Inquilab Logo Happiest Places to Work

سینئر صحافی ترون تیج پال کو ۱۰؍ سال کی سزا

Updated: August 07, 2026, 11:58 AM IST | Mumbai

فیصلے پر کہا کہ ’’میں بھی عمر خالد اور شرجیل امام کی طرح سیاسی انتقام کا شکار ہوں‘‘۔

Tarun Tejpal. Photo: INN
ترون تیج پال۔ تصویر: آئی این این

۲۰۱۳ءکے جنسی استحصال معاملہ میں ’تہلکہ‘  میگزین کےسابق مدیر اور سینئر صحافی  ترون تیج پال کو ۱۰؍ سال قیدکی سزا سنائی گئی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے ذریعہ  انہیںبری کرنےکے فیصلہ کومنسوخ کر دیا۔ ہائی کورٹ نے تیج پال کو عصمت دری کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے سیشن کورٹ کے فیصلہ کو پلٹنے کا حکم صادر کیا اور۱۰؍ سال کی سزا سنادی ۔اس فیصلہ پر ترون تیج پال نے کہا کہ ’’ہم یقیناً سپریم کورٹ جائیں گے۔ وہ سیاسی انتقام کے  جذبہ سے میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔میں بھی عمر خالد اور شرجیل امام کی طرح سیاسی انتقام کا شکار ہوں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ٹرائل کورٹ میں ساڑھے ۷؍ سال تک کیس لڑا اور بری ہو گئے۔ جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ بری ہو جاتے ہیں، لیکن وہ ایسے لوگوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جنہوں نے ان کے خلاف لکھا۔ میں ایسے لوگوں کیخلاف لکھنا نہیں چھوڑوں گا۔ تیج پال نے اپنے ردعمل میں مزید کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کئی سال سے جیل میں ہیں۔ ’تہلکہ‘ کی رپورٹنگ سے شاید انہیں (مخالفین کو) کچھ سیاسی نقصان ہوا ہو یا ان کے ذاتی مفادات کو چوٹ پہنچی ہو۔ وہ گزشتہ ۱۳؍ سال سے انتقام  کا جذبہ لے کر میرے پیچھے پڑے ہیں۔ مجھے عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے، ایسے جج ضرور ہوں گے جو سچ دیکھیں گے۔ ہم ثبوت سب کے سامنے رکھیں گے۔قابل ذکر ہے کہ جمعرات کی صبح جسٹس نیلا گوکھلے اور جسٹس امت جام سانڈیکر پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے ترون تیج پال کو بری کئے جانے سے متعلق ماپوسا کی سیشن عدالت کے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں ترون تیج پال کو نومبر۲۰۱۳ء میں ان کی ایک جونیئر خاتون ساتھی اور صحافی کی جانب سے درج کرائے گئے عصمت دری کے مقدمہ میں بری کر دیا گیا تھا۔ جب یہ فیصلہ سنایا گیا تو ترون تیج پال عدالت میں موجود تھے۔ بنچ نے انہیں تعزیرات ہند کی مختلف سنگین  دفعات کے تحت عصمت دری اور جنسی ہراسانی کے جرائم کا مجرم ٹھہرایا۔فیصلہ سنائے جانے کے بعد تیج پال کے  وکیل سینئر ایڈوکیٹ آباد پونڈا نے بنچ سے درخواست کی کہ سزا سناتے وقت ان کے مؤکل کے ساتھ نرمی برتی جائےکیونکہ مبینہ جرم کو کم از کم ۱۳؍سال گزر چکے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے سزا سے متعلق فیصلے پر کم از کم ۸؍ ہفتوں کی روک لگانے کی بھی درخواست کی، یہ کہتے ہوئے کہ یہ بری کیے جانے کے فیصلے کو پلٹنے کا معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترون تیج پال کے خلاف اس کے علاوہ کوئی اور مقدمہ یا ایف آئی آر درج نہیں ہے۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت ترون تیج پال عدالت میں موجود تھے، کیونکہ بنچ نے فیصلہ محفوظ کرتے وقت انہیں حکم دیا تھا کہ وہ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت میں حاضر رہیں۔ اس موقع پر ترون تیج پال نے بھی بنچ سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میری عمر ۶۲؍ سال ہے  اور میرا ماننا ہے کہ میں بھی ایک متاثرہ شخص ہوں۔ میری ایک بیوی ہے اور اس سے زیادہ کہنے کو کچھ نہیں۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپیل کر سکتے ہیں۔ براہ کرم میرے ساتھ نرمی برتیں۔ باقی تمام حقائق عدالتی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK