بارود کی پیداوار کیلئے نئے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں، لیکن ان ہتھیاروں کی تیاری میں دو سال تک کا وقت لگ سکتا ہے، جسکا مطلب ہے کہ ذخائر کے بحران کا کوئی فوری حل موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ: غیر قانونی سرحدی دخل اندازی رک گئی ہے؛ ملک بدریاں جاری رکھنے کا عزم

اخبار نے آگے لکھا ہے کہ امریکی افواج نے جنگ کے پہلے مہینے کے دوران ۸۵۰؍ سے زائد ’توماہاک‘ میزائل اور ’پیٹریاٹ اورتھاد‘ سسٹم کے ایک ہزار سے زائد میزائل، اسکے علاوہ اے ٹی اے سی ایم ایس ماڈل کے ۱۳۰۰؍ سے زائد ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل داغے، جس کی وجہ سے امریکی ذخائر میں شدید کمی واقع ہوئی۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب یوکرین کو بھی ان ذخائر کی ضرورت ہے۔ حالانکہ  وہائٹ ہاؤس نے اس بات کی تردید کی ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ رپورٹ میں جو کچھ آیا ہے وہ ’مکمل طور پر جھوٹ ہے۔ انھوں نے اس بات کو باور کروایا کہ صدر ٹرمپ وزیر دفاع پر ’مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔وزارت دفاع کے مرکزی ترجمان شان بارنيل نے بھی دعوؤں کی تردید کی اور اس بات کو باور کرایا کہ ہیگسیٹھ نے’گولہ بارود کی صورتحال کے بارے میں کسی کو گمراہ نہیں کیا، اور نہ اپنے نائب کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے ذخائر کی کمی اور اندرونی اختلافات سے متعلق رپورٹوں کو ’من گھڑت‘ قرار دیا۔حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی کمی تو بہر حال ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK